ہندوستان کو ایک پاکستانی وزیر کی، نیوکلیائی حملے کی دھمکی
پاکستان میں ایک وفاقی وزیر ہیں شیخ رشید! موصوف کی بعض باتیں، بلکہ اکثر باتیں دلچسپ ہوتی ہیں۔ اس وقت وہ شاید ریلوے کے وزیر ہیں اور پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ مختلف پارٹیوں سے وابستہ رہے ہیں اور جنرل مشرف نے جب بطور صدر، اپنی فوجی طاقت کے زور پر اپنے آپ کو پاکستان پر مسلط کیا تھا تب بھی انہیں کسی وزارت کا قلمدان ملا تھا۔ ان کی ‘‘بیان بازی’’ بہت مشہور ہے اور وہ اپنے بیان کے طفیل اکثر میڈیا کی سرخیوں میں نہیں تو ذیلی سرخیوں میں ضرورت رہتے ہیں۔ البتہ نہ جانے کیوں سنجیدہ اخبارات ان کی باتوں کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیتے اور کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس کا مذاق اڑا نے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ وہ ہندوستان کے خلاف بھی دھمکی آمیز بیان بازی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اپنی انہی خصوصیات کے لئے وہ جانے جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی انہوں نے بڑے واضح لفظوں میں نیوکلیائی حملے کی دھمکی دی ہے اور نہ صرف دھمکی دی ہے بلکہ پاکستان کے نیوکلیائی اسلحوں کی خصوصیت بھی بیان کردی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان جس انداز کے نیوکلیائی اسلحوں کا حامل ہے وہ بڑی ‘‘مختصر لیکن جامع نوعیت’’ کے ہیں جو بالکل صحیح نشانے پر پہنچ کر پاکستان کا مطلوبہ مقصد پورا کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے ایک نیوز چینل ‘‘سماء’’ سے بات چیت کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ اگر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو روایتی جنگ کا پاکستان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوگا۔ یہ ایک بڑی خونیں نیوکلیائی جنگ ہوگی اور یہ آخری جنگ ہوگی انہوں نے پاکستان کے نیوکلیائی اسلحوں کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے پاس بڑے نپے تلے اسلحے ہیں جو سائز میں تو چھوٹے ہیں لیکن بہت کارگر اور مکمل ہیں۔ ایک بات یہ بھی انہوں نے بتائی کہ یہ اسلحے مخصوص علاقوں کو نشانہ بنائیں گے۔ کسی مسلمان کی جان کا زیاں نہ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ اسلحے آسام تک کو اپنے نشانے پر لے سکتے ہیں اور یہ بات ہندوستان بھی جانتا ہے کہ یہ نیوکلیائی جنگ آخری جنگ ثابت ہوگی۔ شیخ رشید کے حوالے سے پاکستان میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ جب پاکستان کے اعلی حکام کوئی بات خود نہیں کہنا چاہتے تو شیخ رشید کو اس کام کے لئے اکسا دیتے ہیں اور آگے بڑھ کر وہ بڑی اونچی آواز میں وہی باتیں کہتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو اور لوگ ان کے بیانات سے لطف لینا چاہتے ہوں۔
لیکن جہاں تک ہندوستان کو نیوکلیائی اسلحوں کی دھمکی دینے کا سوال ہے تو یہ کوئی شیخ رشید ہی کے بیان تک محدود نہیں ہے، پاکستان کے متعدد لیڈران نیوکلیائی اسلحوں کی دھمکی آئے دن دیتے رہتے ہیں۔ مثلاً سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہندوستان کو اپنے نیوکلیائی اسلحوں کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ ‘‘ہم نے نیوکلیائی بم شوکیس میں سجانے کے لئے یا شب برات کے موقع پر بطور پٹاخہ استعمال کرنے کے لئے نہیں بنائے ہیں’’۔ ظاہر ہے کہ ان کے اس طرح کے بیانات کا صاف مطلب یہی تھا کہ پاکستان کے نیوکلیائی اسلحے ہندوستان ہی کے خلاف استعمال کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ویسے بھی پاکستانی حکمرانوں پر جنگ کا بھوت ہمیشہ سوار ہتا ہے۔ کئی جنگیں انہوں نے ہندوستان کے خلاف لڑیں اور سب میں پہل انہی کی طرف سے ہوئی۔ کسی جنگ میں ہندوستان جارح نہیں تھا۔ اب ان جنگوں میں پاکستان نے کیا پایا وہ تو وہ خود ہی جانیں۔ جنرل مشرف نے خود بھی کارگل میں 1999 میں ایک مہم جوئی کی تھی۔ انہوں نے تو اپنے خیال میں بڑی ‘‘جواں مردی’’ کا ثبوت دیا تھا لیکن اس کا کیا حشر ہوا اور پاکستان کو عالمی برادری میں کس نظر سے دیکھا گیا تھا یہ کسی سے مخفی نہیں تھا۔ حالانکہ وہ مہم جوئی انہوں نے صرف اس لئے کی تھی کہ اپنی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہندوستان دشمنی کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے وہ اس لئے ناراض تھے کہ انہوں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ مل کر ہند۔ پاک رشتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔ کارگل سے کچھ پہلے ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی لاہور گئے تھے جہاں دونوں وزرائے اعظم نے لاہور اعلامیہ پر دستخط کئے تھے۔ اسی وقت پاکستان میں چہ مگوئیاں ہورہی تھیں کہ آرمی چیف جنرل مشرف اس واقعے سے سخت ناراض ہوئے تھے اور نواز شریف نے جو کچھ کیا تھا اس پر پانی پھیرنا چاہتے تھے۔ کارگل کی لڑائی کے بعد تو اس بات کی ایک طرح سے تصدیق ہوگئی تھی اور پھر اسی سال کے اواخر تک جنرل مشرف نے نواز شریف کا تختہ ہی الٹ دیا تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1971 کی جنگ کو چھوڑکر باقی چھوٹی بڑی جو جنگیں ہوئی تھیں وہ کسی نہ کسی شکل میں کشمیر سے جڑی ہوئی تھیں۔ حالانکہ کشمیر کا الحاق ہندوستان سے ہو چکا تھا لیکن پاکستان مستقل کشمیر کی رٹ پر قائم ہے۔ لگتا ہے کہ ان جنگوں میں جو پسپائی انہیں ہوئی تھی، انہیں پاکستانی حکمراں بھول نہیں پائے اور اسی لئے وہ نیوکلیائی اسلحوں کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔
خود موجودہ وزیراعظم عمران خان نے بھی گزشتہ سال کئی بار نیوکلیائی جنگ کے امکان کا ذکر کیا تھا۔مثلاً ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جب دو نیوکلیائی ممالک آپس میں ٹکرائیں گے تو پوری دنیا اس سے کسی نہ کسی طور متاثر ہوگی۔ ستمبر 2019 میں عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور اس خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث نیوکلیائی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ کشمیر کی طرف تھا۔ کیا عمران خان اس خطے (یعنی کشمیر) میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی حقیقت سے واقف ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ اس خطے میں کون دہشت گردی کو بڑھاوا دے کر خون خرابے کو فروغ دے رہا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ انہیں نہ معلوم ہو لیکن دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا رول اس میں کیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ابھی چند ہی روز قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے سخت اقدام سے محفوظ رہنے کے لئے نوٹی فکیشن جاری کئے تھے جن کے تحت حافظ سعید، مسعود اظہر اور داؤد ابراہیم سمیت 88 دہشت گردوں اور گروپوں کی املاک ضبط کرنے اور ان کے بینک اکاؤنٹ کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمران خان خود ہی بتائیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور پاکستان میں ان کا مشغلہ کیا ہے۔
بیشک ہندوستان اور پاکستان دونوں نیوکلیائی ملک ہیں لیکن پاکستان کی طرح ہندوستان، پاکستان یا کسی اور ملک کو نیوکلیائی بم کی دھمکی نہیں دیتا۔ اس کی نیوکلیائی صلاحیت پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ اس نے جارحانہ رویہ کبھی نہیں اپنایا اور نہ ہی اس کا کبھی ایسا کوئی ارادہ رہا ہے۔ وہ ایک ذمہ دار نیوکلیائی ملک ہے۔ اس نے کبھی نیوکلیائی اسلحوں کی توسیع کے لئے براہ راست یا بالواسطہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جو قابل اعتراض ہو اور نہ ہی یہاں کے کسی نیوکلیائی سائنسداں نے نیوکلیائی ٹکنالوجی یا ساز و سامان کی کالا بازاری کی ہے۔ البتہ وہ اپنی سالمیت اور سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔
Comments
Post a Comment