پشتو ن نسلی اقلیت کی، بابڑہ قتل عام کی دل دہلا دینے والی یادیں
اس وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پشتون تحفظ موومنٹ، یعنی پی ٹی ام کو دبانے اور کچلنے میں مصروف ہے، لیکن یہ کہانی پشتون اقلیت کی ایک الگ کہانی ہے اور اس کی تاریخ بالکل نئی ہے۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں جب پاکستانی فوج نے جب آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو مقامی قبائلی آبادی کا بہت بڑا حصہ اپناگھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا۔ اس سے بھی پہلے ان قبائلی علاقوں میں افغانستان سے بہت سے پشتون نسل کے لوگ وہاں کے حالات سے مجبور ہو کر یہاں آ گئے تھے۔ کیونکہ یہاں پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں ملتی ہیں، پھر جب طالبان کے خلاف امریکہ نے جنگ شروع کی تو دہشت گردوں کے ایک بہت بڑے حلقے نے یہاں آ کر پناہ لی تھی اور یہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ پھر پاکستان کے اپنے طالبان بھی پیدا ہوئے جو تحریک طالبان کے نام سے جانے گئے۔ جب انھوں نے خود پاکستانی مفادات اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسیز پر بھی حملے شروع کئے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پاکستانی فوج نے اسی کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا ۔ آپریشن ضرب عضب کے تحت کتنے دہشت گرد مارے گئے یا اس علاقے سے دہشت گردی کا کس حد تک صفایا ہوا یہ تو پاکستانی فوج ہی جانے لیکن یہاں کے مقامی باشندوں پر سب سے بڑی افتاد پڑی۔ وہ کبھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے اور کبھی خودپاکستانی فوج اور ایجنسیوں کا۔
جہاں تک پشتون اقلیت کا سوال ہے تو پاکستان میں اس گروپ نے کیا کچھ نہیں جھیلا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس کے مصائب کی ایک نئی داستان شروع ہوتی ہے۔ اسی ماہ یعنی اگست کی بارہ تاریخ کو پشتون نسل کے لوگوں نے بابڑہ قتل عام کو یاد کیا کہ 1948 میں اسی دن بابڑہ کے مقام پر 630 پشتون باشندوں کا قتل کر دیا گیا تھا۔ 12 اگست 1948 کی صبح تھی جب نوزائیدہ مملکت پاکستان نے یہ راز آشکار کیا کہ اگر کسی حلقے نے اپنی نسلی شناخت کی بنیاد پر اس نئی مملکت کے قانون یا حکم سے ٹکرانے کی کوشش کی تو اسےہیبت ناک خونی پنجوں کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے کچل دیا جائے گا۔ 12 اگست کو اس واقعے کی بہترویں برسی تھی۔ اور اسی دن یہ پتہ چلا کہ برطانوی سامراج کے بعد پاکستان کے نام سے جو یہ نیا ملک بنا ہے اس کا خمیر بھی اسی ذہنیت اور حکمت عملی سے اٹھا ہے اور جب نسلی اقلیت کا سوال اٹھایا جائے گا تو اس کی کہانی بھی اتنی ہی خونیں ہوگی۔ محمد علی جناح کو شاید یہ بات تو گوارہ تھی کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنی شناخت پاکستان میں قائم رکھ سکتے ہیں لیکن وہ تہذیبی اور لسانی شناخت کو اس ملک کے لئے ایک شجر ممنوعہ جیسی شئے سمجھتے تھے، جسے قائم کرنے کا خواب انھوں نے دیکھا تھا ۔ پشتون عوام کی سیاسی آگہی اسی المیے سے وابستہ ہے۔ دراصل یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس کے گرد پشتون، مملکت پاکستان میں اپنے رول کی تلاش کر رہے ہیں۔
نئی مملکت پاکستان نے 12 اگست 1948 کو دن دہاڑے بابڑہ کے مقام پر 630 افراد کو گولیوں سے بھون دیا تھا جن میں ننھے بچے بھی شامل تھے۔ وہ دن پشتون نسل کے لوگوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ پاکستان سے کیا توقع کر سکتے ہیں اور اس کی کیا قیمت ادا کرنی ہوگی۔ جو لوگ مارے گئے تھے وہ نہ تو انگریزوں کے ہاتھوں مارے گئے اور نہ ہی غیر مسلموں کے ذریعہ، بلکہ وہ ان لوگوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے جنھوں نے مسلمانون اور ان کی حفاظت کے لئے ایک ملک قائم کیا تھا۔ اس سانحے کے تعلق سے اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھی جانے والی ہے، وہ یہ کہ جن کو قتل کیا گیا ان کا خون بہا بھی خود قاتلوں مہلوکین کے ورثا سے وصول کیا۔ جی ہاں! پشتونوں کی نمائندہ تنظیم ’’ خدائی خدمتگار تحریک‘‘ پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ ہر ذخمی شخص کو پچاس روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ ہر مقتول کے ورثا سے سو روپے کی رقم وصول کی گئی۔ اس کی وجہ سے ایک قبر میں پانچ مردوں کو لوگوں نے دفن کیا تاکہ صرف ایک ہی کا جرمانہ ادا کرنا پڑے۔ جبکہ زخمی ہونے والوں کو لوگ اسپتال نہیں لے گئے تاکہ جرمانے سے بچ سکیں۔ خدائی خدمتگار تحریک کے تمام لیڈروں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے عوض جیل جانا پڑا۔ ان میں سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان بھی شامل تھے جنھیں پشتون ’باچا خان‘ کے نام سے جانتے تھے۔ ذرا غور کیجئے سرحدی گاندھی کہے جانے والے خان عبد الغفار خان جیسے مجاہد آزادی کے ساتھ کیا سلوک ہوا پاکستان میں؟ مانا کہ وہ نظریہ پاکستان کے خلاف تھے لیکن کیا وہ اس سلوک کے حقدار تھے۔
خدائی خدمتگار کے لیڈران ایک مقامی مسجد میں منعقد ہونے والے ایک جرگے میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ اسی وقت بابڑہ کے ایک مقام پر پولیس سے سامنا ہوا ۔ان لیڈروں کی حفاظت کے لئے غیر مسلح رضاکار بھی ان کے ساتھ تھے جن کی قیادت عبدالرؤف سرحدی کر رہے تھے۔ انھوں نے اسسٹنٹ کمشنر سے گزارش کی کہ جلوس کو جانے دیا جائے کیونکہ وہ ایک پرامن جلوس تھا جو ایک برطانوی دور کے قانون کے خلاف تھا لیکن بات نہیں بنی اور بابڑہ کا سانحہ پیش آیا۔
اگر پاکستان یہ چاہتا ہے کہ وہاں جمہوریت پروان چڑھے اور ملک کے تئیں پشتون نسل کے لوگوں میں اپنائیت پیدا ہو تو اس کی شروعات بابڑہ قتل عام کے لئے معافی منگنے کے بعد ہی ممکن ہے اور یقیناً یہ کوئی غلط مطالبہ نہیں۔
Comments
Post a Comment