پاکستان میں خاتون صحافیوں پر چوطرفہ حملے اور غیر شائستہ تبصرے
زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے۔ صرف دو سال اور چند ماہ قبل کی بات ہے جب عام انتخابات کے نتائج آرہے تھے اور عمران خان نے اپنی پارٹی کے جیتنے کے امکانات کا اندازہ کرکے میڈیا والوں کو مخاطب کیا تھا۔ ویسے تو انھوں نے بڑے لمبے چوڑے دعوے کئے تھے اور یہ کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی تھی کہ وہ ایک نئے پاکستان کا خواب لے کر آئے ہیں اور اس ملک کو کرپشن سے پاک ایک خوشحال اور آیڈیل ریاست بنائیں گے۔ لوگ یہ بات بھی نہیں بھولے ہوں گے کہ انھوں نے مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر چہ ان عام انتخابات کے بارے میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی برادری میں بھی عام تاثر یہ تھا کہ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں عمران خان کی پارٹی کو برسراقتدار لانے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کررہی ہیں اور صحافیوں کو خاص طور سے خوفزدہ کررہی ہیں تاکہ وہ اپوزیشن لیڈروں کو کوریج نہ دیں۔تاہم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک بڑے حلقے میں یہ امید ضرور پیدا ہوئی تھی کہ وہ اپنے کچھ وعدوں کو نبھائیں گے اور آگے چل کر صورت حال میں کچھ بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اب جبکہ دوسال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تو ہر طرف یہی محسوس کیا جارہا ہے کہ عمران حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستانی فوج جو ان کی حامی اور اتحادی تصور کی جاتی تھی وہ بھی اب ان کی کارکردگی سے نالاں ہوچکی ہے۔ لیکن فی الحال وہ اس صورت حال کو اس لئے گوارہ کررہی ہے کہ فوری طور پر اسے کوئی متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔ عمران خان کی ناکامیوں کی فہرست تو خاصی طویل ہے لیکن یہاں صرف میڈیا کی بات تک ان کی حکومت کی کارکردگی کو محدود رکھا جاتا ہے۔عمران خان کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہونے کے باوجود فوج اور ایجنسیاں ایک معاملے میں عمران حکومت کا پورے طور پر ساتھ دے رہی ہیں اور وہ ہے میڈیا پر کستاہوا شکنجہ۔ یہ بات تو سبھی کے علم میں ہے کہ فوج کسی بھی حال میں اپنی تنقید برداشت نہیں کرسکتی، یہی حال عمران حکومت کا بھی ہے۔ وہ بھی تنقید برداشت نہیں کرپاتی اس لئے میڈیا کے ساتھ جو بھی زیادتیاں اور ناانصافیاں ہورہی ہیں ان پر ان کی حکومت خاموش ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک بات یہ ہے کہ عمران خان کی پارٹی کے حامی سوشل میڈیا پر اتنے سرگرم ہیں کہ جہاں کسی صحافی نے حکومت کی تنقید کی تو وہ حامی ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور اس کے خلاف نہ صرف غیر شائستہ تبصرے کرتے ہیں بلکہ ذاتی طور پر حملے بھی کرتے ہیں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ تو صحافیوں کے تئیں ان کے عمومی رویہ کی بات ہوئی۔
اگر کسی خاتون صحافی کا معاملہ ہوتو پاکستان تحریک انصاف کے ورکر اور ایکٹی وسٹ غیر شائستگی کی تمام حدیں پار کرجاتے ہیں اور خاتون صحافیوں کو نہ صرف ڈراتے دھمکاتے ہیں بلکہ انتہائی بے ہودہ تبصرے بھی کرنے میں پس وپیش نہیں کرتے۔ اس صورت حال سے خاتون صحافی بے حد پریشان ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ان کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا انتہائی مشکل امر ثابت ہورہا ہے۔