ہیومن رائٹس واچ کا پاکستان سے مطالبہ، احتساب بیورو کی غیرقانونی سرگرمیوں پر لگے روک
جب سرکاری سطح پر کوئی حکومت یہ فیصلہ کرے کہ وہ اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز پر روک لگائے گی، اپنے تمام مخالفین کو جیل بھیجے گی اور انھیں اذیتیں دے گی، بغیر کسی ثبوت کے کسی کے خلاف بدعنوانی کا الزام لگاکر اس کی زندگی اور کریئر برباد کردے گی تو پھر بھلا اس ملک میں کوئی انصاف مانگنے کہاں جاسکتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے یہی سب کچھ ہورہا ہے۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر نے ایک آرڈیننس جاری کرکے باقاعدہ انسانی حقوق کی پامالی کرنے اور حکومت کی تنقید کرنے والوں کی زندگی برباد کرنے کیلئے ایک ادارہ قائم کیا جو قومی احتساب بیورو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1999 میں قائم کیا جانے والا یہ ادارہ تب سے اب تک لگاتار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا رہا ۔ اس کا آرڈیننس تو فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے جاری کیا تھا لیکن اس کی سرگرمیوں پر روک کسی بھی حکومت کے زمانے میں نہیں لگی اور نہ ہی اس کا کردار بدلا۔ عدلیہ نے بھی کبھی ازخود اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں بطور خاص عمران خان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس کے سیاہ کارناموں میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا اور اس کے بعض فیصلوں کا بہت سختی سے نوٹس لیا گیا۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کی سپریم کورٹ کی اس اہم رولنگ(Ruling) کے بعد نہ صرف اندرونِ پاکستان قومی احتساب بیورو کے خلاف ہرطرف صدائے احتجاج بلند ہوئی بلکہ انسانی حقوق سے جڑی بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی پریس نے بھی اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
دراصل گزشتہ 20 جولائی کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے 87 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ قومی احتساب بیورو نے صاف ستھرے انداز سے مقدمہ چلائے جانے اور ضابطے کی کارروائی کرنے کی راہ میں نہ صرف رکاوٹ ڈالی ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں بھی اڑائی ہیں۔ دراصل سپریم کورٹ یہ رولنگ دو اپوزیشن سیاست دانوں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی گرفتاری کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے دی تھی اور کہا تھا کہ احتساب بیورو کی کارروائی، کسی کی آزادی کو غیرقانونی طور پر چھیننے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل جیسی پاکستانی وکلاء کی منتخب تنظیموں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور قومی احتساب بیورو کی یہ کہہ کر تنقید کی کہ یہ ادارہ سیاسی مخالفین سے بدلہ لینے اور انھیں اذیتیں دینے کے اوزار کے طو پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی سال فروری کے مہینہ میں وکلاء کی ان دونوں تنظیموں نے احتساب بیورو کی ، اس لئے سخت مذمت کی تھی کہ اس نے ایک اپوزیشن لیڈر بلاول بھٹو کے خلاف سمن جاری کئے تھے۔ وکیلوں کی ان سرگرم تنظیموں نے شروع ہی سے احتساب بیورو کی کارروائیوں کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیا اور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے والے ادارے کا نام دیا تھا۔ مارچ کے مہینہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی قومی احتساب بیورو کے بارے میں یہ رولنگ دی تھی کہ لوگوں کو گرفتار کرنے کیلئے اپنے اختیار کا اس نے بیجا استعمال کیا جو انتقامی کارروائیوں کے مترادف تھا۔ جب ایک آرڈیننس کے ذریعہ جنرل مشرف نے اس کی تشکیل کی تھی تو اسے لوگوں کو گرفتار کرنے کے بے روک اور لامحدود اختیار دیئے تھے۔ کسی بھی شخص کو اس آرڈیننس کے تحت بغیر کسی الزام کے 90 دن تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے اسی اختیار پر سپریم کورٹ نے سب سے زیادہ اعتراض کیا ہے کہ اس اختیار کا اتنا غلط استعمال ہوا کہ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کی آواز دبانے اور انھیں پریشان کرنے کا ایک اوزار تلاش کرلیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے اتنی سخت تنقید جوا حتساب بیورو کی کی ہے تو اس کے پیچھے معقول وجوہ بھی رہی ہوں گی۔ یہاں مختصراً کچھ معاملات کا ذکر کیا جاسکتا ہے جس سے احتساب بیورو یا NAB کی نیت اور اراروں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس کے اشارے پر یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ بات نہ صرف پاکستان کی بلکہ پوری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے حلقوں کو معلوم ہے کہ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی آزادی بڑی بے دردی سے چھینی جارہی ہے اور اخباروں اور میڈیا گروپ کے مالکان اور صحافیوں کو مختلف انداز سے پریشان کیا جارہا ہے۔ انھیں ڈرانے اور دھمکانے کیلئے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ جنگ گروپ ہے جو آج کل حکومت کے خاص نشانے پر ہے۔ اس گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن کو احتساب بیورو نے 12مارچ کو لاہور میں گرفتار کیا۔ تب سے اب تک وہ احتساب بیورو کی حراست میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں 34 سال پہلے کسی جائداد کے لین دین کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ احتساب بیورو کی بدعنوانی اور بدنیتی کی اس سے بھونڈی اور شرمناک مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟
اپوزیشن کو بے وجہ پریشان کرنے کی ایک دوسری مثال دیکھے۔ NAB کی عدالت نے سابق صدر پاکستان اور اپوزیشن لیڈر آصف علی زرداری کو سمن بھیج کر عدالت میں بہ نفس نفیس آکر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے کہا۔ حالانکہ انھوں نے یہ درخواست کی کہ ویڈیو کے رابطے کے ذریعہ ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے کیونکہ ان کی صحت بھی خراب ہے اور کووڈ۔19 کا قہر بھی جاری ہے لیکن ان کی درخواست رد کردی گئی ۔ یاد رہے کہ زرداری پہلے ہی 11 سال کی سزا کاٹ چکے ہیں جس کا نصف حصہ خود احتساب بیورو کی حراست میں گزارا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انھیں کوئی سزا بھی نہیں سنائی گئی تھی۔ صرف میڈیا والے،بلاگرز اور ہیومن رائٹس ایکٹی وسٹ ہی احتساب بیورو کا نشانہ نہیں بنتے بلکہ مصنف، آرٹسٹ، دانشور اور صاحب رائے لوگ بھی اکثر زد میں آجاتے ہیں کیونکہ وہ کسی مصلحت کے تحت اپنی آزاد رائے کا اظہار کرنا اپنا جمہوری اور اخلاقی حق تصور کرتے ہیں۔ دسمبر 2018 میں سرگودھا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر میاں جاوید احمد کی احتساب بیورو میں حراست کے دوران ہی موت واقع ہوگئی تھی۔ یونیورسٹیوں سے وابستہ لوگ اگر طلبا، طالبات میں سوال کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں یا انھیں انسانی اور جمہوری حقوق سے آشنا کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو کسی بھی عنوان سے انھیں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو احتساب بیورو نے اس الزام میں گرفتار کیا تھا کہ انہوں نے غیرقانونی طور پر کچھ لوگوں کو اسٹاف میں بحال کیا تھا۔ انھوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ NAB کے حراستی مرکز ٹارچر سیل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ بہرحال یہ ہے ریکارڈ پاکستان کے احتساب بیورو کا!
ہیومن رائٹس واچ نے سپریم کورٹ کی رولنگ کے بعد یہ پرزور آواز اٹھائی ہے کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق کے معاملے میں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھائیں اور احتساب بیورو جیسے بدنام زمانہ ادارے کو پارلیمنٹ کے ذریعہ ختم کرائیں۔
Comments
Post a Comment