پاکستان اپوزیشن کا اعلان: سیاسی امور میں فوج کی مداخلت ناقابل برداشت
اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ پاکستان میں اس بار اپوزیشن پارٹیوں کا جو اتحاد قائم ہوا ہے اس کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اب سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سے پہلے فوجی حکومتوں کےخلاف اتحاد قائم ہوتے تھے اور ان میں کلیدی مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ جمہوریت بحال کی جائے لیکن جمہوریت بحال ہونے کے بعد بھی پردے کے پیچھے سے فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی تھی اور ریاست کے مختلف آئینی اداروں کی مدد سے سیاسی امور میں دخل اندازی کرکے حالات کو اپنے حق میں یا اپنی مرضی کے مطابق سازگار بنالیتی تھی۔ پاکستان میں فوج کی کارگزاریوں اور کارستانیوں پر تنقید کرنا ‘‘وطن دشمنی’’ کے زمرے میں شامل کیا جاتا تھا لیکن شاید اب اس کی بھی انتہا ہوچکی تھی اور اسی لئے تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے جس کا کلیدی مطالبہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت نہیں برداشت کی جائے گی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ 2008 سے یعنی جب سے جنرل مشرف کے بعددوبارہ جمہوریت بحالی ہوئی ہے تب سے براہ راست تو فوجی حکومت نہیں قائم ہوسکی لیکن یہ بھی درست ہے کہ سیویلین حکومتوں کے کاموں میں روکاوٹ ڈالنے کاکام ختم نہیں ہوا ہے۔ مثلاً 2008 میں جو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تھی اس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو جوابدہ بنایا جائے اور یہ آرڈر جاری کیا گیا کہ آئی ایس آئی کا سربراہ براہ راست وزیر داخلہ کو رپورٹ کرے گا۔ اس پر فوجی ہیڈکوارٹر میں ایسا بھونچال آیا کہ حکومت کو فوراً وہ آرڈر واپس لینا پڑا۔ اسی طرح اس حکومت نے 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ اختیار دیئے، بطور خاص مالی معاملات میں انہیں کافی خوداختیاری دی گئی۔ جسے فوج نے قطعی پسند نہیں کیا۔ بہرحال اس کے خلاف تو فوج کچھ نہ کرسکی لیکن حکومت کو قدم قدم پر پریشان ضرور کیا۔ اس کے پانچ سال بعد جب پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت قائم ہوئی اور نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے اس بات پر زیادہ زور دیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی عالمی برادری میں جو امیج خراب ہوئی ہے، اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اخبار ‘ڈان’ میں ایک خبر لیک ہوئی کہ سیویلین حکام نے فوجی حکام کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں جو پڑوسی ملکوں میں تخریب کاری کو فروغ دیتے ہیں۔ اس بات پر فوج بپھر اٹھی اور مختلف اداروں کی مدد سے نواز شریف کے خلاف ایک ایسا جال بچھایا گیا کہ بالآخر انہیں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ بہرحال، ان کی پارٹی کی حکومت نے کسی طور پر پانچ سال کی مدت تو پوری کرلی لیکن 2018 میں جو انتخابات ہوئے اس میں فوج نے عمران خان کو برسراقتدار لانے اور اپوزیشن پارٹیوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے ایک نہیں، متعدد ہتھکنڈے استعمال کئے اور بالآخر عمران خان کو وزیراعظم بنوا کر ہی دم لیا۔ انتخابات کے درمیان جو سختیاں ہوئیں اور جو ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، ان پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور غیرملکی مشاہدین نے بھی سوال اٹھائے تھے۔ اپوزیشن پارٹیاں عمران خان کو الیکٹیڈ نہیں بلکہ سلیکیڈوزیراعظم کہتی ہیں۔ ادھر پاکستان میں فوج اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر طرح طرح کے مظالم بھی ہورہے ہیں۔ عوامی سطح پر حکومت کے خلاف بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔
