موضوع: دفاعی سازومان کی تیاری میں خودانحصاری
وزیراعظم نریندرمودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ " ڈیفنس مینوفیکچرنگ میں آتم نربھر بھارت" کے موضوع پر ایک سیمنار سے خطاب کیا۔ اس ورچوول سیمینار کااہتمام مشترکہ طور پر سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررس، فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارت دفاع نے کیا تھا۔ دفاعی سازوسامان کی مینوفیکچرنگ میں خودانحصار بننے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد دفاعی سازوسامان کی تیاری کو فروغ دینا اورنئی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ دفاع کے شعبہ میں نجی کمپنیوں کو اہم رول دینا بھی ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودانحصاری حاصل کرنے کی رفتار میں جلد ہی تیزی آئے گی۔ جناب مودی نے کہا کہ جب ملک کو آزادی ملی تو اس وقت اس کے پاس دفاعی سازوسامان کی تیاری کیلئے کافی صلاحیت تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک اس جانب توجہ نہیں دی گئی لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور دفاعی شعبہ میں اصلاحات کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں کئے گئے متعدد اقدامات کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو خودانحصار اور جدید بنانے کیلئے دفاع کے شعبہ میں اعتماد کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدہ پر کسی کی تقرری کے بارے میں فیصلہ دہائیوں سے التوا میں پڑا ہوا تھا۔ اسی طرح بہت سے ایسے ہی تقرر تھے جن کے بارے میں فیصلہ نہیں لیا گیا تھا۔ لیکن اب التوا میں پڑے تمام معاملات پر فیصلہ لے لئے گئے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری سے تینوں افواج کے درمیان بہتر ارتباط پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی سازوسامان کے حصول میں بھی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اب دفاع کے شعبہ میں 74 فیصد تک ایف ڈی آئی کی اجازت دےدی گئی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نئے بھارت میں کس قدر خودا عتمادی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب اندرون ملک تیارہ کردہ 101 آئٹم فوج کے لئے حاصل کئے جائیں گے اس سے دفاعی شعبہ کی گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ آرڈیننس فیکٹروں کو کارپوریٹ کی شکل دینے کے بارے میں جناب مودی نے کہا کہ اس عمل کے پورا ہوجانے کے بعد وہاں کام کررہے ورکروں اور دفاع کے شعبہ کو کافی فائدہ ہوگا۔ جدید ترین اسلحوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کی غرض سے ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ڈی آرڈی او کے علاوہ نجی شعبوں کے اداروں میں تحقیق کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر دفاعی سازوسامان تیار کرنے پر زور دیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت "اصلاح اور کارکردگی" کےمنتر پر کام کررہی ہے اس لئے انٹلکچوول پراپرٹی' ٹیکزیشن، دیوالیہ پن، خلاء اور توانائی جیسے شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس وقت اترپردیش اور تمل ناڈو میں دو دفاعی راہداریاں زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے آئندہ پانچ برسوں کے دوران 20 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سے جڑی چھوٹی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے آئڈکس (Idex) نام کی ایک پہل شروع کی گئی تھی جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعہ 50 سے زیادہ اسٹارٹ اپس (Start-ups) نے فوجی استعمال کیلئے ٹکنالوجی کو ترقی دی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد بھارت کو ایک ایساباصلاحیت ملک بنانا ہے جو نہ صرف عالمی معیشت کو تقویت بخشے بلکہ دنیا میں قیام امن میں بھی اپنا کردار ادا کرسکے۔ بھارت کو دفاع کے شعبہ میں خودانحصار بنانے کےپیچھے یہی آئڈیا کارفرما ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دفاعی سازوسامان کی تیاری اور ایکسپورٹ پر وموشن پالیسی کے مسودہ کے بارے میں حاصل ہونے والے مشوروں سے اس پالیسی کو جلد از جلد نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودانحصاری حاصل کرنے کی رفتار میں جلد ہی تیزی آئے گی۔ جناب مودی نے کہا کہ جب ملک کو آزادی ملی تو اس وقت اس کے پاس دفاعی سازوسامان کی تیاری کیلئے کافی صلاحیت تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک اس جانب توجہ نہیں دی گئی لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور دفاعی شعبہ میں اصلاحات کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں کئے گئے متعدد اقدامات کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو خودانحصار اور جدید بنانے کیلئے دفاع کے شعبہ میں اعتماد کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدہ پر کسی کی تقرری کے بارے میں فیصلہ دہائیوں سے التوا میں پڑا ہوا تھا۔ اسی طرح بہت سے ایسے ہی تقرر تھے جن کے بارے میں فیصلہ نہیں لیا گیا تھا۔ لیکن اب التوا میں پڑے تمام معاملات پر فیصلہ لے لئے گئے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری سے تینوں افواج کے درمیان بہتر ارتباط پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی سازوسامان کے حصول میں بھی آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اب دفاع کے شعبہ میں 74 فیصد تک ایف ڈی آئی کی اجازت دےدی گئی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نئے بھارت میں کس قدر خودا عتمادی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب اندرون ملک تیارہ کردہ 101 آئٹم فوج کے لئے حاصل کئے جائیں گے اس سے دفاعی شعبہ کی گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ آرڈیننس فیکٹروں کو کارپوریٹ کی شکل دینے کے بارے میں جناب مودی نے کہا کہ اس عمل کے پورا ہوجانے کے بعد وہاں کام کررہے ورکروں اور دفاع کے شعبہ کو کافی فائدہ ہوگا۔ جدید ترین اسلحوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کی غرض سے ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ڈی آرڈی او کے علاوہ نجی شعبوں کے اداروں میں تحقیق کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر دفاعی سازوسامان تیار کرنے پر زور دیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت "اصلاح اور کارکردگی" کےمنتر پر کام کررہی ہے اس لئے انٹلکچوول پراپرٹی' ٹیکزیشن، دیوالیہ پن، خلاء اور توانائی جیسے شعبوں میں اصلاحات جاری ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس وقت اترپردیش اور تمل ناڈو میں دو دفاعی راہداریاں زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے آئندہ پانچ برسوں کے دوران 20 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایس ایم ای سے جڑی چھوٹی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے آئڈکس (Idex) نام کی ایک پہل شروع کی گئی تھی جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعہ 50 سے زیادہ اسٹارٹ اپس (Start-ups) نے فوجی استعمال کیلئے ٹکنالوجی کو ترقی دی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد بھارت کو ایک ایساباصلاحیت ملک بنانا ہے جو نہ صرف عالمی معیشت کو تقویت بخشے بلکہ دنیا میں قیام امن میں بھی اپنا کردار ادا کرسکے۔ بھارت کو دفاع کے شعبہ میں خودانحصار بنانے کےپیچھے یہی آئڈیا کارفرما ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دفاعی سازوسامان کی تیاری اور ایکسپورٹ پر وموشن پالیسی کے مسودہ کے بارے میں حاصل ہونے والے مشوروں سے اس پالیسی کو جلد از جلد نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔
Comments
Post a Comment