موضوع: پاکستان میں دہشت گردی مخالف بلوں کی منظوری اور ایف اے ٹی ایف
گزشتہ ہفتے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی مخالف قانون ترمیمی بل اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ سے متعلق دو دوسرے بلوں کو منظور کر لیاگیا۔ اس سے پہلے پچھلے ماہ اپوزیشن کی اکثریت والی سینٹ میں یہ بل نا منظور ہو گئے تھے ۔ ان بلوں کا مقصد فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی کچھ شرائط کو پوری کرنا ہے جنہیں ٹاسک فورس نے پاکستان کوگرے لسٹ سے باہر کرنے کے لئے عائد کر رکھی ہیں۔ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والی پیرس کی اس ٹاسک فورس نے پاکستان کو 2018 میں اس وقت گرے لسٹ میں شامل کیا تھا جب اسے پتہ چلا کہ اسلام آباد دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے خصوصی اجلاس میں ان بلوں کو منظور کرانا بظاہر ایک اچھا قدم ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان حکومت ملک کو ہر حال میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نکالنا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹاسک فورس نے کارروائی کرنے کے لئے جووقت دیا ہے حکومت پاکستان نے اس سے پہلے یہ قدم اٹھا لیا ہے ، ہاں اب یہ تو نہیں معلوم کہ عمران خان دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کرنے میں کتنے سنجیدہ اور ایماندار ہیں ۔ ماضی کے تجربات تو یہی بتاتے ہیں کہ وہ کہتے کچھ ہیں اورکرتے کچھ اور۔
ایف اے ٹی ایف نے اپنی تمام شرائط پوری کرنے کے لئے پاکستان کو دسمبر 2019 تک کا وقت دیا تھا ۔ لیکن کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس میں توسیع کر دی گئی اور اب آئندہ ماہ یعنی اکتوبر میں اس کی میٹنگ ہونے والی ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لئے دی گئی 27شرائط کو پورا کیا ہے یا نہیں۔ گرے لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالی اداروں اور یوروپی یونین سے قرض نہیں لے سکتا ۔ ان اداروں سے قرض نہ ملنے کی وجہ سے پاکستانی معیشت خستہ حال ہو چکی ہے۔ اور اگر اس بار بھی اسلام آباد ایف اے ٹی ایف کو مطمئن نہیں کر سکا تو قوی امید ہے کہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا جس کا مطلب ہے اس پر پابندیاں عائد ہو جائیں گی جو اس کی بر بادی کا سبب بن سکتی ہیں۔
پاکستان کو اس وقت اپنی معیشت سنبھالنے کی سخت ضرورت ہے اس لئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ذرا سی تاخیر بھی اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دنیا کو یہ تاثر دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی طے کردہ شرائط کے مطابق ہی کارروائی کر رہے ہیں۔پچھلے مہینے پاکستان نے بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لئے سو سے زیادہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا ، کسی کے خلاف کارروائی ہوئی یا نہیں کسی کوکچھ معلوم نہیں۔
منی لانڈرنگ مخالف ترمیمی بل کا مقصد موجودہ قانون کو بہتر بنا کر اسے بین الاقوامی معیار کا بنانا ہے جیسا کہ ایف اے ٹی ایف کی ہدایت ہے۔ دہشت گردی مخالف ترمیمی بل کا بھی یہی مقصد ہے لیکن لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسا کرنے کے لئے واقعی سنجیدہ ہے یا پھر وہ محض ایف اے ٹی ایف کے جال سے باہر نکلنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے ۔
پاکستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں اس کی مالی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے سوال پر سویلین حکومت اور پاکستانی فوج کبھی بھی ہم خیال نہیں رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں ہی ادارے دہشت گردوں کی پرورش کرتے رہے ہیں اور انہیں حکومت کی پالیسی کے تحت ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اب اس وقت یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ اس بار فوج عمران خان کی حمایت کر رہی ہے یا نہیں۔
اپوزیشن پارٹیاں تو کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔پارلیمنٹ میں بل منظور ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی لیڈر بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما شہباز شریف نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو دبانے اور برباد کرنے کے لئے حکومت ایف اے ٹی ایف کے نام پر قومی احتساب بیورو کو مضبوط بنا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بل کے تحت تفتیش کرنے والی ایجنسیوں کو کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے،انڈرکور آپریشن کرنے ،فون پر کسی کی بھی بات چیت کو ریکارڈ کرنے اور کمپیوٹر سسٹم تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ انہوں نے بل منظوری کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ ادھر عمران خان نے اپوزیشن پارٹیوں پر الزام لگایا کہ وہ جمہوریت کی آڑ میں خود کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ پارٹیاں اپنا کالادھن بچانے کے لئے ملک کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کروانے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔
امید کی جاتی ہے کہ اس بار عمران خان اپنے عوام کی بھلائی کے لئے بڑی ایمانداری کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے ۔ورنہ یہ امید بھی صرف امید ہی بن کررہ جائے گی۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے خصوصی اجلاس میں ان بلوں کو منظور کرانا بظاہر ایک اچھا قدم ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان حکومت ملک کو ہر حال میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نکالنا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹاسک فورس نے کارروائی کرنے کے لئے جووقت دیا ہے حکومت پاکستان نے اس سے پہلے یہ قدم اٹھا لیا ہے ، ہاں اب یہ تو نہیں معلوم کہ عمران خان دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کرنے میں کتنے سنجیدہ اور ایماندار ہیں ۔ ماضی کے تجربات تو یہی بتاتے ہیں کہ وہ کہتے کچھ ہیں اورکرتے کچھ اور۔
ایف اے ٹی ایف نے اپنی تمام شرائط پوری کرنے کے لئے پاکستان کو دسمبر 2019 تک کا وقت دیا تھا ۔ لیکن کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس میں توسیع کر دی گئی اور اب آئندہ ماہ یعنی اکتوبر میں اس کی میٹنگ ہونے والی ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لئے دی گئی 27شرائط کو پورا کیا ہے یا نہیں۔ گرے لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالی اداروں اور یوروپی یونین سے قرض نہیں لے سکتا ۔ ان اداروں سے قرض نہ ملنے کی وجہ سے پاکستانی معیشت خستہ حال ہو چکی ہے۔ اور اگر اس بار بھی اسلام آباد ایف اے ٹی ایف کو مطمئن نہیں کر سکا تو قوی امید ہے کہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا جس کا مطلب ہے اس پر پابندیاں عائد ہو جائیں گی جو اس کی بر بادی کا سبب بن سکتی ہیں۔
پاکستان کو اس وقت اپنی معیشت سنبھالنے کی سخت ضرورت ہے اس لئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ذرا سی تاخیر بھی اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دنیا کو یہ تاثر دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی طے کردہ شرائط کے مطابق ہی کارروائی کر رہے ہیں۔پچھلے مہینے پاکستان نے بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لئے سو سے زیادہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا ، کسی کے خلاف کارروائی ہوئی یا نہیں کسی کوکچھ معلوم نہیں۔
منی لانڈرنگ مخالف ترمیمی بل کا مقصد موجودہ قانون کو بہتر بنا کر اسے بین الاقوامی معیار کا بنانا ہے جیسا کہ ایف اے ٹی ایف کی ہدایت ہے۔ دہشت گردی مخالف ترمیمی بل کا بھی یہی مقصد ہے لیکن لاکھ ٹکے کا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسا کرنے کے لئے واقعی سنجیدہ ہے یا پھر وہ محض ایف اے ٹی ایف کے جال سے باہر نکلنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے ۔
پاکستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں اس کی مالی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے سوال پر سویلین حکومت اور پاکستانی فوج کبھی بھی ہم خیال نہیں رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں ہی ادارے دہشت گردوں کی پرورش کرتے رہے ہیں اور انہیں حکومت کی پالیسی کے تحت ایک اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اب اس وقت یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ اس بار فوج عمران خان کی حمایت کر رہی ہے یا نہیں۔
اپوزیشن پارٹیاں تو کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔پارلیمنٹ میں بل منظور ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی لیڈر بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما شہباز شریف نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو دبانے اور برباد کرنے کے لئے حکومت ایف اے ٹی ایف کے نام پر قومی احتساب بیورو کو مضبوط بنا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بل کے تحت تفتیش کرنے والی ایجنسیوں کو کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے،انڈرکور آپریشن کرنے ،فون پر کسی کی بھی بات چیت کو ریکارڈ کرنے اور کمپیوٹر سسٹم تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ انہوں نے بل منظوری کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ ادھر عمران خان نے اپوزیشن پارٹیوں پر الزام لگایا کہ وہ جمہوریت کی آڑ میں خود کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ پارٹیاں اپنا کالادھن بچانے کے لئے ملک کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کروانے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔
امید کی جاتی ہے کہ اس بار عمران خان اپنے عوام کی بھلائی کے لئے بڑی ایمانداری کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے ۔ورنہ یہ امید بھی صرف امید ہی بن کررہ جائے گی۔
Comments
Post a Comment