ممبئی حملوں سے متعلق چھان بین کے لئے پاکستان کے جوڈیشیل کمیشن کے ہندوستان آنے کی توقع


چھبیس نومبر 2008 کو لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے ممبئی میں جو تباہی مچائی تھی ، اس میں ملوث جو ملزم خود پاکستان میں گرفتار کئے گئے تھے اور جن کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا ، ان کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا ہے۔ پہلے تو پاکستان نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا تھا کہ ان حملوں میں پاکستانی شہری یا وہاں کی کوئی دہشت گرد تنظیم ملوث تھی۔ لیکن اس کی تردید کرنا پاکستان کے بس کی بات نہیں تھی کیونکہ شواہد کو جھٹلانا قطعی نا ممکن تھا۔ خود پاکستانی میڈیا نے بھی اجمل قصاب کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔ ممبئی آکر جن دہشت گردوں نے تباہی پھیلائی تھی ان میں اجمل قصاب زندہ گرفتار کیا گیا تھا۔ باقی سب کے سب ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان نے ان حملوں کی سازش اور منصوبہ سازی میں ملوث سات ملزموں کو 2009 میں گرفتار کیا تھا۔ یہ سب کے سب براہ راست ملوث تھے اور ان میں لشکر طیبہ کا کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی بھی شامل تھا۔ تب سے اب تک اس مقدمے کی کارروائی آگے بڑھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ کئی جج ٹرانسفر کئے گئے کیونکہ ججوں اور گواہوں کو دھمکیاں دی جاتی تھیں اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ خود حکومت پاکستان سنجیدہ نہیں تھی ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 11سال بعد بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں میں166 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کچھ امریکی شہری بھی شامل تھے۔ شروع سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ مقدمہ کی کارروائی کے نام پر پاکستان صرف ایک رسم ادا کر رہا تھا۔ ذکی الرحمن لکھوی کو جب ضمانت پر رہا کیا گیا تو خود پاکستان کے بعض سنجیدہ اخباروں نے اپنے اداریوں میں یہ کہا تھا کہ حکومت کی لاپرواہی اور سست روی کی وجہ سے اسے ضمانت ملی تھی۔ ان میں پاکستان کا کثیرالاشاعت اخبار ڈان بھی شامل تھا۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کتنا سنجیدہ تھا اس مقدمہ کے سلسلے میں ! ججوں کے علاوہ وکیلوں کو بھی دھمکیاں دی جاتی تھیں اس لئے وکیل بھی آئے دن بدلتے رہتے تھے۔

بہر حال ہندوستان لگاتار پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا کہ وہ مقدمہ کی کارروائی کو جلد از جلد نمٹانےکی سمت قدم بڑھائے لیکن پاکستان کی طرف سے لگاتار تال مٹول کی پالیسی اختیار کی جاتی رہی۔ ہندوستان نے سفارتی رابطوں سے بھی کوشش کی کہ پاکستان ممبئی حملوں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ اس سال کے اوائل میں وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تو مشترکہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف قائم کئے گئے مقدمے کی کارروائی میں تیزی لائی جائے۔ 2013 میں پاکستان کی ایک عدالتی ٹیم ممبئی ضرور آئی تھی تاکہ گواہوں سے پوچھ تاچھ کر سکے۔ لیکن وکلائےصفائی نے وہاں کی متعلقہ عدالت سے اس ٹیم کی جانب سے کی گئی چھان بین کو اس بنیاد پر رد کرانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی کہ گواہوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ ان سے کراس اگزامنیشن کیا جا سکے۔ 

