افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد پاکستانی طالبان کے طاقتور ہونے کا امکان



طالبان اور امریکہ کے مابین سمجھوتہ ہوجانے کے بعد امریکی فوجیوں کی واپسی کی بات خیر اب یقینی ہوہی چکی ہے لیکن اس کے بعد افغانستان کا سیاسی منظر نامہ کیسا ہوگا، اس کے بارے میں کچھ پیش قیاسی کرنا مشکل ہی نظر آتا ہے کیونکہ خود افغانستان میں متعدد حلقے ایسے ہیں جو ابھی کسی طرح کی الجھن کا شکار ہیں۔ ادھر امریکہ میں نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ حالات ایسے بن جائیں کہ امریکی فوجیں جلد سے جلد واپس آجائیں۔ لیکن افغانستان پر اس کا کیا اثر پڑنے والا ہے، اس سوال سے قطع نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک نئی طرح کی الجھن پیدا ہوگئی ہے اور شمالی وزیرستان سے لے کر جنوبی وزیرستان تک میں تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ماحول صرف قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ عملاً ایسا نظر بھی آنے لگا ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کی تیاریوں کے ساتھ پاکستانی طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں۔ قبائلی علاقوں، بطور خاص پاکستان کی سرحد پر واقع افغانستان کے جن علاقوں میں ٹی ٹی پی نے اپنی خفیہ کمین گاہیں بنا رکھی تھیں ان سے وہ باہر آنے لگے ہیں اور وزیرستان میں ان کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ مقامی آبادی تو گھبرائی ہوئی ہے ہی لیکن بہت سے پاکستانی افسران بھی اس تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ تحریک طالبان کی بڑے پیمانے پر قبائلی علاقوں میں واپسی کہیں بہت بڑا درد سر نہ بن جائے !

دراصل پاکستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کو بہت دنوں تک پاکستان برداشت کرتا رہا کیونکہ وہ بہرحال کسی نہ کسی شکل میں خود وہاں کی ایجنسیوں اور انتہاپسند حلقوں کی پروردہ تھی لیکن جب اس نے خود پاکستان کے اندر حملے کرنے شروع کئے اور سکیورٹی فورسز بھی اس کے نشانے پر آنے لگیں تو اس گروپ کے خلاف چند سال قبل وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا۔ 2016 میں پاکستانی فوج کو اتنی کامیابی تو ملی کہ شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی کا زور کافی کم ہوگیا۔ بہت سے جنگجوؤں نے سرحد پار کرکے افغانستان میں پناہ لی اور کچھ ادھر ادھر چھپ گئے تھے۔ اس کے بعد عام معافی کی ایک اسکیم شروع کی گئی جس کے تحت یہ گنجائش پیدا کی گئی کہ جو طالبان اپنے آپ کو سپرد کردیں گے، ان کی باز آباد کاری کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اس طور پر سینکڑوں انتہا پسندوں نے سرینڈر کیا لیکن حکومت کی اس پالیسی کو مقامی آبادی نے پسند نہیں کیا اور حکومت کی تنقید کی۔ ایک سینئر طالبان کمانڈر نے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا اس وقت وہ بڑے آرام سے اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں گھوم رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اچھے اور بُرے طالبان کی منطق اب بے معنی ہوکر رہ گئی ہے۔ اچھے طالبان کی جگہ اب سرینڈر کرنے والے طالبان نے لے لی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں تھوڑا امن کا ماحول بڑی مشکل سے قائم ہوا تھا، اس لئے ضرورت اس بات کی تھی کہ مقامی قبائلی جرگوں اور سول سوسائٹی سے صلاح و مشورے کے بعد ایک ایسی جامع پالیسی ترتیب دی جاتی جس میں سکیورٹی، سماجی، سیاسی اور معاشی عوامل کو شامل کیا جاتا لیکن ان باتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔

