بالآخر پاکستان کی طرف سے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا اعتراف
پیرس میں واقع دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادرے ،فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف نے جون2018 کو ایک بار پھر پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اسے یہ وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے 2019 کے اواخر تک دہشت گرد گروپوں کی مالی لین دین سے متعلق سر گرمیوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں 27نکاتی ایک ایکشن پلان پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت بھی اسے دی گئی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان اس پر پورے طور پر عمل نہیں کر سکتا تھا تا ہم کورونا وائرس وبا کے باعث اسے کچھ مہلت اور مل گئی ۔چونکہ ایف اے ٹی ایف نے سخت وارننگ دی ہے اس لئے پاکستان اس بات کی کوشش ضرور کر رہا ہے کہ کسی صورت وہ اپنے آُپ کو ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچانے کے لئے اس کی ہدایت پر عمل کر سکے۔ حکومت پاکستان نے 18 اگست کو دو نوٹیفکیشن جاری کئے جن کے تحت 88ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان میں جماعت الدعوہ کے سر براہ حافظ سعید ،جیش محمد کا سر غنہ مسعود اظہر اور 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم بھی شامل ہے۔ پاکستا ن کے انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق ان سب کی تمام املاک ضبط کی جائیں گی اور ان کے بلیک اکاؤنٹ کو منجمد کر دیا جائے گا۔ در اصل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے حال ہی میں ایک نئی فہرست جاری کی گئی تھی جس میں خطرناک دہشت گرد گروپوں ، ان کے لیڈروں اور ان سے وابستہ دوسرے بدنام زمانہ دہشت گردوں کے نام تھے ۔ پاکستان نے اپنے نوٹیفکیشن میں 88 گروپوں اور انفرادی طور پر ان سے جڑے دہشت گردوں کے خلاف کاررروائی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ان میں جماعت الدعوہ ،جیش محمد، طالبان ،حقانی نٹ ورک، اسلامک اسٹیٹ(داعش) اور القاعدہ وغیرہ کے تمام کلیدی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ املاک بھی ضبط کی جائیں گی۔ حکومت کے فیصلوں کے مطابق یہ افراد کسی بھی مالیاتی ادارے کے توسط سے کسی طور پر پیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں منتقل کر سکتے ، نہ تو وہ کہیں جا سکتے ہیں اور نہ ہی اسلحے خرید سکتے ہیں۔اسی نوٹیفکیشن کے تحت تحریک طالبان پاکستان یا پاکستانی طالبان کے تعلق سےایک پچھلے فیصلے کی بھی پورے طور پر توثیق کی گئی ہے کہ اس کے تمام لیڈروں ،کمانڈروں اور ممبران پر پورے طور پر پابندی عائد رہے گی۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں اور افراد پر پہلے بھی پابندی عائد کی جاتی رہی ہے لیکن ان کا کوئی خاص نتیجہ کبھی سامنے آتا نہیں دکھائی دیا کیونکہ ہمیشہ اندرون پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی یہی محسوس کیا گیا کہ پاکستانی حکمراں کبھی سنجیدہ نہیں رہے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی اصل وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے دہشت گردی جیسی لعنت کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک حصے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ بہر حال ایف اے ا ٹی ایف کے سخت اقدامات اور وارننگ کے باعث گذشتہ سال سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور حافظ سعید کو گرفتار بھی کیا گیا اور ان کے اور ان کے معاونین کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں یہ خبر بھی سننے میں آئی کہ ممبئی حملوں میں ملوث جن ملزموں کے خلاف پاکستان میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور جس کی کارروائی آگے ہی نہیں بڑھ رہی تھی اس میں بھی کچھ قدم آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں ۔وہاں سے ایک جوڈیشیل کمیشن گواہوں کے بیان ریکارڈ کر نے کے لئے ہندوستان عنقریب آنے والا ہے ۔