بہر حال تاخیر اور لمبی ٹال مٹول کے بعد اب لگتا ہے کہ کچھ پیش رفت ہونے والی ہے۔ پاکستان نے یہ اطلاع دی ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت ، جو اس مقدمے کی سماعت کر رہی ہے ، اس نے 27 گواہوں سے پوچھ تاچھ کرنے کے لئے ایک عدالتی ٹیم بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا تھا کہ جو گواہ ہندوستان میں ہیں انہیں پاکستان آکر کارروائی میں شریک ہونا چاہئے لیکن ہندوستان نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ ہندوستان کا کہنا یہ تھا کہ جو گواہ ہندوستان میں ہیں وہ یہیں اپنی گواہی درج کرائیں گے۔ پاکستان سے جوڈیشیل کمیشن یہاں آکر ان سے پوچھ تاچھ کر سکتا ہے اور ان کا بیان درج کر سکتا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ یہ کام انجام دیا جائے پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق 90 دن کے اندر اندر یہ کارروائی مکمل ہو جانی چاہئے۔ توقع ہے کہ پاکستان سے جوڈیشیل کمیشن یہاں آئے گا۔ ہندوستان نے بھی اس کمیشن کی میزبانی کرنے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس طرح یہ امید تو ضرور پیدا ہوئی ہے کہ اب اس مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھے گی۔ ہندوستان کے لئے یہ بات بڑی اہم ہے کہ جو گواہ ہوں وہ آزاد ماحول میں اپنے بیان درج کرائیں جہاں دھمکی یا خوف کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ حالانکہ ہندوستان اب بھی یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ اس مقدمہ کے سلسلے میں پاکستان کتنا سنجیدہ ہے۔ اب تک کا ریکارڈ تو یہی ہے کہ مقامی حکام بڑی لا پرواہی سے مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں ۔ اگر پاکستان نے تھوڑی سنجیدگی بھی دکھائی ہوتی تو مقدمہ کب کا اپنے منطقی نتیجہ تک پہنچ جاتا۔ بات در اصل یہ ہے کہ کچھ سیویلین حکام بھلے ہی سنجیدہ ہوں لیکن وہاں کی ایجنسیاں خود نہیں چاہتیں کہ لشکر طیبہ جیسی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم پر کوئی آنچ آئے کیونکہ اس تنظیم سے پاکستانی فوج اور ایجنسیوں سے بڑے اٹوٹ قسم کے رشتے رہے ہیں اور یہ بات تو خود ایک آرمی چیف اور سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف بھی بارہا تسلیم کر چکے ہیں کہ لشکر طیبہ سمیت بعض تنظیمیں قائم ہی اس لئے کی گئی تھیں کہ وہ بطور نان-اسٹیٹ ایکٹرز کام کریں ۔



بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ جوڈیشیل کمیشن آتا ہے اور گواہوں کے بیان درج کر کے واپس جاتا ہے تو اس کے بعد کیا صورتحال سامنے آتی ہے۔ پاکستان کے عدالتی کارروائیوں کے پیمانے بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں ۔ ایک طرف ہندوستانی بحریہ کے ایک سابق افسر کا معاملہ ہے جس کو ایران سے اغوا کر کے پاکستان لایا گیا اور ایک فوجی عدالت میں کارروائی آناً فاناً مکمل کر کے سزائے موت سنا دی گئی ۔ اس سابق افسر پر دہشت گردی کا الزام یکطرفہ طور پر لگایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی ۔ حالانکہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اسے کالعدم قرار دیا اور پاکستان کو ہدایت دی کہ وہ صاف ستھری کارروائی کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے دوسری طرف وہی پاکسان لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیم کے مجرموں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے باوجود کارروائی کو آگے بڑھانے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتا رہا ہے۔ دراصل ممبئی حملوں کے مجرموں تک ہی یہ معاملہ محدود نہیں ہے۔ عالمی اداروں کی ہدایات کو بھی اس نے اسی طرح اکثر نظر انداز کیا ہے۔ مثلاً ایف اے ٹی ایف کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود اس نے اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور افراد کی منی لانڈرنگ کے معاملات میں مناسب قدم اٹھائے جانے میں بھی اسی طرح سست روی کا مظاہرہ کیا۔ اسی لئے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا اور سخت وارننگ دی کہ اگر اس نے مطلوبہ کارروائی نہیں کی تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ہی پاکستان نے گذشتہ سال حافظ سعید اور ان کے بعض معاونین کے خلاف کچھ قدم اٹھائے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ممبئی حملے کے مجرموں کے خلاف عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے میں وہ کتنی سنجیدگی کا ثبوت دیتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