ان حملوں کا نشانہ وہ تمام خاتون صحافی بن رہی ہیں جو حکومت کی مختلف پالیسیوں پر اپنی بے لاگ رائے دیتی ہیں اور ان کی رپورٹوں اور جائزوں میں حکومت کی کارکردگی پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کا ذکرآتا ہے تو عمران خان کی پارٹی کے لوگ ایک دم بھڑک اٹھتے ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آن لائن حملوں کے لئے خود سرکاری افسران بھڑکاتے ہیں۔ اس کے بعد ٹوئیٹر اکاؤنٹس کے ذریعہ ایک سیلاب سا آجاتا ہے۔ یہ لوگ بڑے طمطراق سے اپنے آپ کو حکمراں جماعت سے وابستہ بتاتے ہیں ایک باقاعدہ اور منظم انداز کی مہم چلائی جاتی ہے جس کے تحت خاتون صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے بارے میں ذاتی نوعیت کی تفصیلات پیش کی جاتی ہیں اور انھیں مزید ڈرانے دھمکانے کے لئے ان پر اوچھے الزامات لگائے جاتے ہیں اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ خاتون صحافی پیسے اور لفافے لے کر غلط خبریں پھلاتی ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گندے تبصروں اور گالیوں کے ساتھ جنسی اور جسمانی تشدد کی بھی دھمکی دی جاتی ہے حالیہ دنوں میں یہ رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ رپورٹروں اور تجزیہ کاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی اور اس بات کا جتن کیا گیا کہ اطلاعات تک ان کی رسائی نہ ہونے پائے۔
اس صورت حال سے تنگ آکر پاکستان بھر کی خاتون رپورٹرز تجزیہ کار اور دوسری صحافتی ذمہ داریاں نبھانے والی خواتین نے اپنی بپتا بیان کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ نہ صرف اظہار رائے کی آزادی چھینی جارہی ہے بلکہ براہ راست جمہوری اقدار پر بھی حملہ کیا جارہا ہے۔ اس بیان پر بیشتر خاتون صحافیوں نے دستخط کئے ہیں۔ ان میں صرف وہی صحافی نہیں شامل ہیں جو پاکستان کی مشہور صحافیوں میں شامل ہیں بلکہ وہ بھی ہیں جو بین الاقوامی پیمانے پر بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ خاتون صحافیوں کی کچھ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ گزشتہ جولائی میں عمران کابینہ سے وابستہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیرین مزاری نے خاتون صحافیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کا نوٹس لیں گی اور اس ماحول سے انھیں نجات دلائیں گی۔ صحافی بڑی شدت سے موصوفہ کے ایفائے وعدہ کا انتظار کررہی ہیں۔ ان خواتین نے اپنے بیان کے توسط سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے جڑی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیں اور حکومت کو جوابدہ بنائیں کہ وہ اس جانب توجہ دے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب کے ایسے ٹھیکیداروں کی کمی نہیں ہے جو اہانت دین قانون کے تحت پھانسی سے کم کی سزا کی مانگ نہیں کرتے لیکن اسی معاشرے میں خاتون صحافیوں کو اس طرح پریشان کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے میں سخت مشکلات کا سامنا کررہی ہیں ان کے خلاف فقرے بازیاں کی جاتی ہیں۔ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن ‘غیرت بریگیڈ’ کی غیرت یہاں نہیں جاگتی۔ اور ایک سیاسی حکمران جس نے مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کا خواب دکھایا تھا وہ اپنے حامیوں کی اس غیر انسانی اور غیر اسلامی حرکتوں کو نہ صرف برداشت کررہا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کررہا ہے، کیا اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا یہی طرۂ امتیاز ٹھہرا؟؟
