کراچی میں شیعہ مخالف انتہاپسند تنظیموں کی ریلی
بانی پاکستان محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے پاکستان کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا اُس ‘‘ہوم لینڈ’’ کا وہ خواب پورا بھی ہوگیا تھا لیکن وہ اپنی ذات سے کوئی ایسے مسلمان نہ تھے جو متقی یا پرہیزگار رہے ہوں۔ نہ شیعہ اور نہ سنی! اگرچہ وہ اس حد تک شیعہ مسلمان ضرور تھے کہ وہ ایک شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن پاکستان میں قائد اعظم کہے جانے وا لے جناح کے وہم وگمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ ان کے خوابوں کے پاکستان میں ایسا دن بھی آئے گا کہ شیعوں کو کافر قرار دینے کا بھی مطالبہ ہونے لگے گااور ان کے لئے پاکستان کی سرزمین اتنی تنگ ہوجائے گی کہ کراچی جیسے میٹرو پولیس میں شیعوں کے خلاف پرتشدد ریلیاں نکالی جائیں گی۔ شیعہ-سنی اختلاف کوئی نیا نہیں ہے لیکن پاکستان میں اس بنیاد جو پُرتشدد واقعات ہوتے ہیں وہ حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت تو پاکستان کے حامی بڑے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے کہ اس نئے ملک میں تمام مکتب فکر اور مختلف ممالک کے مسلمان شیروشکر ہوکر رہیں گے لیکن ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ پاکستان بننے کے کچھ ہی دن بعد اختلافات نظر آنے لگے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں۔ زبان اور کلچر کی بنیاد پر یہ فاصلہ اتنا بڑھا کہ 1970 کے انتخابات کے بعد جب پاکستان کے حکمرانوں نے دیکھا کہ قومی پارلیمنٹ میں مشرقی پاکستان کے لیڈر اور وہیں کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگئی ہے تو عوامی لیگ کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن کو غدار قرار دے کر انہیں جیل میں بند کردیا گیا۔ یعنی عوامی لیگ کو ا کثریت حاصل کرنے کے باوجود اقتدار منتقل نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ مذہب کے نام پر قائم کیا گیا ملک 24 سال بعد 1971 میں زبان اور کلچر کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ باقیماندہ پاکستان میں بھی مختلف نسل اور صوبوں کے لوگوں کی شکایت بھی کم وبیش ویسی ہیں جیسی مشرقی پاکستان کے لوگوں کی ہوا کرتی تھیں۔
اور بھی کئی طرح کے اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مثلاً احمدیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا مطالبہ قیام پاکستان کے بعد ہی زور پکڑنے لگا حتی کہ 1950 کی دہائی میں اسی مطالبہ کے بنیاد پرپاکستان میں زبردست فساد ہوا تھا۔ تاہم اس زمانے میں مذہبی انتہاپسندی اتنی شدید نہیں تھی جتنی آج نظر آتی ہے لہٰذا اس وقت تو صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا۔ لیکن انتہاپسندوں کاحلقہ دن بہ دن مضبوط ہوتا گیا اور 1974 تک آتے آتے ان کا یہ مطالبہ پورا بھی ہوگیا اور باقاعدہ سرکاری طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ کسی فوجی حکمراں کا دور نہیں تھا بلکہ ایک منتخب حکومت برسرار اقتدار تھی اور ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے۔ جب بھٹو کو ایک فوجی بغاوت کے تحت اقتدار سے محروم کرکے جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسلامائزیشن کے نام پر پاکستان کو مذہبی انتہاپسندی کی طرف مائل کردیا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کے لئے مذہبی انتہاپسند گروپوں کو اپنا ہمنوا بنایا اور مذہبی اور مسلکی منافرت کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انجمن سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی کئی باقاعدہ شیعہ مخالف تنظیمیں قائم ہوگئیں جنہوں نے باقاعدہ شیعوں کے خلاف نہ صرف منافرت اور تعصب کو فروغ دیا بلکہ پرتشدد کارروائیاں بھی شروع کردیں۔ شیعوں کو کھلم کھلا کافر اور اسلام دشمن کہا جانے لگا اور یہ مطالبہ بھی ہونے لگا کہ شیعوں کو غیرمسلم یا کافر قرار دے کر پاکستان کو ایک سنی اسٹیٹ بنایا جائے۔ بہت خوبٍٍٍ! پہلے ایک نئی مسلم ریاست قائم ہوئی اور اب اسے سنی اسٹیٹ بنانے کی بات ہونے لگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے بعد نفرت اور گروہ بندیوں کا سلسلہ ختم ہوجائے گا؟