بہر حال پاکستان نے اقوام متحدہ کی سینکشن کمیٹی کے ذریعہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کا جو حالیہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور جس کے بعد پاکستان نے اپنا نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس کے بارے میں بیشتر تجزیہ کاروں کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے سخت رویہ کے باعث خاصا پریشان ہے اور چاہتا ہے کہ کسی صورت وہ گرے لسٹ سے باہر آئے۔ پاکستا ن کے حالیہ نوٹیفکیشن میں ایک اہم اور اس اعتبار سے قابل ذکر بات یہ نظرآئی کہ داؤد ابراہیم کا پتہ کراچی کا وائٹ ہاؤس لکھا گیا ہے ۔ اس کا ایک پہلو یہ سامنے آیا کہ پہلی بار پاکستان کی طرف سے یہ اعتراف کیا گیا کہ وہ پاکستان میں ہے ۔ظاہر ہے پاکستان کو یہ بات شروع ہی سے معلوم تھی لیکن اس نے کبھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ جب بھی کہا گیا کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں مقیم ہے تو اسلام آباد کی طرف سے سختی سے اس بات کی تردید کی گئی اور اب اس کا پتہ بھی معلوم ہوا اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ کراچی میں اس کی کچھ اور املاک بھی ہیں۔ حالانکہ پاکستان کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم کا نام اور پتہ دے دینے سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہئے کہ پاکستان اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود ہے ۔ اگر یہ منطق مان لی جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟ پھر ایک بات یہ بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ابھی جو پتہ داود ابراہیم کا سامنے آیا ہے وہی پتہ اقوام متحدہ کی فہرست میں بھی درج تھا۔
در اصل اس طرح کی باتیں کر کے پاکستان خواہ مخواہ بات کو الجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایک ہی بات کی کہیں تردید کرنا اور کہیں اقرار کرنا ایک مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی ہے اور اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔پاکستان ویسے بھی ہر موقع پر ہر حقیقت کو جھٹلاتا رہا ہے ۔ مثلاً اسامہ بن لادن کے بارے میں اس نے ہمیشہ یہی تاثر دیا کہ اسے نہیں معلوم کہ اسامہ بن لادن کہاں چھپا ہوا ہے اور اس بات کی تو وہ سختی سے تردید کرتا رہا کہ وہ پاکستان ہی میں کہیں چھپا ہوا ہے ۔ لیکن جب یہ خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی کہ وہ نہ صرف پاکستان میں تھابلکہ وہاں کے ایک انتہائی حساس سیکورٹی کے اعتبار سے انتہائی اہم جگہ ایبٹ آباد کی ایک محفوظ بلڈنگ میں بڑے آرام کی زندگی بسر کر رہاتھا تو اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ امریکہ نے اس کا پتہ لگا ہی لیا کہ وہ ایبٹ آباد میں تھا اور امریکہ کے کمانڈروں نے اس کا کام تمام کر دیا۔اب اس بات کی تردید کرنا تو پاکستان کے بس کی بات نہیں تھی البتہ اس نے یہ ضرور کیا کہ اسامہ کا پتہ لگانے میں امریکی ایجنسی کا تعاون کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو لمبی مدت کے لئے جیل میں بند کر دیا۔ داؤد ابراہیم کے بارے میں بھی وہ شروع سے آخر تک یہی کہتا رہا کہ اسے اس کا کوئی علم نہیں ہے ۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے اب بھی وہ حقیقت پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا؟
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعہ دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں اور افراد پر پہلے بھی پابندی عائد کی جاتی رہی ہے لیکن ان کا کوئی خاص نتیجہ کبھی سامنے آتا نہیں دکھائی دیا کیونکہ ہمیشہ اندرون پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی یہی محسوس کیا گیا کہ پاکستانی حکمراں کبھی سنجیدہ نہیں رہے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی اصل وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے دہشت گردی جیسی لعنت کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک حصے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ بہر حال ایف اے ا ٹی ایف کے سخت اقدامات اور وارننگ کے باعث گذشتہ سال سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور حافظ سعید کو گرفتار بھی کیا گیا اور ان کے اور ان کے معاونین کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں یہ خبر بھی سننے میں آئی کہ ممبئی حملوں میں ملوث جن ملزموں کے خلاف پاکستان میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور جس کی کارروائی آگے ہی نہیں بڑھ رہی تھی اس میں بھی کچھ قدم آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں ۔