موضوع: بھارت کا 74 واں یوم آزادی

بھارت آج اپنا 74واں یوم آزادی منارہا ہے۔ اس موقع پر صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے قوم کے نام اپنے پیغام میں ملک اور بیرون ملک رہنے والے تمام ہندوستانیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمیں اپنے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو ممنونیت کے ساتھ یاد کرنے کا دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آزادی کے آدرشوں کی بنیاد پر ہی جدید ہندوستان کی تعمیر ہورہی ہے۔ ہمارے صاحب بصیرت قومی رہنماؤں نے اپنے متنوع خیالات کو قومیت کے ایک دھاگے میں پرودیا تھا، ان سب نے یہ عہد کیا تھا کہ ملک کو ظالم غیر ملکی طاقت سے آزاد کرانا ہے اور مادر وطن کے نونہالوں کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔ انھوں نے اپنی کوششوں سے جدید ملک کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو عملی شکل دی۔

بابائے قوم مہاتماگاندھی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ہماری تحریک آزادی کے رہنما تھے، ان کی شخصیت میں ایک سَنت اور ایک سیاسی رہنما کا جو تال میل دکھائی دیتا ہے وہ ہندوستان کی مٹی میں ہی ممکن تھا۔ سماجی کشیدگی، اقتصادی مسائل اور ماحولیاتی تبدیلی سے پریشان حال آج کی دنیا کو گاندھی جی کی تعلیمات میں ان سب کا حل ملتا ہے۔ مساوات اور انصاف کے لیے ان کی عہد بستگی، ہماری آزادی کا اصل منترہے۔

کورونا وائرس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تمام دنیا ایک ایسے مہلک وائرس سے دوچار ہے، جس نے جان و مال کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ اس عالمگیر وبا کی وجہ سے ہم سب کی زندگی پوری طرح سے بدل گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے پیشگی اندازہ لگاتے ہوئے بروقت ا ور مؤثر قدم اٹھالیے تھے، ان غیر معمولی اقدامات کی بنا پر گھنی آبادی اور متنوع حالات والے ہمارے عظیم ملک میں اس چیلنج کا سامنا کیا جارہا ہے۔ ہم نے اپنی کوششوں سے وبا کی تباہی پر قابو پانے او ربہت بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک ان تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر ہیلتھ ورکروں کا مقروض ہے، جو اس وبا کے خلاف جنگ میں پہلی صف میں کھڑے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وبا کی سب سے سخت مار غریبوں اور یومیہ مزدوری کرنے والوں پر پڑی ہے۔ بحران کے اس دور میں ان کو سہارا دینے کے لیے ، وائرس کی روک تھام کی کوششوں کے ساتھ ساتھ، عوامی بہبود کے متعدد اقدامات کیے گئے۔ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کا آغاز کرکے حکومت نے کروڑوں لوگوں کو روزی روٹی فراہم کی، تاکہ وبا کی وجہ سے ملازمت سے محروم ہوجانے، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے اور زندگی بدحال ہوجانے کی تکلیف کو کم کیا جاسکے۔ کسی بھی خاندان کو بھوکا نہ رہنا پڑے، اس کے لیے ضرورت مند لوگوں کو مفت اناج دیا جارہا ہے۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ دنیا میں کہیں پر بھی مصیبت میں پھنسے ہمارے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے وندے بھارت مشن کے تحت دس لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں کو وطن واپس لایا گیا ہے اور ریلوے کے ذریعہ ٹرین چلاکر اشیاء اور لوگوں کی آمدورفت کو ممکن بنایا گیا ہے۔

صدرجمہوریہ نے مزید کہا کہ آج جب عالمی برادری کو در پیش سب سے بڑے چیلنج کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، ایسے میں ہمارے پڑوسی نے توسیعی سرگرمیوں کو چالاکی سے انجام دینے کی جرأت کی ہے۔سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ہمارے بہادر جوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں۔ مادروطن کے یہ سپوت ملک کے وقار کیلئے ہی زندہ رہے اور اسی کیلئے جان دی۔ پورا ملک گلوان وادی کے شہیدوں کو سلام کرتا ہے۔

کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زرعی سیکٹر میں تاریخی اصلاحات کیے گئے ہیں، اب کسان کسی پریشانی کے بغیر ملک میں کہیں بھی اپنی پیداوار کو فروخت کرکے اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے ہمارے بیٹے بیٹیوں میں فکر مندی ضرور پیدا ہوئی ہوگی، میں انہیں بتانا چاہوں گا کہ اس بحران پر ہم فتح حاصل کریں گے۔ تعلیم کی نئی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ بچوں کو مستقبل کی ضرورت کے مطابق تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس پالیسی سے ایک معیاری نظام تعلیم کا فروغ ہوگا۔ یہ پالیسی ایک بصیرت افروز اور دور رس نتائج کی حامل پالیسی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کو اہمیت دی گئی ہے، جس سے بچوں کی بڑی آسانی سے ذہنی نشوونما ہوسکے گی، ساتھ ہی اس سے ہندوستان کی تمام زبانوں اور ملک کے اتحاد کو ضروری قوت حاصل ہوگی۔

رام مندر کا ذکر کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ صرف دس روزقبل ایودھیا میں شری رام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے۔ اہل وطن نے طویل عرصے تک صبروتحمل کا مظاہرہ کیا اور ملک کے عدالتی نظام میں اپنا یقین برقرار رکھا۔شری رام جنم بھومی سے متعلق عدالتی معاملہ کو پورے منصفانہ طریقہ سے حل کیا گیا۔ تمام فریقین اور اہل وطن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پورے احترام کے ساتھ تسلیم کیا اور امن،عدم تشدد، محبت اور خیر سگالی کی اپنی اعلیٰ قدروں کو دنیا کے سامنے ایک بار پھر پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے میں تمام اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

اپنا خطاب ختم کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ تھا کہ جمہوریت کا ہمارا تجربہ کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ ہماری قدیم روایات اور ہمہ جہت تنوع کو ہمارے نظم حکومت کو جمہوری بنانے کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے تھے، لیکن ہم نے اپنی روایات اور گوناگونی کو ہمیشہ اپنی طاقت سمجھ کر اس کو پروان چڑھایا اور اس لیے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہورہت اتنی زندہ و تابندہ ہے۔ انسانیت کی بھلائی کیلئے ہندوستان کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