کورونا وائرس سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس
اس وقت پوری دنیا ایک عجیب صورت حال سے گزر رہی ہے۔ کورونا وائرس نے دنیا کے بہت سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ وائرس چین کے ایک خطے ووہان میں شروع ہوا لیکن اس کے بعد جنوبی کوریا، ایران، اٹلی اور یوروپ کے متعدد ممالک سمیت امریکہ، ایشیا اور دوسرے براعظموں کے کئی ممالک بھی اس کی زد میں آگئے۔ یہ تاریخ کا ایک نازک موڑ ہے اور ہر شخص یہی چاہے گا کہ دنیا جلد از جلد اس موذی وائرس سے نجات پاجائے۔ سب کی یہی دعا ہے کہ کورونا وائرس گزشتہ صدی کے اسپینش فلو جیسی تباہی نہ مچائے۔ یا د رہے کہ 100 سال قبل 19-1918میں اسپینش فلو نے عالمی پیمانے پر کروڑوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جن میں سے 5کروڑ افراد لقمۂ اجل بھی بنے تھے۔ خود ہندوستان میں بھی یہ وبا بڑے پیمانے پر پھیلی تھی اور کئی لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انسانی جانوں کا اتنا بڑا زیاں پہلی جنگ عظیم میں بھی نہیں ہوا تھا۔ اسپینش فلو کا اس وقت تک کوئی علاج یا دوا بھی نہیں ایجاد کی جاسکی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب یہ وبا خود بخود رک گئی تو دنیا نے امن کا سانس لیا ہوگا۔ اس وقت کورونا وائرس کے تعلق سے بھی کچھ یہی صورت حال ہے۔ امید یہی کی جاتی ہے کہ احتیاطی تدابیر کرنے سے بڑی حد تک اس وبا کی تباہ کاری سے بچا جاسکتا ہے۔ بہر حال بیشتر ماہرین کی پیشنگوئی ہے کہ گزشتہ صدی کے اسپینش فلو جیسی تباہی کی امید نہیں ہے۔
اب صورت حال جو بھی ہو اور حالات جو بھی رخ اختیار کریں لیکن پوری دنیا کو اس مرض سے لڑنا ہے اور قابو پانے کی کوشش کرنا ہے۔ چونکہ یہ وباعالمی پیمانے پر پھیل گئی ہے لہٰذا اپنے اپنے طور پر ہر ملک اور ہر خطے کے لوگ احتیاطی قدم اٹھا رہے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جس میں گلوبل ولیج کا تصور بھی قائم ہوچکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان ہر روز آمد ورفت کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔ کاروبار بھی ہوتے ہیں اور دوسرے کاموں سے بھی لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے۔ اب جو اچانک یہ صورت حال پید اہوئی تو آنے جانے کا سلسلہ بھی بند ہونے لگا اور کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا۔ یعنی انسانی جانوں کے زیاں اور خرابیٔ صحت کے ساتھ ساتھ مالی سطح پر بھی بیشتر ملکوں کو برے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور کرنا بھی پڑ رہا ہے۔ ہوائی راستوں کے ساتھ نقل وحمل کے دوسرے ذرائع پر بھی پابندیاں لگ رہی ہیں۔ یہ تمام اقدامات ناگزیر ہیں۔ حالات پر قابو پانے کی کوششیں علاقائی اور قومی پیمانے پر بھی ہو رہی ہیں اور عالمی پیمانے پر بھی۔ ایسے حالات جب کہ نفسا نفسی کا عالم ہو تو ہر ایک کو اپنی فکر پہلے ہوتی ہے باقی باتیں بعد میں ہوتی ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس وبا سے لڑنے اور اس پر قابو پانے کی کوششوں میں بہت سے ملکوں کی معیشت پر انتہائی ناخوشگوار اثر مرتب ہوگا۔ ان حالات میں اس طرح کی باتیں ناگزیر ہوتی ہیں۔ ہر علاقے کے لوگ یکساں قسم کی صورت حال کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر اجتماعی کوششوں کو بروئے کار لایا جائے اور آپس میں اشتراک وتعاون کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف یہ کہ ایسی کوششیں بہتر نتائج کی حامل ثابت ہوتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کے جذبہ کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے اور اجتماعی کوششیں بہر حال انفرادی کوششوں کو نئی توانائی عطا کرتی ہیں۔ چنانچہ چند روز قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے سارک کے تمام ممبر ممالک کو ایک پیشکش کی کہ کیوں نہ اس تنظیم کے ممبران آپس میں تبادلۂ خیال کریں اور اپنے اپنے حالات اور پروگرام سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں اور اس طرح آپس میں تال میل قائم کرکے اجتماعی طور پر بھی کچھ ایسے قدم اٹھائیں جن سے اچھے نتیجے حاصل کئے جاسکیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ بیشتر ملکوں کے لیڈروں نے وزیر اعظم کی اس تجویز کو پسند کیا اور یہ طے پایا کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اس کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔سو اتوار 15مارچ کو ویڈیو کانفرنس کا اہتمام ہوا جس میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان، مالدیپ ، نیپال اور سری لنکاکی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی،جبکہ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خصوصی مشیر برائے حفظانِ صحت نے شرکت کی۔ بیشتر ممبران نے اپنے اپنے یہاں کے کورونا وائرس کے معاملات کی تفصیل پیش کی اور ساتھ ہی اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ اس وبا سے نمٹنے کے لئے کیا اقدام کئے جارہے ہیں اور علاج کے لئے کیا طریقے اختیار کئے جارہے ہیں۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ممبر ممالک مل کر اجتماعی طور پر اس بیماری سے لڑنے کے مشترکہ اقدام کریں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک خصوصی سارک فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی رکھی اور ہندوستان کی طرف سے دس ملین امریکی ڈالر کی ابتدائی رقم مہیا کرانے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر اعظم مودی کے علاوہ بنگلہ دیش ،نیپال اور بھوٹان کے وزرائے اعظم ، سری لنکا، افغانستان اور مالدیپ کے صدور اور پاکستان کی طرف سے وزیراعظم کے خصوصی مشیر صحت نے بھی اس ویڈیو کانفرنس میں اپنےاپنے خیالات کااظہار کیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ عالمی پیمانے پر وبائی شکل اختیار کرنے والی اس بیماری سے مل جل کر لڑنے کے لئےعلاقائی پیمانے پر سارک (SAARC) کی یہ پیش رفت بروقت اور لائق ستائش ہے۔ علاقے کے بعض ممالک کی سرحدیں ایران سے بھی ملتی ہیں جہاں کورونا وائرس نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ سارک ممالک کی اس بیماری سے لڑنے کی مشترکہ کوشش یقینی طور پر بار آور ثابت ہوگی اس بات کی پوری امید ہے۔
Comments
Post a Comment