پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ پر حکومت کا عتاب


ان دنوں ساری دنیا سخت بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ مادی ترقی اور عیش و آرام کے لئے قابل رشک سمجھے جانے والے ممالک ایک مہلک وبا کے سائے میں بے بسی کے شب و روز گزارنے پر مجبور نظر آ رہے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کی تباہ کاریاں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی جانب سفر کر رہی ہیں۔ افراتفری اور کسمپرسی کے اس عالم میں سخت احتیاطی تدابیر کا ہی واحد راستہ بچا ہے۔ اس مرض سے متعلق تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دراصل اس وبا کے پیچھے انسان کی اپنی خود غرضی کا بھی بڑا ہاتھ ہے جس نے حرص و ہوس کے دام میں پھنس کر ماحولیاتی توازن کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے قدرتی وسائل پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے ان بنیادی شرائط کی بھی پروا نہیں کی جو انسانی وجود کی معاون بھی ہیں اور ضامن بھی۔ ترقی پذیر ممالک کی بات کریں تو ان کی نا عاقبت اندیشی کی مثالیں بھی کم نہیں۔ جہاں توجہ انسان کی بنیادی ضروریات پر ہونی چاہئے وہاں بھی غیر ضروری اور مضحکہ خیز اقدام اور بیانات کی گرم بازاری سے کسی کا بھلا نہیں ہونے والا۔ گزشتہ دنوں پاکستان میں مشیر اطلاعات کے پی اجمل وزیر نے فرمایا کہ کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کو شہید کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ اس سے زیادہ ضروری تو یہ تھا کہ اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز کو ونٹیلیٹر اور دوسرے ضروری ساز و سامان مہیا کرانے پر سرکار کو آمادہ کیا جاتا۔ ان مراکز کو اس لائق بنایا جاتا کہ مریضوں کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو اور وہ صحتیاب ہوکر ملک و قوم کی خدمت کے لئے از سر نو کمر بستہ ہو سکیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے حکمراں طبقے میں اس سمجھداری کا زبردست فقدان ہے۔

پاکستانی میڈیا اکثر اس قسم کی بیان بازیوں کو ہدف ملامت بناتا رہا ہے جس کے سبب میڈیا ہاؤس کے مالکان اور صحافیوں کو مشکلات سے بھی دو چار ہونا پڑتا ہے۔ صحافیوں اور آزاد خیال دانشوروں کو حکومت کی تنقید سے باز رکھنے کے لئے دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔ جبری گمشدگی اور قتل کے معاملات بھی سامنے آ چکے ہیں جن میں فوج اور ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجودہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس جنگ جیو گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن کو ۳۴ سال پرانے زمین کے ایک معاملے میں گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن تمام الزامات بے بنیاد پائے گئے۔پھر بھی حکمراں طبقہ کو اس سے تسلی نہیں ہوئی اور تازہ اطلاعات کے مطابق انھیں جھوٹے معاملوں میں پھانسنے کی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔ سرکاری محکموں کو میر شکیل کے تعلق سے کسی بھی مشکوک معلومات کو نیب کے لاہور دفتر کو مہیا کرنے کے سلسلے میں ہدایات دے دی گئی ہیں۔ تفتیش کرنے والے افسران بیرونی ممالک سے موصول ہونے والے فنڈ کی تفصیلات بھی کھنگال رہے ہیں تاکہ کسی بھی طرح جنگ جیو گروپ کی ملک سے وفاداری پر سوالیہ نشان لگایا جا سکے۔ حکومت کے اس معاندانہ رویے کا جواز ہے تو صرف یہ کہ جنگ جیو گروپ اسٹیبلشمنٹ کو اس کی غلط پالیسیوں اور زیادتیوں کی وجہ سے کھل کر تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ اسی طرح نیشنل بینک آف پاکستان سے قرض کا ایک معاملہ بھی جنگ جیو گروپ کو گھیرنے کے لئے سامنے لایا جا رہا ہے جو ۲۰۱۲ میں ہی بیباق کر دیا گیا تھا۔ پوری سرکاری مشینری کو اس بات پر مامور کر دیا گیا ہے کہ اس میڈیا گروپ کی ساکھ کو مجروح کیا جا سکے جو اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ رہا سوال وائس آف امریکہ کواپنے چینل پر ایک گھنٹے کا وقت دینے کا تو اس سے حاصل شدہ رقم جیو کے ایک فیصد منافع سے بھی کم ہے۔ بالفرض محال اگر یہ اتنا ہی بڑا جرم تھا تو دیگر چینلوں سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہئے تھا جنھوں نے وائس آف امریکہ کے ساتھ اس نوعیت کا اشتراک کیا تھا۔

پاکستان کے عوام کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ماضی میں بھی ایک حکومت نواز چینل نے جنگ پر ملک و قوم سے غداری کا الزام عائد کیا تھا جسے عدالت میں ثابت کرنے میں وہ ناکام رہا۔ اتنا ہی نہیں جنگ پر ماضی میں توہین مذہب یعنی لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے بے تکے الزامات بھی لگائے گئے جنھیں عدالت نے ماننے سے انکار کر دیا۔ بہرحال پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ پریس کی آزادی کے معاملے میں اس کا درجہ اس طرح کے اقدامات سے مزید گرتا جائے گا اور دنیا کی نظروں میں اپنی امیج درست کرنے کا ایک اور موقع اس کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