بہرحال احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد شیعوں کو بھی غیرمسلم قرار دینے کی بات ہونے لگی۔ کون جانے کسی مرحلے میں یہ کام بھی ہوجائے! شیعوں کو گو پاکستان میں ابھی تک غیرمسلم نہیں قرار دیا گیا ہے لیکن انتہاپسند جماعتیں جس طرح انہیں نشانہ بنارہے ہیں، اس کے باعث ایک بہت بڑا حلقہ انہیں غیرمسلم ہی کے طور پر دیکھنے لگا ہے۔ ان کی مسجدوں اور امام بارگاہوں پر حملے ہوتے رہے۔ انتہاپسند حلقے لگاتار انہیں نشانہ بناتے رہے۔ لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے چنانچہ چند روز قبل کراچی شہر میں انتہاپسند سنی گروپوں کی طرف سے جس شیعہ مخالف ریلی کا اہتمام ہوا اسے بھی اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ اپنی ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے انتہاپسند حلقے اہانت دین قانون کو اپنے لئے ایک مؤثر وسیلہ تصور کرتے ہیں۔
اہانت دین کے پرانے قانون کو جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں اتنا سخت بنادیا گیا کہ اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اس قانون کا اتنے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہونے لگا ہے کہ قانونی کارروائیاں تو ہوتی ہی ہیں لیکن لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر خود ملزم کا کام تمام کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ایسی متعدد مثالیں دیکھی گئیں جن میں عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ملزم کو قتل کردیا گیا۔ ابھی کوئی مہینہ ڈیڑھ مہینہ قبل پشاور میں ایک عدالت کے کمرے میں ایک ملزم کو لایا گیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ کوئی عدالتی کارروائی شروع ہو۔ ایک شخص نے پستول سے اس کے جسم کو چھلنی کردیا۔ ویسے تو اپنی ذاتی یا سیاسی دشمنی چکانے کے لئے بھی کچھ لوگ کسی پر یہ الزام جڑ دیتے ہیں اور اس کا نشانہ مسلمان بھی بنتے ہیں لیکن غیرمسلم اقلیتوں کو بطور خاص پھنسایا جاتا ہے۔ شیعوں پر بھی اس قانون کے تحت خوب الزام لگائے جارہے ہیں۔ کراچی میں تحریک لبیک پاکستان اور تحریک سنت والجماعت نے شیعوں کے خلاف ایک ریلی منعقد کی اور یہ نعرہ بھی لگایا کہ شیعہ کافر ہیں۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ محرم کے جلوس پر پابندی عائد کی جائے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کچھ لوگوں نے اس ریلی کے ویڈیو شیئر کئے جن میں شرکاء کو ‘‘شیعہ کافر ہوتے ہیں’’ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے۔ امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں کے ویڈیو بھی وائرل ہوئے۔ یاد رہے کہ بیشتر شیعہ مخالف دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں ممنوعہ قرار دی گئی ہیں لیکن ان کی نفرت انگیز کارروائیاں بے روک ٹوک جاری ہیں۔
حالیہ دنوں میں شیعوں کے خلاف اہانت دین قانون کے تحت بھی لوگوں کو ملزم بنایا جارہا ہے۔ مثلاً گزشتہ صرف ایک مہینہ میں پاکستان میں 42 ایسے کیس درج کرائے گئے جن میں شیعوں کو ملزم بنایا گیا۔ محرم کے دنوں میں کئی شیعہ خطیبوں کو گرفتار بھی کیا گیا جن پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کی۔ دراصل 1980 کی دہائی سے ہی پاکستان میں شیعہ مخالف لہر کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ بعض ممنوعہ جماعتیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ لیکن بعض موقعوں پر انتظامیہ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ یہ ہے منظرنامہ مملکت خداداد پاکستان کا!
