موضوع: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط ہوتے رشتے

خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا حال ہی میں بنگلہ دیش کےدو روزہ دورےپر تھے۔ وہ اپنے ساتھ وزیراعظم شیخ حسینہ کیلئے وزیراعظم نریندرمودی کا پیغام لے کر گئے تھے۔ ہوائی اڈے پر جناب شرنگلا کا استقبال کرنےکیلئے شیخ حسینہ خود موجود تھیں۔ کووڈ۔19 وبا پھیلنے کے بعد جناب شرنگلا پہلے غیرملکی مہمان تھے جن کا وزیراعظم شیخ حسینہ نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ اس سےقبل کورونا وائرس کے باعث دونوںملکوں کے درمیان تبادلۂ خیال ورچوول میٹنگوں کے ذریعہ ہی ہورہا تھا۔ اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ کووڈ۔19 کے باعث جنوبی ایشیاء کے ملکوں کی معیشت کا حال اچھا نہیں ہے، جناب شرنگلا کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستانی خارجہ سکریٹری نے بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ اے کے عبدالمومن، خارجہ امور کے وزیرمملکت شہر یار عالم اور خارجہ سکریٹری مسعود بن مومن سے بھی ملاقات کی۔ 

وزیراعظم شیخ حسینہ اور ہندوستانی خارجہ سکریٹری کے درمیان ایک گھنٹے کی میٹنگ کے دوران دونوں ملکوں نے موجودہ کنکٹویٹی نیٹ ورک کو دوبارہ شروع کرنے کے طور طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کےعلاوہ کووڈ۔19 کےٹیکے کی کھوج میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں ملکوں کو کووڈ-19 سے پیدا معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس لئے فریقین نے اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کیا کہ وبا کے ختم ہونے کے بعد کیسی حکمت عملی تیار کی جائے جس سے ان چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ بھارت نے مشترکہ مشاورتی کونسل کودوبارہ شروع کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ یہ کونسل وزیرخارجہ سطح کی ہے جو بنگلہ دیش میں بھارت کی امداد سے چل رہے پروجیکٹوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کونسل مختلف دوطرفہ معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کرتی ہے۔ اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے بھارت نے ورچوول میٹنگ کی تجویز پیش کی۔ بھارت نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک " ایئرببل"(Air Bubble) قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی تاکہ صنعت کاروں اور سرکاری عہدیداروں کے دوروں کو آسان بنایا جاسکے۔ اس سہولت سے بھارت میں علاج کی غرض سے آنے والوں کو بھی کافی آسانی ہوگی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہےکہ بھارت میں علاج کرانے کیلئے سب سےزیادہ لوگ بنگلہ دیش سے ہی آتےہیں۔ ڈھاکہ نے کورونا وائرس کے ہندوستانی ٹیکےکا ٹرائل بنگلہ دیش میں کرانےکے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس سلسلہ میں بنگلہ دیش دوسرے ملکوں سے بھی بات کررہا ہے تاکہ اس وبا کا مقابلہ کیا جاسکے۔ 

اس عالمی وبا کے باعث بھارت کے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی رشتے متاثر ہوئے تھے۔ ان رشتوں کومعمول پر لانے کیلئے بھارت نے جولائی میں متعد اقدامات کئے۔ وبا کے باعث تقریباً دو ماہ تک سرحد بند رہنے کے بعد جون میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت دوبارہ شروع ہوگئی۔ بھارت نے اپنے امدادی پروگرام کے تحت بنگلہ دیش کو ڈیزل سے چلنے والے دس لوکوموٹیوفراہم کئے۔ جولائی میں اسٹیل بار اور اناج سے لدا ایک جہاز چٹا گانگ بندرگاہ ہوتا ہوا کولکتہ سے کریم گنج پہنچا۔ نقل وحمل کے موجودہ طریقوں میں اب پارسل گاڑیوں اور کانٹینر کو بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ 

بنگلہ دیش کی تشویشات میں اس وقت ایک بڑی تشویش ہے روہنگیا پناہ گزینوں کی ملک میں موجودگی۔ ڈھاکہ اس جانب نئی دلی کی توجہ بار بار مبذول کراتارہاہے اور اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ان رفیوجیوں کی موجودگی سے علاقائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس لئے ڈھاکہ نے نئی دلی سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے میانما پر ان پناہ گزینوں کو واپس لینے کیلئے زور ڈالے۔ بنگلہ دیش نے ان پناہ گزینوں کیلئے اب تک جو کچھ کیاہے بھارت نے اسکی حمایت کی ہے اور اس نے کئی بار بیان جاری کرکے یہ بات کہی ہے کہ میانما کو روہنگیاؤں کو واپس لینے کی ضرورت ہے۔ نئی دلی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ روہنگیاؤں کی عزت واحترام کے ساتھ جلد ازجلد وطن واپسی ہونی چاہئے۔ ان کی وطن واپسی کو آسان بنانے کیلئے بھارت نےپہلے سےتیار شدہ 250 عارضی مکانات بنگلہ دیش کو تحفہ میں دئے تھے۔ یہ عارضی مکانات بنگلہ دیش کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بنائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ " آپریشن انسانیت" کے تحت بھارت نے بنگلہ دیش کے رفیوجی کیمپوں میں ر ہ رہے روہنگیاؤں کیلئے امداد بھی فراہم کی تھی۔ اس پس منظر میں وزیراعظم نریندرمودی نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو سراہتے ہوئے اسےسنہرے دور سے تعبیر کیا ہے جبکہ وزیرخارجہ ایس جے شنکر نےاسے علاقہ میں ایک رول ماڈل قرار دیا ہے۔ ایسے ہی جذبات کا اظہار بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ اے۔کے عبدالمومن نےبھی کیا اور کہا کہ بنگلہ دیش کے بھارت کے ساتھ تعلقات نہ صرف تاریخی ہیں بلکہ پتھر کی طرح مضبوط اور خونی رشتے جیسے ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