وزیراعظم کا خود انحصاری پر زور

وزیراعظم نریندر مودی نے یوم جمہوریہ کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم اپنی آبادی کے 75 ویں سال میں داخل ہورہے ہیں۔ آج ہمارے 130 کروڑ ہندوستانیوں کو آئندہ دو برسوں کے لئے ایک عہد کرنا ہوگا اور جب ہم آزادی کے 75 سال پورے کررہے ہوں گے تو اس وقت آج کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی خوشی بھی منا رہے ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے عظیم قربانیاں دیکر یہ آزادی حاصل کی ہے۔ ہمیں مادر وطن کی آزادی کے لئے دی گئی ان کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ غلامی کے ایک لمبے اور اندھیرے دور میں ان لوگوں نے ملک کی آزادی کی چاہت کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے دل سے نہیں نکالا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں عوامی بیداری کی تحریک شروع ہوئی، اس نے تحریک آزادی کو کافی تقویت بخشی۔ ہم آزادی کے ان متوالوں کے ممنون ہیں کہ انہیں کے باعث آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اور اس جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی منا رہے ہیں۔ بھارت اتحاد کی اپنی طاقت کے ساتھ جنگ آزادی میں سر اونچا کرکے آگے بڑھتا رہا اور اس نے عہد کررکھا تھا کہ وہ اپنے روشن مستقبل کے لئے آزادی حاصل کرکے ہی رے گا۔

کورونا وائرس کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس وبا کے درمیان 130 کروڑ ہندوستانیوں نے عہد کیا کہ وہ خود انحصار بنیں گے۔ آج ہر ہندوستانی کے ذہن میں خود انحصاری حاصل کرنے کی بات بس چکی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھی آتم نربھر بھارت کا خواب پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض لفظ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے 130 کروڑ لوگوں کے لئے ایک منتر بن چکا ہے۔

جناب نریندر مودی نے کہا کہ ہم اپنی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منانے سے محض ایک قدم دور ہیں۔ اس لئے بھارت جیسے ملک کے لئے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور خود انحصار بننا نہایت ضروری ہے۔ وزیراعظم نے یقین ظاہر کیا کہ ملک کا یہ خواب ضروری پورا ہوگا کیونکہ ہمارے شہریوں میں اس خواب کو پورا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں اور خواتین میں موجود صلاحیتوں پر بھی اعتماد ظاہر کیا اور کہا کہ یہ اپنی طاقت اور صلاحیت سے خود انحصاری کے مقصد کو آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے جب کبھی بھی کچھ حاصل کرنے کا عہد کیا ، اسے وہ حاصل کرکے ہی رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ‘‘ساری دنیا ایک کنبہ ہے’’ کے اصول کا ہمیشہ پیرو رہا ہے۔ ویدوں کا کہنا ہے کہ ‘‘وسودھیو کٹمبکم’’ اور ونوبا بھوے جی کہا کرتے تھے ‘‘جے جگت’’۔ اس طرح ہمارے لئے ساری دنیا ایک کنبے کی طرح ہے۔ اس لئے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ فلاح انسانیت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔اور ہم اس اصول کی آج بھی پیروی کررہے ہیں۔

آج تمام دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تمام ممالک ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ اس لئے بھارت جیسے عظیم ملک کے عالمی معیشت میں اپنے کردار میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے لئے بھارت کا خود انحصار بننا بھی ضروری ہے۔ ہم خود انحصار ہوں گے تبھی ہم دنیا کے لئے کچھ کرنے کے لائق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری جڑیں مضبوط ہوں گی اور ہم طاقتور ہوں گے تو دنیا کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کرنے کے لائق ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے پاس وافر مقدار میں قدرتی وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آخر کب تک دنیا کو کچا مال سپلائی کرتے رہیں گے اور دوسرے ممالک انہیں خام مال سے مصنوعات تیار کرکے ہمیں بیچتے رہیں گے۔ ہمیں خود اس لائق ہونا چاہیے کہ ہم اپنے خام مال سے دنیا کی ضرورت کے مطابق خود مصنوعات تیار کریں۔ ہمیں جلد از جلد دوسرے پر انحصار کرنا ختم کرنا پڑے گا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک نئی نئی پہل کررہا ہے۔ ہم نے خلاء کے شعبہ کو دوسروں کے لئے کھول دیا ہے۔ اس شعبے میں نوجوانوں کو موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم خلاء کے شعبہ میں طاقتور ہوجائیں گےتو اس سے ہمارے پڑوسیوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اگر ہم توانائی کے شعبہ میں طاقتور بن جاتے ہیں تو ہم ان ملکوں کی تاریکی دور کرسکتے ہیں، جو اس کا شکار ہیں۔ اگر ہم صحت کے شعبہ میں طاقتور بن جاتے ہیں تو دوسرے ممالک کے لوگ علاج معالجہ کے لئے بھارت کو ترجیح دیں گے۔ اس لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ‘‘میک ان انڈیا’’ کے تحت تیار کی گئیں مصنوعات عالمی معیار کی ہیں تاکہ دنیا انہیں قبول کرکے ان کی تعریف کرسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ گواہ ہےکہ ایک دور ایسا بھی تھا جب ہمارے دستکاروں کے ذریعہ تیار کی گئی مصنوعات کی دنیا بھر میں تعریف ہوتی تھی۔ ہمیں دوبارہ وہی مقام حاصل کرنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