گلوان میں چینی فوجیوں کی ہلاکت کے ثبوت
جب دو ملکوں کے سرحدی علاقوں میں کوئی ٹکراؤ یا جھڑپ ہوتی ہے تو قدرتی طور پر دونوں طرف سپاہیوں کی جانوں کا زیاں بھی ہوتا ہے اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی بات ہوتی ہے۔ چین اور ہندوستان ایشیا کے دو بڑے ملک ہیں اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں پڑوسی ملک ہیں۔ ہندوستان اور چین کے تعلقات گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی میں بہت خراب تھے اور ایک لمبے عرصے تک یہ دونوں پڑوسی ایک دوسرے سے کافی دور رہے ہیں۔ لیکن بہر حال دونوں ملکوں کی قیادت نے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہندوستان چونکہ اس بات کا ہمیشہ سے قائل رہا ہے کہ دوست تو بدلے بھی جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے ۔ اسی لئے وہ تمام پڑوسیوں سے کھلے دل سے بہتر تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں رہا ہے۔ چین سے ہر چند کہ کچھ سرحدی تنازعات موجود ہیں پھر بھی ان تنازعات کی بنیاد پر آپسی تعاون اور اشتراک کے اقدام میں رکاوٹ ڈالنا اور بہتر تعلقات کے سارے دروازے بند کرنا دانشمندی کی بات نہیں ہوتی۔ اسی خیال سے ہندوستان نے تجارت اور دوسرے شعبوں میں تعاو ن کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حالیہ برسوں میں یہ کوششیں تیز تر ہوئی تھیں۔ ہندوستان یہ سب کچھ اچھی نیت اور نیک ارادوں سے کرتا رہا ہے۔ تاریخ کے کسی بھی دور میں ہندوستان نے کسی بھی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ نہ تو وہ خود توسیع پسندی کا قائل ہے اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ کوئی اور ملک اس طرح کی منفی سوچ کا حامل ہو۔ سواچھی نیت اور اچھے ارادوں کے ساتھ ہند-چین تعلقات بھی آگے بڑھ رہے تھے لیکن کچھ حالیہ واقعات نے چین کی نیت اور ارادوں کو بے نقاب کردیا۔ اس نے مشرقی لداخ کے آس پاس لائن آف ایکچوول کنٹرول کا احترام کرنے کی اسپرٹ کوٹھیس پہنچائی جس سے ہندوستان کے اعتماد کو بھی شدید دھکا لگا۔ ہندوستان کے بہتر تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کے جذبے کو اگر اس نے کمزوری سمجھ لیا تو اس کی یہ بہت بڑی بھول ہے۔ وادی گلوان میں 14 اور 15 جون کی درمیانی رات کو دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ہندوستان کے 20 جاں باز فوجی شہید ہوئے لیکن چینی فوجی بھی ہندوستانی سپاہیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ظاہر ہے جو جوان یا افسر وہاں تعینات تھے وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے تعینات تھے۔ ہندوستانی فوج کے پاس چینی فوجیوں کی ہلاکت کے پورے شواہد موجود ہیں لیکن ہندوستانی فوج عام طور سے اس طرح کی ہلاکتوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ بہر حال چین نے سرکاری سطح پر تو یہ اعتراف نہیں کیا ہے کہ حالیہ جھڑپ میں اس کے فوجی مارے گئے لیکن ایک چینی سپاہی کی قبر کے پتھر کی تصویر چین کے سوشل میڈیا پر گشت کررہی ہے جو چینی فوجیوں کی ہلاکت کا ثبوت مہیا کرتی ہے۔ جو تفصیل سامنے آئی ہے اس کے مطابق منڈرین میں جس چینی فوجی کی قبر ہے اس کے پتھر پر لکھا ہوا ہے کہ ‘‘یہ شہید چن شیانگ رانگ کی قبر ہے جو جنوبی شن جیانگ ملٹری ڈسٹرک کی 69316 یونٹ کا سپاہی تھا۔’’ یاد رہے کہ یہ یونٹ چائنیز پیپلز لبریشن آرمی کا ہی تیرہویں ریجیمنٹ کا ایک حصہ ہے۔ قبر کے پتھر پر یہ بھی لکھا ہے کہ ‘‘دسمبر 2001 کو چین کے فوجیان صوبے میں پیدا ہونے والے اس جوان نے جون 2020 میں ہندوستان کے سرحدی علاقے میں اپنی جان قربان کی’’۔ یعنی یہ ایک باقاعدہ ثبوت ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ چینی فوجی مارے گئے تھے۔ اگرچہ چین نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے۔ تاہم ہندوستانی میڈیا کے ایک حلقے نے یہ رپورٹ دی تھی کہ چین کے متعدد فوجیوں کے ساتھ چینی فوج کا ایک کمانڈنگ افسر بھی مارا گیا تھا۔
گلوان ندی کے جنوب میں جو جھڑپ ہوئی تھی اس کے فوراً بعد ہندوستانی فوج نے کہا تھا کہ دونوں طرف ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اپنی فوج کی 20 سپاہیوں کی شہادت کی بات بھی کہی گئی تھی جن میں 16 بہادر انفنٹری ریجیمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل بی سنتوش بابو بھی شامل تھے۔ ہندوستان کے دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب چین کے ہلاک ہونے والے جوان کی قبر کا پتھر تصویروں میں دکھایا گیا تو چین کے مائکرو بلاگنگ سائٹ اور ایپ یعنی ویبو پر بحث بھی ہوئی تھی پھر بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ چین نے سرکاری سطح پر اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کیا۔ دوسرے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ویبو پوسٹ نے بھی جس میں یہ تصویر لیک ہوئی تھی یہی کہا تھا کہ قبر کا وہ پتھر 15 اگست کو نصب کیا گیا تھا۔ یہ وہی وقت رہا ہوگا جب دونوں ملکوں کی فوجی سطح کی بات چیت بد دلی پر ختم ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ 14 کور کمانڈر لفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور چین کی طرف سے شن جیانگ ملٹری ڈسٹرک کے میجر جنرل لیولن نے سرحد کے میٹنگ پوائنٹ پر میٹنگ کی تھی۔ ہندوستان کے فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ چین کے سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی تصویر سے ہم نے پہلی بار یہ اندازہ کیا ہے کہ چین کی طرف بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ یہ بات تو ہم پہلے بھی جانتے تھے لیکن ایک ذمہ دار ملک ہونے کے باعث ہم اپنی طرف ہونے والی شہادت کو ہمیشہ تسلیم کرتے ہیں لیکن کسی بھی سرحدی علاقے میں ہونے والی ہلاکتوں اور دوسرے واقعات کی تفصیل بتانے اور ان پر تبصرہ کرنے سے ہم گریز کرتے ہیں۔
بہر حال ہند چین رشتوں میں حالیہ دنوں میں جو دراڑ آئی ہے اس کی ذمہ داری پوری طرح چین پر عائد ہوتی ہے۔ اس نے ہندوستان کے اشتراک و تعاون کے جذبے کو اگر کوئی کمزوری سمجھ لیا ہے یا یہ سمجھ لیا ہے کہ ہندوستان کے کسی حلقے میں دراندازی کرکے وہ نکل جائے گا اور ہندوستان اس کا کوئی نوٹس نہیں لے گا تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ہندوستان بلا شبہ مفاہمت کے ماحول اور بہتر رشتوں کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر کوئی ملک یہ چا ہے کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مفاہمت کی آڑ میں اسے دھوکہ دے گا یا اس کی علاقائی سالمیت کو کسی طور پر نقصان پہنچائے گا تو اسے ہندوستان معقول جواب دینا جانتا ہے۔ بڑھتے ہوئے تجارتی نیٹ ورک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت یا ٹیکنالوجی کے فروغ کے باعث کسی میں رعونت آجاتی ہے تو اس کا زوال بھی قریب آنے میں دیر نہیں لگتی۔
گلوان ندی کے جنوب میں جو جھڑپ ہوئی تھی اس کے فوراً بعد ہندوستانی فوج نے کہا تھا کہ دونوں طرف ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اپنی فوج کی 20 سپاہیوں کی شہادت کی بات بھی کہی گئی تھی جن میں 16 بہادر انفنٹری ریجیمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل بی سنتوش بابو بھی شامل تھے۔ ہندوستان کے دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب چین کے ہلاک ہونے والے جوان کی قبر کا پتھر تصویروں میں دکھایا گیا تو چین کے مائکرو بلاگنگ سائٹ اور ایپ یعنی ویبو پر بحث بھی ہوئی تھی پھر بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ چین نے سرکاری سطح پر اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کیا۔ دوسرے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ویبو پوسٹ نے بھی جس میں یہ تصویر لیک ہوئی تھی یہی کہا تھا کہ قبر کا وہ پتھر 15 اگست کو نصب کیا گیا تھا۔ یہ وہی وقت رہا ہوگا جب دونوں ملکوں کی فوجی سطح کی بات چیت بد دلی پر ختم ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ 14 کور کمانڈر لفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور چین کی طرف سے شن جیانگ ملٹری ڈسٹرک کے میجر جنرل لیولن نے سرحد کے میٹنگ پوائنٹ پر میٹنگ کی تھی۔ ہندوستان کے فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ چین کے سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی تصویر سے ہم نے پہلی بار یہ اندازہ کیا ہے کہ چین کی طرف بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ یہ بات تو ہم پہلے بھی جانتے تھے لیکن ایک ذمہ دار ملک ہونے کے باعث ہم اپنی طرف ہونے والی شہادت کو ہمیشہ تسلیم کرتے ہیں لیکن کسی بھی سرحدی علاقے میں ہونے والی ہلاکتوں اور دوسرے واقعات کی تفصیل بتانے اور ان پر تبصرہ کرنے سے ہم گریز کرتے ہیں۔
بہر حال ہند چین رشتوں میں حالیہ دنوں میں جو دراڑ آئی ہے اس کی ذمہ داری پوری طرح چین پر عائد ہوتی ہے۔ اس نے ہندوستان کے اشتراک و تعاون کے جذبے کو اگر کوئی کمزوری سمجھ لیا ہے یا یہ سمجھ لیا ہے کہ ہندوستان کے کسی حلقے میں دراندازی کرکے وہ نکل جائے گا اور ہندوستان اس کا کوئی نوٹس نہیں لے گا تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ہندوستان بلا شبہ مفاہمت کے ماحول اور بہتر رشتوں کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر کوئی ملک یہ چا ہے کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مفاہمت کی آڑ میں اسے دھوکہ دے گا یا اس کی علاقائی سالمیت کو کسی طور پر نقصان پہنچائے گا تو اسے ہندوستان معقول جواب دینا جانتا ہے۔ بڑھتے ہوئے تجارتی نیٹ ورک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت یا ٹیکنالوجی کے فروغ کے باعث کسی میں رعونت آجاتی ہے تو اس کا زوال بھی قریب آنے میں دیر نہیں لگتی۔
Comments
Post a Comment