اور بھی کئی طرح کے اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مثلاً احمدیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا مطالبہ قیام پاکستان کے بعد ہی زور پکڑنے لگا حتی کہ 1950 کی دہائی میں اسی مطالبہ کے بنیاد پرپاکستان میں زبردست فساد ہوا تھا۔ تاہم اس زمانے میں مذہبی انتہاپسندی اتنی شدید نہیں تھی جتنی آج نظر آتی ہے لہٰذا اس وقت تو صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا۔ لیکن انتہاپسندوں کاحلقہ دن بہ دن مضبوط ہوتا گیا اور 1974 تک آتے آتے ان کا یہ مطالبہ پورا بھی ہوگیا اور باقاعدہ سرکاری طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ وہ کسی فوجی حکمراں کا دور نہیں تھا بلکہ ایک منتخب حکومت برسرار اقتدار تھی اور ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے۔ جب بھٹو کو ایک فوجی بغاوت کے تحت اقتدار سے محروم کرکے جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسلامائزیشن کے نام پر پاکستان کو مذہبی انتہاپسندی کی طرف مائل کردیا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کے لئے مذہبی انتہاپسند گروپوں کو اپنا ہمنوا بنایا اور مذہبی اور مسلکی منافرت کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انجمن سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی کئی باقاعدہ شیعہ مخالف تنظیمیں قائم ہوگئیں جنہوں نے باقاعدہ شیعوں کے خلاف نہ صرف منافرت اور تعصب کو فروغ دیا بلکہ پرتشدد کارروائیاں بھی شروع کردیں۔ شیعوں کو کھلم کھلا کافر اور اسلام دشمن کہا جانے لگا اور یہ مطالبہ بھی ہونے لگا کہ شیعوں کو غیرمسلم یا کافر قرار دے کر پاکستان کو ایک سنی اسٹیٹ بنایا جائے۔ بہت خوبٍٍٍ! پہلے ایک نئی مسلم ریاست قائم ہوئی اور اب اسے سنی اسٹیٹ بنانے کی بات ہونے لگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے بعد نفرت اور گروہ بندیوں کا سلسلہ ختم ہوجائے گا؟
بہرحال احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد شیعوں کو بھی غیرمسلم قرار دینے کی بات ہونے لگی۔ کون جانے کسی مرحلے میں یہ کام بھی ہوجائے! شیعوں کو گو پاکستان میں ابھی تک غیرمسلم نہیں قرار دیا گیا ہے لیکن انتہاپسند جماعتیں جس طرح انہیں نشانہ بنارہے ہیں، اس کے باعث ایک بہت بڑا حلقہ انہیں غیرمسلم ہی کے طور پر دیکھنے لگا ہے۔ ان کی مسجدوں اور امام بارگاہوں پر حملے ہوتے رہے۔ انتہاپسند حلقے لگاتار انہیں نشانہ بناتے رہے۔ لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے چنانچہ چند روز قبل کراچی شہر میں انتہاپسند سنی گروپوں کی طرف سے جس شیعہ مخالف ریلی کا اہتمام ہوا اسے بھی اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ اپنی ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے انتہاپسند حلقے اہانت دین قانون کو اپنے لئے ایک مؤثر وسیلہ تصور کرتے ہیں۔
اہانت دین کے پرانے قانون کو جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں اتنا سخت بنادیا گیا کہ اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا اس قانون کا اتنے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہونے لگا ہے کہ قانونی کارروائیاں تو ہوتی ہی ہیں لیکن لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر خود ملزم کا کام تمام کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ایسی متعدد مثالیں دیکھی گئیں جن میں عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ملزم کو قتل کردیا گیا۔ ابھی کوئی مہینہ ڈیڑھ مہینہ قبل پشاور میں ایک عدالت کے کمرے میں ایک ملزم کو لایا گیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ کوئی عدالتی کارروائی شروع ہو۔ ایک شخص نے پستول سے اس کے جسم کو چھلنی کردیا۔ ویسے تو اپنی ذاتی یا سیاسی دشمنی چکانے کے لئے بھی کچھ لوگ کسی پر یہ الزام جڑ دیتے ہیں اور اس کا نشانہ مسلمان بھی بنتے ہیں لیکن غیرمسلم اقلیتوں کو بطور خاص پھنسایا جاتا ہے۔ شیعوں پر بھی اس قانون کے تحت خوب الزام لگائے جارہے ہیں۔ کراچی میں تحریک لبیک پاکستان اور تحریک سنت والجماعت نے شیعوں کے خلاف ایک ریلی منعقد کی اور یہ نعرہ بھی لگایا کہ شیعہ کافر ہیں۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ محرم کے جلوس پر پابندی عائد کی جائے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کچھ لوگوں نے اس ریلی کے ویڈیو شیئر کئے جن میں شرکاء کو ‘‘شیعہ کافر ہوتے ہیں’’ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے۔ امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں کے ویڈیو بھی وائرل ہوئے۔ یاد رہے کہ بیشتر شیعہ مخالف دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں ممنوعہ قرار دی گئی ہیں لیکن ان کی نفرت انگیز کارروائیاں بے روک ٹوک جاری ہیں۔
حالیہ دنوں میں شیعوں کے خلاف اہانت دین قانون کے تحت بھی لوگوں کو ملزم بنایا جارہا ہے۔ مثلاً گزشتہ صرف ایک مہینہ میں پاکستان میں 42 ایسے کیس درج کرائے گئے جن میں شیعوں کو ملزم بنایا گیا۔ محرم کے دنوں میں کئی شیعہ خطیبوں کو گرفتار بھی کیا گیا جن پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کی۔ دراصل 1980 کی دہائی سے ہی پاکستان میں شیعہ مخالف لہر کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ بعض ممنوعہ جماعتیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ لیکن بعض موقعوں پر انتظامیہ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ یہ ہے منظرنامہ مملکت خداداد پاکستان کا!
Comments
Post a Comment