سلامتی کونسل میں افغان امن معاہدے کی توثیق
توقع کے مطابق سلامتی کونسل نے بھی امریکہ اور طالبان کے درمیان ہوئے امن معاہدے کی توثیق کی ہے۔اس سلسلے کی ایک قراردادامریکہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی جس کی تمام ممبران نے توثیق کی۔اس قرار داد میں جنگ سے تباہ حال افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیاہے۔قرار داد میں جامع امن مذاکرات کی بھی حمایت کی گئی ہے،اور اس عمل میں سیاسی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے افراد و خواتین کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔کونسل کے ممبران نے خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور دے کر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عالمی ادارہ امن مذاکرات یا امن معاہدے کے نام پر طالبان کو حقوق نسواں کے معاملے میں بے لگام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور افغان خواتین کو خواتین کے تعلق سے پائی جانے والی طالبان کی دقیانوسی سوچ پر فکرمند بھی ہے۔حالانکہ جہاں تک امن معاہدے یا مستقبل میں بھی امن مذاکرات جاری رکھنے کا تعلق ہے تو وہ اس پر اصولی اور عملی طور پر تیار ہے۔افغان امن مذاکرات میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اقوام متحدہ کے مذکورہ فیصلے پر ٹویٹ کرکے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں قیام امن کے لیے ہمارے اقدامات سے مطمئن ہے۔منظور کی گئی مذکورہ قرار داد میں افغانستان اور طالبان دونوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اعتماد بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھیں اور اس سلسلے میں بین الاقوامی مذاکرات کا بھی جلد آغاز کریں۔
مذکورہ معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اقوام متحدہ سے امریکی قرار داد کی توثیق کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امریکی کمانڈر جنرل فرینک میکنزی نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کرینگے۔حالانکہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امن معاہدے کے بعد افغان صدر نے طالبان کے پندرہ سو قیدیوں کو مشروط طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے،لیکن اس کے باوجود طالبان کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی خبریں بھی آرہی ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کا دعویٰ کرنے والے پاکستان کے قول و عمل پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔دنیا جانتی ہے کہ طالبان کو روز اول سے ہی پاکستان کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔اسی بنا پر پاکستان اور افغان حکومت کے رشتے بھی تعطل اور کشیدگی کا شکار ہیں۔انسداد دہشت گردی کے معاملے میں عالمی برادری کے سامنے بار بار بڑے دعوے کرنے والے پاکستان کی ہمدردیاں، طالبان سمیت دیگر دہشت گرد عناصر کے ساتھ ہیں اس پر شاید ہی کسی کو شبہ ہو۔اس کے باوجود امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کرانے میں پاکستان کاکلیدی رول ہونا اس پورے معاملے کا ایسا پہلو ہے کہ جو افغانستان میں امن کے قیام کی امیدوں پر شک پیدا کرتا ہے۔امریکی جنرل کے مذکورہ بیان میں یہ شک بھلے ہی کھل کر سامنے نہ آیا ہو لیکن پاکستان کو بھی اس شک کے دائرے سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو معاہدے توڑنے کا ان کا ریکارڈ بھی کافی خراب رہا ہے۔معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس خطے میں بھارت کی اپنی اہمیت ہے اور امریکہ سے بھارت کے خوشگوار رشتوں کے ساتھ ساتھ افغانستان سے بھی بھارت کے رشتے بہتر رہے ہیں،لیکن جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو اس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور افغانستان میں ترقی کے عمل کو نقصان پہنچانے کی اس کی کوششوں کی بھارت ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے۔اب جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیا ن امن معاہدے کے نفاذ کی بات ہو رہی ہے تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا طالبان بھارت کے تعلق سے بھی اپنا موقف تبدیل کریں گے یا پھربھارت کے خلاف ان کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں امن کا قیام اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بیحد ضروری ہے،مگر اس کے ساتھ ہی طالبان کو نظر انداز کرکے امن کا تصور بھی بے معنی ہے،لیکن اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو اس بات کو بھی اپنے طور پر یقینی بنایا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ میں متعین امریکی فوجی جنرل فرینک میکنزی نے طالبان کے تعلق سے جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اس پر بھی عالمی برادری سنجیدگی سے غور کرے۔