پاک حکومت سے زیادہ طاقتور پاک فوج کیوں؟
جمہوری نظام ان ملکوں میں کامیاب نہیں ہو پاتا جہاں فوج حکومت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی فوج شروع سے ہی حکومت سے زیادہ طاقتور رہی ہے۔ اسی لیے وہاں جمہوریت کبھی پروان نہیں چڑھ سکی۔ جمہوریت پسند لوگ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریکیں چلاتے رہے ہیں۔ ایک سے زائد بار انتخابات ہوئے، جمہوری طریقے سے حکومتیں منتخب ہوئیں، جمہوریت پسند لوگوں کو یہ امید بندھی کہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔
قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں سے ہی یہ بات نظر آنے لگی تھی کہ اس کے فوجی سربراہ زیادہ طاقتور ہیں، حکومت اورفوج میں رسہ کشی رہے گی۔ دھیرے دھیرے یہ بات عام لوگوں کی فہم سے بالاتر نہیں رہی کہ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت اگر حکومت سازی میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو بظاہر ہی وہ حکمراں جماعت رہے گی، اصل میں حکومت فوج کی ہی رہے گی۔ اسی لیے یہ بات کہی جاتی رہی کہ پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے میں کامیابی منتخب حکومت کے چاہنے سے نہیں ملے گی، دہشت گردی تبھی ختم ہوگی جب پاک فوج چاہے گی مگر سوال یہ ہے کہ فوج ایسا کیوں چاہے گی؟ اس سوال کا جواب نہیں تلاش کیا جا سکا، چنانچہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ بھی نہیں ہو سکا۔ ایسی صورت میں یہ بات ناقابل فہم نہیں رہ جاتی کہ وزیراعظم عمران خان کے دہشت گردی مخالف جنگ میں پرخلوص ہونے اور پاکستان کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی باتیں کرنے سے کیا ہوگا۔ پاکستان کی اقتصادیات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی، پاکستان بیرونی سرمایہ کاروں کو اس وقت تک متوجہ نہیں کر سکتا جب تک وہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا اور ایسا اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک فوج منتخب حکومت سے زیادہ طاقتور رہے گی۔
یوں تو پاک فوج کا رعب و داب شروع سے ہی پاکستان میں رہا ہے لیکن اس میں حیرت انگیز اضافہ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کی باگ ڈور ہاتھ میں لینے کے بعد ہوا۔ جنرل ضیاء نے اپنے استحکام کے لیے ان اداروں میں بھی فوج کا عمل دخل بڑھا دیا جو کسی حد تک یا بڑی حد تک فوج کے اثر و رسوخ سے پاک سمجھے جاتے تھے، چنانچہ یہ فہم سے بالاتر نہیں تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے جانے کے بعد بھی پاکستان میں حکومت کے مقابلے فوج کی طاقت کم نہیں ہوگی۔ گرچہ بعد کے سالوں میں طاقتور لیڈروں کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ فوج کی طاقت کم ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ جمہوری طریقے سے حکومت کرنے کا نتیجہ لیڈروں کو بھگتنا پڑا۔ اس سلسلے میں میاں نواز شریف کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ میاں صاحب سے اقتدار کی باگ ڈور جنرل پرویز مشرف نے اس وقت چھینی تھی، انہیں اس وقت جلا وطن ہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا جب وہ طاقتور نظر آرہے تھے۔
جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے ہٹانے اور جمہوریت بحال کرنے کے لیے پاکستان کے لوگوں نے بڑی جدوجہد کی، بڑی قربانیاں دیں، انتخابات ہوئے، حکومت منتخب کی گئی لیکن اس سوال کی اہمیت برقرار رہی کہ کیا پاکستان میں جمہوریت بحال ہو جائے گی؟ فوج سے زیادہ حکومت طاقتور ہو جائے گی؟ ظاہر ہے، ان سوالوں کے جواب نفی میں تھے اور یوں ہی نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی مگر اہم مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب میاں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے کے لیے حلف لینے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک ٹریفک پولیس نے سٹی بجاکر ان کے قافلے کو روک دیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا، جنرل اشفاق پرویز کیانی کی گاڑیوں کا قافلہ آرہا ہے۔ پہلے وہ گزرے گا، پھر میاں صاحب کے قافلے کو گزرنے دیا جائے گا۔
پاکستان کے منتخب لیڈران یہ دکھاتے رہے ہیں کہ وہ طاقتور ہیں لیکن وقت نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت فوج کے پاس ہے۔ اس سے زیادہ کسی لیڈر کا طاقتور ہو جانا آسان نہیں، کیونکہ پاکستان اقتصادی طور پر پسماندہ ہے مگر اس کی فوج کے بڑے عہدیداروں کے پاس دولت کا انبار ہے۔ اس سلسلے میں ایک مثال پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی ہے۔ وہ اس وقت وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے تحریری طور پر یہ کہا تھا کہ پاکستان کے باہر ان کا بزنس نہیں لیکن صحافی احمد نورانی نے ’فیکٹ فوکس‘نامی ویب سائٹ پر ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’عاصم باجوہ کے بھائی، اہلیہ اور بچوں کی 4 ممالک میں 99 کمپنیاں، ایک سو تیس سے زیادہ فعال فرینچائزریسٹورنٹس اور 13 کمرشیل جائیدادیں ہیں۔‘
مرحومہ عاصمہ جہانگیر صحیح کہتی تھیں کہ ’جب جرنیلوں کی کرپشن کی تحقیقات ہوں گی تو باقی لوگ فرشتے نظر آئیں گے۔‘
قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں سے ہی یہ بات نظر آنے لگی تھی کہ اس کے فوجی سربراہ زیادہ طاقتور ہیں، حکومت اورفوج میں رسہ کشی رہے گی۔ دھیرے دھیرے یہ بات عام لوگوں کی فہم سے بالاتر نہیں رہی کہ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت اگر حکومت سازی میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو بظاہر ہی وہ حکمراں جماعت رہے گی، اصل میں حکومت فوج کی ہی رہے گی۔ اسی لیے یہ بات کہی جاتی رہی کہ پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے میں کامیابی منتخب حکومت کے چاہنے سے نہیں ملے گی، دہشت گردی تبھی ختم ہوگی جب پاک فوج چاہے گی مگر سوال یہ ہے کہ فوج ایسا کیوں چاہے گی؟ اس سوال کا جواب نہیں تلاش کیا جا سکا، چنانچہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ بھی نہیں ہو سکا۔ ایسی صورت میں یہ بات ناقابل فہم نہیں رہ جاتی کہ وزیراعظم عمران خان کے دہشت گردی مخالف جنگ میں پرخلوص ہونے اور پاکستان کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی باتیں کرنے سے کیا ہوگا۔ پاکستان کی اقتصادیات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی، پاکستان بیرونی سرمایہ کاروں کو اس وقت تک متوجہ نہیں کر سکتا جب تک وہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا اور ایسا اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک فوج منتخب حکومت سے زیادہ طاقتور رہے گی۔
یوں تو پاک فوج کا رعب و داب شروع سے ہی پاکستان میں رہا ہے لیکن اس میں حیرت انگیز اضافہ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کی باگ ڈور ہاتھ میں لینے کے بعد ہوا۔ جنرل ضیاء نے اپنے استحکام کے لیے ان اداروں میں بھی فوج کا عمل دخل بڑھا دیا جو کسی حد تک یا بڑی حد تک فوج کے اثر و رسوخ سے پاک سمجھے جاتے تھے، چنانچہ یہ فہم سے بالاتر نہیں تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے جانے کے بعد بھی پاکستان میں حکومت کے مقابلے فوج کی طاقت کم نہیں ہوگی۔ گرچہ بعد کے سالوں میں طاقتور لیڈروں کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ فوج کی طاقت کم ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ جمہوری طریقے سے حکومت کرنے کا نتیجہ لیڈروں کو بھگتنا پڑا۔ اس سلسلے میں میاں نواز شریف کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ میاں صاحب سے اقتدار کی باگ ڈور جنرل پرویز مشرف نے اس وقت چھینی تھی، انہیں اس وقت جلا وطن ہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا جب وہ طاقتور نظر آرہے تھے۔
جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے ہٹانے اور جمہوریت بحال کرنے کے لیے پاکستان کے لوگوں نے بڑی جدوجہد کی، بڑی قربانیاں دیں، انتخابات ہوئے، حکومت منتخب کی گئی لیکن اس سوال کی اہمیت برقرار رہی کہ کیا پاکستان میں جمہوریت بحال ہو جائے گی؟ فوج سے زیادہ حکومت طاقتور ہو جائے گی؟ ظاہر ہے، ان سوالوں کے جواب نفی میں تھے اور یوں ہی نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی مگر اہم مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب میاں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے کے لیے حلف لینے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک ٹریفک پولیس نے سٹی بجاکر ان کے قافلے کو روک دیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا، جنرل اشفاق پرویز کیانی کی گاڑیوں کا قافلہ آرہا ہے۔ پہلے وہ گزرے گا، پھر میاں صاحب کے قافلے کو گزرنے دیا جائے گا۔
پاکستان کے منتخب لیڈران یہ دکھاتے رہے ہیں کہ وہ طاقتور ہیں لیکن وقت نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت فوج کے پاس ہے۔ اس سے زیادہ کسی لیڈر کا طاقتور ہو جانا آسان نہیں، کیونکہ پاکستان اقتصادی طور پر پسماندہ ہے مگر اس کی فوج کے بڑے عہدیداروں کے پاس دولت کا انبار ہے۔ اس سلسلے میں ایک مثال پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی ہے۔ وہ اس وقت وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے تحریری طور پر یہ کہا تھا کہ پاکستان کے باہر ان کا بزنس نہیں لیکن صحافی احمد نورانی نے ’فیکٹ فوکس‘نامی ویب سائٹ پر ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’عاصم باجوہ کے بھائی، اہلیہ اور بچوں کی 4 ممالک میں 99 کمپنیاں، ایک سو تیس سے زیادہ فعال فرینچائزریسٹورنٹس اور 13 کمرشیل جائیدادیں ہیں۔‘
مرحومہ عاصمہ جہانگیر صحیح کہتی تھیں کہ ’جب جرنیلوں کی کرپشن کی تحقیقات ہوں گی تو باقی لوگ فرشتے نظر آئیں گے۔‘
Comments
Post a Comment