افغانستان سے موصول ہونے والی تشویشناک خبریں



گزشتہ ماہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے سمجھوتے کے باوجود افغانستان سے امید افزا خبریں موصول نہیں ہورہی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات تو یہی لگتی ہے کہ آئین کو ماننے والے دو بڑے گروپ ہی آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ یہ دو بڑے گروپ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور افغان یونیورسٹی گورنمنٹ کے سی ای او ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ہیں۔ یہ دونوں گروپ طالبان کی تشدد پسند ذہنیت اور ان کے طریقہ کار کے سخت خلاف رہے ہیں۔ لیکن خود آپس میں بھی ان میں شدید اختلاف ہیں۔ حالیہ الیکشن سے پہلے جو 2014 میں الیکشن ہوئے تھے، ان کے بعد بھی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں دونوں لیڈر متفق نہیں تھے اور اقتدار کی خاطر دونوں میں شدید رسہ کشی ہوئی تھی۔ بالآخر امریکہ نے بیچ بچاؤ کرکے دونوں گروپوں کو اس بات کے لئے راضی کرلیا تھا کہ حکومت میں دونوں لیڈر ساجھیدار ہوں گے اور ڈاکٹر اشرف غنی صدر اور ڈاکٹر عبداللہ یونیٹی گورنمنٹ کے سی ای او کے طور پر کام کریں گے۔ سو اسی طور پر اس حکومت نے اپنا ٹرم پورا کیا۔ اب جو گزشتہ سال ستمبر میں انتخابات ہوئے تو اس موقع پر طالبان نے کافی رکاوٹیں پیدا کیں اور تشدد کا بازار گرم کیا۔ ساتھ ہی آئی ایس کا افغان گروپ بھی کافی سرگرم رہا اور نہ صرف انتخابی عمل میں پرتشدد کارروائیوں کے ذریعہ رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی بلکہ امیدواروں پر بھی جان لیوا حملے ہوئے۔ انتخابات میں ووٹروں کی بہت معمولی تعداد ہی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرپائی تھی۔ اس پر ستم یہ بھی ہوا کہ نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ گزشتہ ماہ انڈی پینڈینٹ الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر اشرف غنی کو باقاعدہ منتخب امیدوار قرار دیا لیکن ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔ نوبت تاایں جا رسید کہ گزشتہ دنوں جب ڈاکٹر اشرف غنی کی تقریب حلف برداری کے لئے دعوت نامے جاری ہوئے تو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ گروپ کی طرف سے بھی متوازی حلف برداری کی تقریب کا اعلان ہوگیا۔ ان کے ترجمان فریدوں خوازون نے گزشتہ سنیچر کو یہ اطلاع دی کہ تمام قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کو اس تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا ہے اور ساری تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ دونوں تقریبات کا وقت بھی ایک ہی دیا گیا تھا۔ اب اسے بدقسمتی کے سوا اور کیا کہا جائے گا کہ افغانستان میں قیام امن کا ایک موقع نظر آرہا تھا تو تشدد پریقین نہ رکھنے والے دو اہم گروپ اس طرح آپس میں لڑ پڑیں اور مایوسی کا ماحول بن جائے۔ حالانکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے حوالے سے بھی طرح طرح کے شبہات اور کنفیوژن پہلے ہی سے موجود تھے کیونکہ عام تاثر اس سمجھوتے کے بارے میں یہی ہے کہ طالبان نے تو اپنی تقریباً تمام شرطیں منوالی ہیں لیکن اس بات کی گارنٹی کہیں نظر نہیں آتی کہ طالبان تشدد کا راستہ پورے طور پر ترک کردیں گے یا آئین، انتخابات اور جمہوری قدروں کے تئیں ان میں احترام یا پاسداری کا جذبہ پیدا ہوگا۔ امریکہ کی یہ طویل جنگ تو کسی نہ کسی مرحلے میں اور کسی نہ کسی طور پر ختم ہونی ہی تھی۔ موجودہ حالات میں بھی کچھ یہی نظر آرہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس چلی جائیں گی اور یہ حقیقت بھی اٹل اور مسلمہ ہے کہ افغانستان میں افغان باشندوں کو ہی مستقلاً رہنا ہے خواہ وہ کسی گروپ سے تعلق رکھتے ہوں اور کسی بھی سیاسی حلقے سے ان کی وابستگی ہو۔ لہذا ان سب کو مل کر کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا ہے کہ بقائے باہم کے لئے راہ ہموار ہو تاکہ دوسرے آزاد اور خود مختار ملکوں کی طرح افغانستان بھی اپنی تعمیر و ترقی کی راہ پرگامزن ہوسکے۔

سننے میں آیا ہے کہ بعض بیسز سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس بات کی اطلاع خود ایک ذمہ دار امریکی افسر نے دی ہے۔ یہ اطلاع مذکورہ افسر نے گزشتہ منگل کو دی۔ یاد رہے کہ اسی دن سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت شروع ہونے والی تھی۔ جن علاقوں سے امریکی فوجوں کی واپسی ہورہی ہے، ان میں سے ایک مقام تو لشکر گاہ ہے جو صوبہ ہلمند کی راجدھانی ہے اور جو افغانستان کے جنوبی خطے میں واقع ہے جبکہ دوسرا بیس ہرات میں ہے جو مغرب میں واقع ہے۔ افغانستان میں جو موجودہ صورت حال ہے، اس میں اس ملک کے تمام حلقوں کو مل جل کر کوئی ایسا قدم اٹھانا چاہیے جس سے امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوسکیں۔ ہندوستان نے ایک دوست ملک کی حیثیت سے ہمیشہ اسی موقف کی حمایت کی ہے کہ افغانستان میں جو بھی فیصلہ ہو، وہ خود افغانستان کے لوگوں کا ہو، ان کے لئے ہو اور انہی کی تعمیر و ترقی سے متعلق ہو۔ ان کے معاملات میں کسی تیسرے ملک کو مداخلت کرنے کی اجازت نہ ہو۔ ایسے ماحول میں ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو پوری سوجھ بوجھ اور تدبر سے کام لینا چاہیے اور اپنے آپسی اختلافات کو مل جل کر دور کرنا چاہیے۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