امن معاہدے کا خیر مقدم اور اس کی توثیق بے شک ایک درست قدم ہے لیکن اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ طالبان کی سرگرمیوں اور وعدے پر عمل کی اس کی کوششوں پر محتاط طریقے سے نگاہ رکھی جائے۔یہ بات سلامتی کونسل کو ذہن میں رکھنی ہوگی کہ طالبان کی وعدہ خلافی اس خطّے میں نئے مسائل پیدا کریگی اور اس کا منفی اثر صرف افغانستان پر ہی نہیں بھارت جیسے دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے جو انسداد دہشت گردی جنگ میں امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ ہے۔
مذکورہ معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اقوام متحدہ سے امریکی قرار داد کی توثیق کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امریکی کمانڈر جنرل فرینک میکنزی نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کرینگے۔حالانکہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امن معاہدے کے بعد افغان صدر نے طالبان کے پندرہ سو قیدیوں کو مشروط طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے،لیکن اس کے باوجود طالبان کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی خبریں بھی آرہی ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کا دعویٰ کرنے والے پاکستان کے قول و عمل پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔دنیا جانتی ہے کہ طالبان کو روز اول سے ہی پاکستان کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔اسی بنا پر پاکستان اور افغان حکومت کے رشتے بھی تعطل اور کشیدگی کا شکار ہیں۔انسداد دہشت گردی کے معاملے میں عالمی برادری کے سامنے بار بار بڑے دعوے کرنے والے پاکستان کی ہمدردیاں، طالبان سمیت دیگر دہشت گرد عناصر کے ساتھ ہیں اس پر شاید ہی کسی کو شبہ ہو۔اس کے باوجود امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کرانے میں پاکستان کاکلیدی رول ہونا اس پورے معاملے کا ایسا پہلو ہے کہ جو افغانستان میں امن کے قیام کی امیدوں پر شک پیدا کرتا ہے۔امریکی جنرل کے مذکورہ بیان میں یہ شک بھلے ہی کھل کر سامنے نہ آیا ہو لیکن پاکستان کو بھی اس شک کے دائرے سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو معاہدے توڑنے کا ان کا ریکارڈ بھی کافی خراب رہا ہے۔معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس خطے میں بھارت کی اپنی اہمیت ہے اور امریکہ سے بھارت کے خوشگوار رشتوں کے ساتھ ساتھ افغانستان سے بھی بھارت کے رشتے بہتر رہے ہیں،لیکن جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو اس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور افغانستان میں ترقی کے عمل کو نقصان پہنچانے کی اس کی کوششوں کی بھارت ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے۔اب جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیا ن امن معاہدے کے نفاذ کی بات ہو رہی ہے تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا طالبان بھارت کے تعلق سے بھی اپنا موقف تبدیل کریں گے یا پھربھارت کے خلاف ان کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں امن کا قیام اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بیحد ضروری ہے،مگر اس کے ساتھ ہی طالبان کو نظر انداز کرکے امن کا تصور بھی بے معنی ہے،لیکن اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو اس بات کو بھی اپنے طور پر یقینی بنایا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ میں متعین امریکی فوجی جنرل فرینک میکنزی نے طالبان کے تعلق سے جن شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اس پر بھی عالمی برادری سنجیدگی سے غور کرے۔امن معاہدے کا خیر مقدم اور اس کی توثیق بے شک ایک درست قدم ہے لیکن اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ طالبان کی سرگرمیوں اور وعدے پر عمل کی اس کی کوششوں پر محتاط طریقے سے نگاہ رکھی جائے۔یہ بات سلامتی کونسل کو ذہن میں رکھنی ہوگی کہ طالبان کی وعدہ خلافی اس خطّے میں نئے مسائل پیدا کریگی اور اس کا منفی اثر صرف افغانستان پر ہی نہیں بھارت جیسے دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے جو انسداد دہشت گردی جنگ میں امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ ہے۔
Comments
Post a Comment