قبائلی علاقوں سے ہی تعلق رکھنے والے، اسلام آباد میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود نے جو افغانستان اور پاکستان کی سکیورٹی سے متعلق معاملات پر بین الاقوامی میڈیا میں اکثر لکھتے رہتے ہیں، عرب نیوز میں حال ہی میں وزیرستان کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان کے مطابق اچھے طالبان ان جنگجوؤں کو کہا جاتا تھا جو افغانستان میں سرگرم تھے لیکن پاکستان میں ان سے کوئی خطرہ نہیں محسوس کیا جاتا تھا۔ اب خود سپردگی کرنے والے سابق بڑے طالبان کے بارے میں تمام تاثر یہ ہے کہ انہوں نے چولہ بدل کر دھوکہ کیا ہے۔اب اس علاقے میں یہ خطرہ محسوس کیا جارہا ہے کہ بُرے حالات پیدا ہورہے ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز اور مقامی باشندوں پر حملے تواتر سے ہونے لگے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک درجنوں سویلین اور اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے مقامی آبادی میں بے چینی بھی بڑھ گئی ہے اور وہ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز ان حملوں کو روکنے میں ناکام ہورہی ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جن جنگجوؤں نے ‘‘سرینڈر’’ کرنے کا ناٹک کیا تھا، وہی اس علاقے میں واپس آرہے ہیں۔ مقامی باشندوں کے مطابق انہی کی سرگرمیوں سے وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئےتھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب آپریشن ضرب عضب چل رہا تھا اور بہت سے لوگ یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

احسان اللہ ٹیپو محسود لکھتے ہیں کہ متنازعہ معاملات کو سلجھانے اور قیام امن کی کوششوں میں یہ ضروری ہے کہ مقامی اسٹیک ہولڈرس کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے صلاح و مشورے سے کام کیا جائے لیکن بدقسمتی یہ ہےکہ حکومت نے سرینڈر سے متعلق جو حکمت عملی اختیار کی اس میں مقامی پختون جرگہ کو نظر انداز کردیا۔ اس کی وجہ سے نہ صرف مقامی آبادی میں بیگانگی کا احساس پیدا ہوا بلکہ یہ خوف بھی پیدا ہواکہ دہشت گردی دوبارہ منظم انداز میں شروع ہوسکتی ہے ۔ اس کی وجہ سے نہ صرف مقامی آبادی میں بیگانگی کا احساس پیدا ہوا بلکہ یہ خوف بھی پیدا ہوا کہ دہشت گردی دوبارہ منظم انداز میں شروع ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عام معافی کی جو پالیسی اختیار کی گئی اس میں کچھ اتنا جھول ہے کہ کسی بھی عدالت میں کوئی بھی متاثرہ شخص اسے چیلنج کرسکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہےکہ اس پالیسی کے تحت تمام جنگجوؤں کو ایک ہی جیسا تصور کیا جاتا ہے خواہ وہ نوجوان، برین واش کیا گیا جنگجو ہو یا خطرناک قسم کا دہشت گرد، جس نے بہت بھیانک واردات انجام دی ہو۔

عام معافی اور سابق جنگجوؤں کے سرینڈر کا معاملہ بہت نازک نوعیت کا ہوتا ہے لہذا ایسی صورت میں کسی طرح کی پالیسی وضع کرنے سے قبل بڑی سوجھ بوجھ اور صلاح و مشورے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان کے بہت سےسابق فوجی افسران، جنہوں نے افغانستان سے ملنے والے سرحدی علاقوں میں کام کیا ہے، وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جن دہشت گردوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی، انہیں معافی اور سرینڈر سے متعلق پالیسی کی پیش کش کرتے وقت بڑی احتیاط کی ضرورت تھی۔ بڑی مشکل سے قبائلی علاقوں میں قدرے سکون کا ماحول میسر آیا تھا۔ اگر اب ان علاقوں میں ایک بار پھر دہشت گردی بڑھتی ہے تو اسے سنبھالنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ ان سابق افسران کا یہ بھی کہنا ہے کہ سب سے پہلے ایک جامع قومی پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت تھی جس میں سکیورٹی نیز سماجی اور سیاسی عوام کے ساتھ ساتھ معاشی پہلوؤں کو بھی شامل کیا جاتا اور یہ سب کچھ کرتے وقت پارلیمنٹ، مقامی قبائلی جرگہ اور سول سوسائٹی کی بھی رائے لی جاتی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار کو تحریک طالبان کے سرینڈر کرنے والے دہشت گردوں سے کوئی خاص خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ انہیں زیادہ خطرہ جمہوری تحریک چلانے والے پشتون تحفط موومنٹ یعنی پی ٹی ایم سے لاحق ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