پاکستان کے وزیر خارجہ اور طالبان لیڈروں کی بات چیت سے افغانستان برہم

پاکستان کے بیشتر سنجیدہ سفارت کاروں کا یہ خیال کچھ غلط نہیں ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کی خارجہ پالیسی خود اس کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ بالخصوص سینئر سابق سفارتکاروں کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ اگر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر خاطرخواہ توجہ دیتا اور عالمی سیاسی حالات اور بین الاقوامی تعلقات کے تقاضوں کو ذہن میں رکھ کر اپنی پالیسی طے کرتا تو عالمی برادری میں وہ اس طرح بدنام اور رسوا نہ ہوتا کہ آج اس کی بات سننے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا۔ سعودی عرب جو پاکستان کا روایتی طور پر دوست اور اتحادی رہا ہے اور جس سےوقتاً فوقتاً اسے مالی امداد اور قرض بھی ملتا رہا ہے، وہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک اُوٹ پٹانگ بیان سے اس قدر ناراض ہوا کہ خود پاکستان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کرے ۔ اقوام متحدہ سے لے کر ایف اے ٹی ایف تک جیسے عالمی اداروں نے دہشت گردی کے حوالے سے اکثر اس کی سرزنش کی ہے۔ابھی کچھ ہی دن پہلے پاکستان نے اقوام متحدہ کےذریعہ دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں اور افراد کی املاک ضبط کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنےسے متعلق سخت احکامات جاری کئے تھے۔ ان میں القاعدہ ،داعش، تحریک طالبان پاکستان،حقانی نیٹ ورک اور طالبان جیسے گروپ اور لیڈران کے ساتھ ساتھ ممبئی بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم اور لشکر طیبہ کے سرغنہ حافظ سعید اور جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سبھی شامل تھے۔ پاکستان کی جانب سے جاری کئےگئے حالیہ نوٹیفکیشن کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اسے بلیک لسٹ کئے جانے کے فیصلے سے بچ سکے ۔ ایف اے ٹی ایف نے سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے 27 نکاتی ایکشن پلان پر پورے طور پر عمل نہیں کیا تو اسے بلیک لسٹ کیاجا سکتا ہے۔ ان 27 نکات میں سے کئی اہم نکات پر پاکستان نے اب تک عمل نہیں کیا ہے۔ یعنی ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن اس کے باوجود اپنی تخریب کا رانہ ذہنیت اور سرگرمیوں پر وہ کنٹرول نہیں کرپاتا۔ ظاہر ہے ان باتوں کا نوٹس عالمی برادری اور عالمی ادارے بھی لیتے ہیں اور وہ ممالک بھی جنہیں پاکستان اپنی تخریب کارانہ ذہنیت کا نشانہ بناتا ہے۔ جن ممالک کو اپنی تباہ کن پالیسیوں کے ذریعہ اس نے نقصان پہنچایا ہے ان میں اس کا مغربی پڑوسی ملک افغانستان بھی ہے۔ افغانستان میں طالبان نے اپنے دور اقتدار میں جو کچھ کیا اور القاعدہ جیسے گروپ کو اپنا اٹوٹ اتحادی بنایا اس کے باعث9/11 کے واقعات کے بعد اسے اپنا اقتدار گنوانا پڑا لیکن اقتدار ختم ہونے کے بعد طالبان انتہائی خطرناک دہشت گرد گروپ کے طور پر افغانستان میں تباہی مچانے سے باز نہیں آئے۔ انہوں نے نہ صرف امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوجوں پر حملے کئے بلکہ عام افغان باشندوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ انہیں پاکستان سے بھرپور مدد بھی ملی۔صدر ٹرمپ نے باقی ماندہ امریکی فوجوں کو افغانستان سے واپس بلانے کی غرض سے طالبان سے بات چیت کرنے کی راہ ہموار کی۔ بات چیت دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتے کے بعد ختم بھی ہوئی۔ اور اب طالبان اور افغانستان کے اندرونی حلقوں کے درمیان بات چیت کا دور شروع ہونے والا ہے لیکن اس بات چیت کا کیا نتیجہ سامنے آنے والا ہے اس کا ابھی کوئی اندازہ نہیں ہے۔

ظاہر ہے افغانستان کے اندرونی حلقوں اور طالبان کے مابین جو بات چیت ہوگی وہ پورے طور پر وہاں کے اندرونی معاملات کے زمرے میں آئے گی۔ اس سے کسی اور ملک کو کوئی سروکار نہ ہوگا۔ جہاں تک طالبان اور حکومت افغانستان کا تعلق ہے تو بلاشبہ امریکہ اور طالبان کے درمیان تو سمجھوتہ ہوا ہے لیکن حکومت افغانستان اور اشرف غنی حکومت اور دوسرے حلقوں کے درمیان سمجھوتہ ہونا ابھی باقی ہے۔ طالبان کے رویوں سے تو یہ لگتا ہے کہ وہ افغان حکومت کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ بات چیت کا یہ دور کیا نتیجہ سامنے لانے والا ہے لیکن یہ بات تو طے ہے کہ طالبان بہر حال ایک فریق ہے۔ تو کیا ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان کے فریق آپس میں بات چیت کر رہے ہیں یا کرنے والے ہیں تو کسی بھی دوسرے ملک کا اس میں دلچسپی لینا کسی بھی اعتبار سے جائز نظر آتا ہے، وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ افغان حکومت لگاتار پاکستان پر یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ طالبان کے توسط سے پاکستانی ایجنسیاں ،افغانستان میں تباہی مچا رہی ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ ایک بے سر پیر کی بات کر کے سعودی عرب اور قسطنطنیہ اسلامی کانفرنس کو ناراض کر چکے ہیں اور ابھی چند روز قبل انہوں نے اسلام آباد میں طالبان کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔ اس وفد کی سربراہی طالبان کے لیڈر عبدالغنی برادر کر رہے تھے۔ اس بات چیت میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق پیش رفت کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس میں بھی یہی کہا گیا کہ افغانستان میں قیام امن سے متعلق بات چیت کا معاملہ زیر غور آیا۔

پاکستان کی جانب سے جو طالبان کے وفد کو اس بات چیت کےلئے مدعو کیا گیا تھا اس پر افغانستان کی اشرف غنی حکومت نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ افغانستان کی وزارت خا رجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کے خلاف اقوام متحدہ نے جو پابندی عائد کی ہے اس کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی پر نظر ثانی کی جانی چاہئے ۔ یعنی پاکستان کی دوہری پالیسی سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ گذشتہ ہفتہ ہی پاکستان نے یہ آرڈر جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا اقوام متحدہ کی سکریٹری کونسل نے جن گروپوں اور افراد کےخلاف پابندی عائد کی ہے، اس کےمطابق پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یاد رہے کہ ممنوعہ لوگوں کی فہرست میں عبدالغنی برادر بھی شامل ہے جو قطر میں واقع طالبان کے سیاسی آفس کا سربراہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس شخص کے بارے میں خود پاکستان نے چند روز قبل کارروائی کرنے کا اعلان کیا، اسی کو وہاں کے وزیر خارجہ نے بات چیت کے لئے مدعو کیا۔ تو پھر آخر یہ کیا بوالعجبی ہے؟

بادی النظر میں تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف جو آرڈر جاری کیا وہ محض ایک ڈھکوسلہ تھا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ طالبان اس کے اٹوٹ اتحادی ہیں۔ کم از کم پاکستان کی وزارت خارجہ نے تو یہی پیغام دیا ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