پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور مذہبی شدت پسندی
پاکستانی سماج میں مذہبی شدت پسندی اس قدر سرائت کرگئی ہے کہ وہاں کی سیاسی پارٹیاں بھی اب اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہیں کہ مذہب کا سہارا لئے بغیر اب کوئی بھی الیکشن جیتنا تقریباً ناممکن ہے۔ انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ اب اچھی حکمرانی اور ملک و قوم کی ترقی کی باتیں کرنا فضول ہے۔ تعلیم و معیشت کا ذکر کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ آپسی بھائی چارہ، محبت اور دوستی کی باتیں کوئی سننے والا نہیں۔ سیکولرزم کی باتیں تو آپ بھول جایئے۔ وہ تو گناہ کبیرہ ہے۔ اگر لوگ کچھ سننا چاہتے ہیں تو وہ ہیں آپسی منافرت کی باتیں، مذہبی انتہاپسندی کی باتیں۔ ایسی باتیں جو اسلام کے نام پر سماج کو بانٹتی ہوں۔ لہذا اب اہم سیاسی پارٹیاں اچھی حکمرانی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایسے بلوں کی حمایت کرنے میں اپنی طاقت صرف کررہی ہیں جنہیں اسلامی شدت پسندوں نے پیش کیا ہے تاکہ یہ پارٹیاں شدت پسندوں کا ووٹ حاصل کرسکیں۔
پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کا آغاز 1949 میں آئین ساز اسمبلی میں ایک قرار داد کی منظوری کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں تمام مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اس کے بعد 1962 میں پاکستانی آئین کے مطابق اسلامی فکر کے بارے میں ایک مشاورتی کونسل قائم کی گئی جس کے بعد ملک میں تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کےلئے ایک اسلامک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا اور اس طرح پاکستان میں مذہبی بنیاد پرستی کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگئی۔
اس وقت پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور قانون ساز سبھی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کی مہم کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جو ملک کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر 2018 میں جب سپریم کورٹ نے ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو اہانت اسلام کے تمام الزامات سے بری کرکے انہیں رہا کردیا تو ہزاروں سخت گیر مسلمانوں نے کہرام مچا دیا تھا۔ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف انہوں نے جو طوفان بدتمیزی برپا کیا اس سے تمام ملک کی عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں تحریک لبیک پاکستان نے، جس نے مظاہروں کی قیادت کی تھی، آسیہ بی بی کے حق میں فیصلہ سنانے والے جج کو جان سے مار دینے کے لئے لوگوں کو اکسایا۔ لیکن اس شدت پسند تنظیم کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا اور اس کے لوگ آج بھی ملک میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک طالبان پاکستان نے تیسرا مقام حاصل کیا تھا اور اسے بیس لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ اس تنظیم نے ووٹروں کو لبھانے کےلئے اپنی انتخابی مہم میں ملک و سماج کی ترقی کی کسی بھی طرح کی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی ملک کی معیشت کا کوئی ذکر کیا تھا۔ اس نے پاکستانی آئین میں ختم نبووت سے متعلق ترمیم کو صرف اپنا موضوع بنایا تھا۔
حال ہی میں صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں ایک بل تحفظ بنیاد اسلام کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل کسی اسلامی پارٹی کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستان مسلم لیوگ (ق) کے ایک رکن نے پیش کیا تھا، جسے تمام دوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی۔ یہ عجیب بات ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں دوسرے مسئلہ پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کو تیار رہتی ہیں، وہیں پارٹیاں اسلام کے نام پر متحد ہوجاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ ووٹ بینک کا معاملہ ہے۔ اب اگر یہ بل منظور ہوگیا تو ڈائرکٹرجنرل پبلک ریلیشنز کو کسی بھی ایسے مواد کو سینسر کرنے کے اختیارات مل جائیں گے جنہیں حکومت پاکستان غیر اسلامی اور ملک مخالف سمجھتی ہے۔گزشتہ ماہ قومی اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا کہ تمام کتابوں میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کے نام کے بعد لفظ ‘‘خاتم الانبین’’ لکھنا لازمی ہوگا۔پچھلے ہفتہ مبینہ طور پر پاکستان مخالف اور اہانت اسلام والے مواد شائع کرنے والی تقریباً سو کتابوں پر پابندی عائد کردی گئی اور گزشتہ ماہ اسلام آباد میں پہلے مندر کی تعمیر روک دی گئی کیونکہ مختلف قانون سازوں نے اسے اسلام مخالف قرار دیا تھا۔
پاکستانی سماج میں مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے میں حکومت کے لوگوں کا بھی ہاتھ ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ امریکہ نے اوسامہ بن لادن کو ‘‘شہید’’ کیا ہے۔ ابھی چند روز پہلے عید الاضحی سے قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والی دوسری ایجنسیوں سے کہا تھا کہ اگر احمدیہ فرقہ کے لوگ عید مناتے ہوئے دکھائی دیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پاکستان میں عدم رواداری اور تعصب کے اس ماحول کا خود قانون ساز بھی شکار ہورہے ہیں۔ ابھی پچھلے ماہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف پر حکمراں پارٹی کے ایک قانون ساز نے یہ الزام لگایا کہ وہ اہانت اسلام کے مرتکب ہوئے ہیں۔ خواجہ آصف کا صرف اتنا قصور تھا کہ انہوں نے تمام مذاہب کو برابر کا قرار دیا تھا۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی خاص طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ایک ایسا ماحول بن گیا ہے جس میں ہر روز کوئی نہ کوئی ممبر ایک قرارداد لیکر آتا ہے اور متنبہ کرتا ہے کہ اگر قرارداد منظور نہ ہوئی تو اسلام خطرے میں پڑجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی خطرناک رجحان ہے اور اس سے مذہبی شدت پسندی اور عدم رواداری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
اس طرح کی قراردادوں اور بلوں کی منظوری سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اب اسلامی پارٹیاں بنتی جارہی ہیں۔ وہ شدت پسندوں کو خوش کرنے میں اس حد تک جاچکی ہیں کہ اب ان میں اور اسلامی پارٹیوں میں فرق محسوس کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
Comments
Post a Comment