اسی پس منظر میں اپوزیشن پارٹیوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جس کا اہتمام پاکستان پیپلز پارٹی نے کیا تھا۔ اس کانفرنس کو لندن سے سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ویڈیو رابطے کے توسط سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کی یہ جدوجہد الیکٹیڈ وزیراعظم یا سلیکٹیڈ حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے۔ ایک طرف جہاں اپوزیشن نے فوج کی سیاسی امور میں مداخلت کو اپنا کلیدی مطالبہ بتایا ہے وہیں دوسری طرف عمران خان کا پورا زور اس بات پر ہے کہ فوج کی جم کر تعریف کی جائے اور اس کا ہرحال میں دفاع کیا جائے چنانچہ ان کی کابینہ کی ایک ٹیم ایکدم میدان میں آگئی اور فوج کی مدافعت کرنے لگی۔ منصوبہ بندی اور ترقیات کے وفاقی وزیر اسعد عمر نے ایک پریس کانفرنس میں یہ تک کہا کہ فوج کی تنقید کرکے نواز شریف نے ہندوستان کو خوش کیا ہے۔ پاکستانی فوج اور اس کے ہمنواؤں کے پاس اپنے دفاع کے لئے ایک ہی ‘‘منتر’’ ہوتا ہے کہ ان کی ہر تان ہندوستان دشمنی پر ہی ٹوٹتی ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے اور نوازشریف نے ایک پریس کانفرنس میں یہ سوال ٹھایا تھا کہ ممبئی میں دہشت گردوں کو حملہ کرنے کیلئے کس نے اجازت دی تھی تو عمران خان نے فوج کی حمایت اور نوازشریف کے خلاف ‘‘شعلہ بیانی’’ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انہوں نے فوج اور پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کیا ہے۔ اب جو ان کی حکومت اس طور پر فوج کا دفاع کررہی ہے تو گویا اپوزیشن کے اس الزام کی تائید بھی کررہی ہے کہ عمران حکومت ایک سلیکٹیڈ حکومت ہے۔
بہرحال، اب عوامی سطح پر بھی یہی چرچہ ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت کے خلاف قائم ہوا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، مختصراً پی ڈی ایم کا نام دیا گیا ہے۔ اس کانفرنس کے اختتام پر جمعیۃ العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مطالبات کے 26 نکاتی اعلان نامہ کو پڑھ کر سنایا۔ اولین مطالبہ تو یہی ہے کہ سیاسی امور میں فوجی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ دوسرے مطالبات میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، صحافیوں کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کو واپس لینا اور انتخابی اصلاحات کے بعد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا شامل ہے۔ اس درمیان یہ بھی رپورٹ آئی کہ اپوزیشن لیڈروں سے چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق بعض معاملات پر گفتگو کرنے کے لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات 16ستمبر کو کی تھی۔ اس ملاقات میں بھی اپوزیشن لیڈروں نے فوج سے کہا تھا کہ سیاسی اُمور میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق، جنرل باجوا نے کہا تھا کہ فوج سیویلین حکومت کے کہنے پر ہی کسی معاملے میں اس کی مدد کرتی ہے۔ حکومت خواہ کسی بھی پارٹی کی ہو۔ فوج کا یہ بیان کس حد تک صداقت پر مبنی ہے، یہ تو خود پاکستان کے لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز سے جب فوج اور اپوزیشن لیڈروں کی ملاقات کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی فیصلہ راولپنڈی میں واقع فوج کے صدر دفتر میں نہیں ہوگا بلکہ پارلیمنٹ کے اندر ہوگا۔غرضیکہ پاکستان میں اس وقت ہر طرف یہی چرچہ ہے کہ اس بار کی اپوزیشن کی تحریک اس اعتبار سے قطعی مختلف ہے کہ اصل مطالبہ فوجی مداخلت کے خلاف ہے۔ اسے سیاسی بیداری کی ایک نئی علامت کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
Comments
Post a Comment