پاکستان میں جبراً تبدیلئ مذہب کو قانونی سرپرستی
جبراً تبدیلی مذہب کرانے کے لیے پہلے ہی سے بدنام پاکستان میں اب اس مذموم فعل کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔حالانکہ عمران خان کی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے مذہبی و مسلکی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ قدم اٹھائے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی مختلف طریقوں سے ان اقلیتوں کی مذہبی،سماجی اور شہری آزادی کو غصب کرنے کی کوششیں سرکاری سطح پر جاری ہیں۔انتہا پسند مذہبی تنظیموں کی کارگزاریوں پر بھی حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے ایسے معاملوں میں پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔نابالغ لڑکیوں سے جبراً مذہب تبدیل کراکے ان سے نکاح کرنے کے واقعات ملک میں عام ہیں۔دوسری طرف پاکستان کی دو اہم اقلیتوں یعنی احمدی اور شیعوں کے خلاف پاکستان میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ان اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا جینا محال ہو گیا ہے۔یوروپ اور امریکہ یا پھر بھارت میں معمولی واقعات کو بھی اقلیتوں پر مظالم کے طور پر دیکھنے والا پاکستان خود مذہبی و مسلکی تعصب کا بری طرح شکار ہے۔بدقسمتی سے عمران خان کے لیے یہ مسائل اہم نہیں ہیں بلکہ پڑوسی ممالک پر الزام تراشی کرکے پاکستانی حکومت اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔جہاں تک جبراً تبدیلی مذہب کے واقعات کا تعلق ہے تو انھیں اب پاکستانی معاشرے میں معمول کے واقعات کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔حالانکہ نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جبراً نکاح اور تبدیلی مذہب کو قانون میں جرم مانا گیا ہے اور ایسے واقعات پر محض خانہ پری کے طور پر کبھی کبھی قانونی کارروائی کی خبریں بھی آتی ہیں،لیکن اب ایسے معاملوں کو بھی مختلف بہانوں سے قانونی شکل دینے کی کوششیں بلکہ سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔اس کے تحت اگر کوئی لڑکی خود کو 18 سال کا بتاتی ہے اور ایک جعلی سرٹیفیکٹ اس کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہے یا پھر یہ کہتی ہے کہ پہلے ایّام حیض سے گزر چکی ہے تو ریاست یا جانچ ایجنسیوں کو اس سے مزید کچھ پوچھنے کا حق حاصل نہیں ہوگا اور لڑکی کے اس دعوے کو ہی ثبوت مان لیا جائیگا۔واضح رہے کہ گذشتہ برس سندھ کے گھوٹکی علاقے کی ایک کم عمر ہندو لڑکی سمرن کماری کو جبراً اغوا کر لیا گیا تھا۔بعد میں یہ لڑکی بارچندی شریف نامی ایک درگاہ سے برآمد کی گئی جو ہندو لڑکیوں کا جبراً مذہب تبدیل کرانے کے معاملے میں پہلے ہی سے کافی بدنام ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ صورتحال یہ ہے کہ سمرن اپنے والدین کی صورت بھی نہیں دیکھ سکتی کیونکہ وہ ’کافر‘ ہیں اور اسلام کے ٹھیکیداروں کی نگاہ میں اس سبب سے وہ اپنی ہی بیٹی کے لیے نامحرم قرار پاتے ہیں۔اسلام کے اصولوں کی یہ بدترین اور انتہائی بیہودہ تشریح اسلام کے چند نام نہادوہ علماء کر رہے ہیں کہ جن کے سبب اسلام پوری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔یہی وہ عناصر ہیں کہ جنھوں نے پاکستان کو مذہبی و مسلکی اقلیتوں کا مقتل بنا دیا ہے۔ جنھوں نے سماج کے کمزور افراد کے لیے زمین تنگ کر دی ہے اور جو اسلام کے نام پر تمام غیر اسلامی شعار کو اپنا رہے ہیں۔جبراً تبدیلی مذہب کا ایک اور واقعہ خیر پور میں پرشا کماری نام کی ایک لڑکی کے ساتھ پیش آیا کہ جہاں ایک نام نہاد مسلمان نے اس کا غوا کرکے اس سے شادی کر لی۔لڑکی کے والدین نے اپنی بیٹی کے اسکول سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر اس کے نابالغ ہونے کا دعویٰ کیا،لیکن لڑکی کو اغوا کرکے اس سے جبراً شادی رچانے والے اس کے ناجائز شوہرعبد الصبور نے ایک فرضی سرٹیفکیٹ پیش کرکے دعویٰ کیا کہ لڑکی کی عمر18 سال ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فرضی سرٹیفکیٹ کی بنا پر لڑکی کو بالغ مانتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا کہ وہ اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی اہل ہے۔یہ بھی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ایسے معاملوں میں طبّی جانچ جیسی بنیادی بات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور صرف فرضی سرٹیفکیٹ کو ہی مناسب ثبوت ما ن لیا جاتا ہے۔ظاہر ہے یہ جبراً تبدیلی مذہب کے جرم کی پردہ پوشی کرنے کی حرکت ہے۔14 سال کی ماریاشہباز کا معاملہ بھی دل دہلا دینے والا ہے۔یہ نابالغ عیسائی لڑکی اب بھی انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور پاکستان میں مذہب و انصاف کے ٹھیکیدار کے ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔لاہور ہائی کورٹ کا ماریا کے معاملے میں دیا گیا فیصلہ بھی اسے اغوا کاروں کے ذریعہ بالغ بتائے جانے کو درست مانتا ہے اور اس کے والدین کے ذریعہ اس کے نابالغ ہونے کی دلیلوں کو رد کرتا ہے۔یعنی پاکستانی عدالتیں بھی مسلم نام والے اغوا کاروں کی بالواسطہ حمایت کرکے مذہبی اقلیتوں سے متعلق نابالغ لڑکیوں کے حقوق کو پامال کرنے میں حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔یہ حالات اس بات کا اشارہ ہیں کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی نابالغ لڑکیوں کے اغوا اور ان سے جبراً شادی رچانے والوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور ان اقلیتوں کے لیے حصول انصاف کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment