بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے اسٹریٹجک تعلقات
بھارت اور متحدہ عرب امارات کا امن و خوشحالی کے لئے ایک وژن ہے اور وزیراعظم نریندر مودی اور ولیعہد شہزادہ محمد بن زید النہیان کی قیادت میں دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع،سیکیورٹی، تعلیم، ثقافت اور سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لئے کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ فریقین نے مشترکہ کمیشن میٹنگوں جیسے دو طرفہ میکینزم کے ذریعہ اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک پارٹنر شپ تک لے جانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
حال ہی میں تجارت، معاشی اور تکنیکی تعاون کے بارے میں ہند۔متحدہ عرب امارات مشترکہ کمیشن کی میٹنگ کا 13 واں ورچوول اجلاس ہوا جس کی صدارت بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور متحدہ عرب امارات کے ان کے ہم منصب عبداللہ بن زید النہیان نے مشترکہ طور پر کی۔ کووڈ۔ 19 وبا کے باعث مشترکہ کمیشن کی پہلی بار ورچوول میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے خیالات ساجھا کرنے کے جذبے کا اظہار کیا تاکہ دوطرفہ تعاون کو فروغ حاصل ہوسکے۔
دونوں ممالک کورونا وائرس جیسی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے مل کر کام کررہے ہیں۔ اپریل میں بھارت نے کووڈ۔ 19 کے مریضوں کے علاج کے لئے ہائڈروکسی کلوروکوین کی پانچ اعشاریہ پانچ ملین گولیاں متحدہ عرب امارات ارسال کی تھی۔ اس کے بعد مئی میں بھارت نے 88 نرسیں روانہ کیں تاکہ وہ متحدہ عرب امارات کے اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں مریضوں کی خدمت کرسکیں۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی جانب سے سات میٹرک ٹن کی میڈیکل سپلائی بھارت کو موصول ہوئی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ولیعہد شہزادہ محمد سمیت دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ٹیلی فون پر بات کرکے کورونا وائرس کی وبا سے مقابلہ کرنے کے لئے کی جارہی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں دونوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں بھی بات چیت کی۔
مشترکہ کمیشن میٹنگ کے دوران فریقین نے گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران اس عالمی وبا سے مقابلہ کرنے میں قریبی تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا کہ کووڈ۔ 19 سے پیدا ہونے والے سماجی اور معاشی اثرات سے کیسے نمٹا جائے۔ اس وبا کے باعث تمام دنیا میں معاشی اور تجارتی سرگرمیاں منقطع سی ہوگئی ہیں لہذا ان سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے نئے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ بات چیت کافی اہمیت کی حامل ہے۔
میٹنگ میں ان تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جن کی نشاندہی جامع اسٹریٹجک پارٹنر شپ میں کی گئی ہے۔ دونوں ملکوں نے موجودہ شعبوں میں تعاون جاری رکھتے ہوئے تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی سے بھی اتفاق کیا۔ مشترکہ کمیشن میٹنگوں کے اختیارات کے تحت فریقین نے پانچ ذیلی کمیٹیاں قائم کی ہیں جو معیشت، تجارت،سرمایہ کاری، دفاع، سیکیورٹی،تعلیم، ثقافت اور سفارتی و کمیونٹی کے معاملات پر اعلی سطحی تبادلے کرنے پر تبادلہ خیال کریں گی۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات سے ان ذیلی کمیٹیوں کے ارکان نے ورچوول میٹنگ کرکے مشترکہ کمیشن میٹنگ کی تیاری کی تھی جس میں کھلے اور دوستانہ ماحول میں تبادلہ خیال ہوا۔
اس میٹنگ میں جنوبی اور مغربی ایشیا میں رونما ہونے والے واقعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی بات چیت کی کہ اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی اداروں میں ایک دوسرے سے کیسے تعاون کیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ دونوں ہی ممالک مغربی ایشیا میں بھارت کے قریب ترین اسٹریٹجک پارنٹر ہیں۔
یہ بات دیکھی گئی ہے کہ بھارت کا نام بدنام کرنے کے لئے پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم جیسے فورم کو ہمیشہ یرغمال بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میٹنگ کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ بات تسلیم کی کہ متحدہ عرب امارات نے ہر فورم میں بھارت کی حمایت کی ہے خواہ وہ اسلامی تعاون تنظیم ہی کیوں نہ ہو۔ وزیر موصوف نے یہ بھی ماناکہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے کووڈ۔ 19 کی وجہ سے وہاں پھنسے ہندوستانیوں کو تمام امداد فراہم کی ہے۔
حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات بھارت کا دنیا میں تیسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور یہاں سے بھارت میں کافی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ جس طرح سے آج دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے، اسی طرح مستقبل میں بھی یہ تعاون نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اسے نئی اونچائیوں تک لے جانے کی کوششیں کی جائیں گی۔
Comments
Post a Comment