وہاں سے ایک جوڈیشیل کمیشن گواہوں کے بیان ریکارڈ کر نے کے لئے ہندوستان عنقریب آنے والا ہے ۔بہر حال پاکستان نے اقوام متحدہ کی سینکشن کمیٹی کے ذریعہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کا جو حالیہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور جس کے بعد پاکستان نے اپنا نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس کے بارے میں بیشتر تجزیہ کاروں کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے سخت رویہ کے باعث خاصا پریشان ہے اور چاہتا ہے کہ کسی صورت وہ گرے لسٹ سے باہر آئے۔ پاکستا ن کے حالیہ نوٹیفکیشن میں ایک اہم اور اس اعتبار سے قابل ذکر بات یہ نظرآئی کہ داؤد ابراہیم کا پتہ کراچی کا وائٹ ہاؤس لکھا گیا ہے ۔ اس کا ایک پہلو یہ سامنے آیا کہ پہلی بار پاکستان کی طرف سے یہ اعتراف کیا گیا کہ وہ پاکستان میں ہے ۔ظاہر ہے پاکستان کو یہ بات شروع ہی سے معلوم تھی لیکن اس نے کبھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ جب بھی کہا گیا کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں مقیم ہے تو اسلام آباد کی طرف سے سختی سے اس بات کی تردید کی گئی اور اب اس کا پتہ بھی معلوم ہوا اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ کراچی میں اس کی کچھ اور املاک بھی ہیں۔ حالانکہ پاکستان کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ داؤد ابراہیم کا نام اور پتہ دے دینے سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہئے کہ پاکستان اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود ہے ۔ اگر یہ منطق مان لی جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟ پھر ایک بات یہ بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ابھی جو پتہ داود ابراہیم کا سامنے آیا ہے وہی پتہ اقوام متحدہ کی فہرست میں بھی درج تھا۔
در اصل اس طرح کی باتیں کر کے پاکستان خواہ مخواہ بات کو الجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایک ہی بات کی کہیں تردید کرنا اور کہیں اقرار کرنا ایک مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی ہے اور اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔پاکستان ویسے بھی ہر موقع پر ہر حقیقت کو جھٹلاتا رہا ہے ۔ مثلاً اسامہ بن لادن کے بارے میں اس نے ہمیشہ یہی تاثر دیا کہ اسے نہیں معلوم کہ اسامہ بن لادن کہاں چھپا ہوا ہے اور اس بات کی تو وہ سختی سے تردید کرتا رہا کہ وہ پاکستان ہی میں کہیں چھپا ہوا ہے ۔ لیکن جب یہ خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی کہ وہ نہ صرف پاکستان میں تھابلکہ وہاں کے ایک انتہائی حساس سیکورٹی کے اعتبار سے انتہائی اہم جگہ ایبٹ آباد کی ایک محفوظ بلڈنگ میں بڑے آرام کی زندگی بسر کر رہاتھا تو اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ تھا۔ پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ امریکہ نے اس کا پتہ لگا ہی لیا کہ وہ ایبٹ آباد میں تھا اور امریکہ کے کمانڈروں نے اس کا کام تمام کر دیا۔اب اس بات کی تردید کرنا تو پاکستان کے بس کی بات نہیں تھی البتہ اس نے یہ ضرور کیا کہ اسامہ کا پتہ لگانے میں امریکی ایجنسی کا تعاون کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو لمبی مدت کے لئے جیل میں بند کر دیا۔ داؤد ابراہیم کے بارے میں بھی وہ شروع سے آخر تک یہی کہتا رہا کہ اسے اس کا کوئی علم نہیں ہے ۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے اب بھی وہ حقیقت پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گا؟
Comments
Post a Comment