اگر کسی خاتون صحافی کا معاملہ ہوتو پاکستان تحریک انصاف کے ورکر اور ایکٹی وسٹ غیر شائستگی کی تمام حدیں پار کرجاتے ہیں اور خاتون صحافیوں کو نہ صرف ڈراتے دھمکاتے ہیں بلکہ انتہائی بے ہودہ تبصرے بھی کرنے میں پس وپیش نہیں کرتے۔ اس صورت حال سے خاتون صحافی بے حد پریشان ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ان کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا انتہائی مشکل امر ثابت ہورہا ہے۔ان حملوں کا نشانہ وہ تمام خاتون صحافی بن رہی ہیں جو حکومت کی مختلف پالیسیوں پر اپنی بے لاگ رائے دیتی ہیں اور ان کی رپورٹوں اور جائزوں میں حکومت کی کارکردگی پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کا ذکرآتا ہے تو عمران خان کی پارٹی کے لوگ ایک دم بھڑک اٹھتے ہیں۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آن لائن حملوں کے لئے خود سرکاری افسران بھڑکاتے ہیں۔ اس کے بعد ٹوئیٹر اکاؤنٹس کے ذریعہ ایک سیلاب سا آجاتا ہے۔ یہ لوگ بڑے طمطراق سے اپنے آپ کو حکمراں جماعت سے وابستہ بتاتے ہیں ایک باقاعدہ اور منظم انداز کی مہم چلائی جاتی ہے جس کے تحت خاتون صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے بارے میں ذاتی نوعیت کی تفصیلات پیش کی جاتی ہیں اور انھیں مزید ڈرانے دھمکانے کے لئے ان پر اوچھے الزامات لگائے جاتے ہیں اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ خاتون صحافی پیسے اور لفافے لے کر غلط خبریں پھلاتی ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گندے تبصروں اور گالیوں کے ساتھ جنسی اور جسمانی تشدد کی بھی دھمکی دی جاتی ہے حالیہ دنوں میں یہ رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ رپورٹروں اور تجزیہ کاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی اور اس بات کا جتن کیا گیا کہ اطلاعات تک ان کی رسائی نہ ہونے پائے۔
اس صورت حال سے تنگ آکر پاکستان بھر کی خاتون رپورٹرز تجزیہ کار اور دوسری صحافتی ذمہ داریاں نبھانے والی خواتین نے اپنی بپتا بیان کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ نہ صرف اظہار رائے کی آزادی چھینی جارہی ہے بلکہ براہ راست جمہوری اقدار پر بھی حملہ کیا جارہا ہے۔ اس بیان پر بیشتر خاتون صحافیوں نے دستخط کئے ہیں۔ ان میں صرف وہی صحافی نہیں شامل ہیں جو پاکستان کی مشہور صحافیوں میں شامل ہیں بلکہ وہ بھی ہیں جو بین الاقوامی پیمانے پر بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ خاتون صحافیوں کی کچھ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ گزشتہ جولائی میں عمران کابینہ سے وابستہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیرین مزاری نے خاتون صحافیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کا نوٹس لیں گی اور اس ماحول سے انھیں نجات دلائیں گی۔ صحافی بڑی شدت سے موصوفہ کے ایفائے وعدہ کا انتظار کررہی ہیں۔ ان خواتین نے اپنے بیان کے توسط سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے جڑی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورت حال کا نوٹس لیں اور حکومت کو جوابدہ بنائیں کہ وہ اس جانب توجہ دے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب کے ایسے ٹھیکیداروں کی کمی نہیں ہے جو اہانت دین قانون کے تحت پھانسی سے کم کی سزا کی مانگ نہیں کرتے لیکن اسی معاشرے میں خاتون صحافیوں کو اس طرح پریشان کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے میں سخت مشکلات کا سامنا کررہی ہیں ان کے خلاف فقرے بازیاں کی جاتی ہیں۔ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن ‘غیرت بریگیڈ’ کی غیرت یہاں نہیں جاگتی۔ اور ایک سیاسی حکمران جس نے مدینہ جیسی فلاحی ریاست قائم کرنے کا خواب دکھایا تھا وہ اپنے حامیوں کی اس غیر انسانی اور غیر اسلامی حرکتوں کو نہ صرف برداشت کررہا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کررہا ہے، کیا اسلامی جمہوریۂ پاکستان کا یہی طرۂ امتیاز ٹھہرا؟؟
Comments
Post a Comment