دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین گفتگو کا آغاز
لمبے انتظار کے بعد قطر کے شہر دوحہ میں موجود ہ افغان حکومت اور شورش پسند طالبان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا جس کا خاص مقصد جنگ زدہ ملک افغانستان میں پائیدار نوعیت کے امن کا قیام ہے ۔ گفتگو تو شروع ہو رہی ہے اور امید بھی کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے حالات میں بہتری آئے لیکن امید کے ساتھ ساتھ بہت سارے شبہات اور وسوسے بھی موجود ہیں۔ گذشتہ سنیچر یعنی 12 ستمبر کو گفتگو کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس کا اصل مقصد یہ ہے کہ کم و بیش دو دہائیوں سے تشدد اور خون خرابے کے شکار افغانستان میں حالات بدلیں اور امن کے لئے راہ ہموار ہو۔ افغانستان میں جنگ اور خانہ جنگی کا ماحول تو کم و بیش چار دہائیوں سے چلا آ رہا ہے لیکن2001 کے ستمبر کے مہینہ میں امریکہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ کی قیادت میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع ہوئی تھی اسی کے خاتمے کی علامت کے طور پر ان مذاکرات کو دیکھا جا رہا ہے ۔اس سلسلے کا پہلا مرحلہ وہ تھا جس میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی جو اسی سال فروری میں ایک سمجھوتے پر ختم ہوئی تھی۔ لیکن دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ اب آیا ہے جو در اصل بین افغان گفتگو کا دور ہے ۔گفتگو کے آغاز پر عالمی رہنماؤں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں امن کی راہ ہموار ہوگی لیکن اس بات پر سب نے بطور خاص زور دیا ہے کہ گفتگو کے دوران امن و امان بر قرار رکھا جانا چاہئے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دونوں متصادم گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تاریخی موقع کا فائدہ اٹھائیں اور قیام امن کے لئے جامع معاہدہ کریں۔ آپ کا سیاسی نظام کیسا ہوگا ؟ اس کا فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے ۔ تا ہم انہوں نے اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ تمام افغان عوام کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہئے کیونکہ تشدد کا سلسلہ روکنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بات افتتاحی تقریب کے موقع پر کہی۔ جبکہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی امن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی قسمت کا فیصلہ خود افغانستان ہی کے لوگوں کو کرنا چاہئے۔ اس افتتاحی تقریب میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری برائے پاکستان ،افغانستان اور ایران ڈویژن جے پی سنگھ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفدنے شرکت کی ۔ اپنے ورچوئل خطاب میں وزیر خارجہ جے شنکر نے ایک جامع نوعیت کے سیز فائر پر فوری طور پرزور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے تعلق سے ہندوستان کی ایک واضح اور اٹل پالیسی رہی ہے کہ قیام امن کے لئے جو بھی عمل شروع کیا جائے وہ افغانستان کی قیادت میں ہو اور افغان عوام ہی کی شرکت سے ہوا اور پورے طور پر اس پر افغانستان ہی کا کنٹرول ہو کیونکہ اسی طور پر افغانستان کی آزادی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو بر قر ار رکھا جا سکتا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان جو قائم ہوا تھا اسے بہتر طور پر بر قرار رکھنے کا یہی بہتر طریقہ ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی اقلیتوں ،خواتین اور سماج کے کمزور طبقوں نیز پڑوسی ملکوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ضروری ہے ۔
افغانستان کی امن کونسل کے سر براہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ نے یہ کہا کہ بہتر تو یہ ہوگا کہ اگر فریقین تمام نکات پر اتفاق نہ بھی کریں تو کم از کم سمجھوتہ تو کر ہی سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بطور خاص کہی کہ میرے جو مندوب دوحہ میں موجود ہیں وہ ایک سیاسی سسٹم کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ سسٹم ایسا ہے جس کی لاکھوں افغان مرد اور عورتیں مختلف فکر اور کلچر کے لوگ ، سبھی حمایت کرتے ہیں ،مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ جو افغانستان کو اپنا وطن مانتے ہیں ،وہ سب اس بات کے حق میں ہیں کہ انہیں ایک پر امن اور خوشحال افغانستان چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا حکومت کی طرف سے جن مذاکرات کا روں کو بحال کیا گیا ہے ان میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف طالبان کے لیڈر ملا برادر نے یہ کہا کہ افغانستان میں ایک اسلامی نظام ہونا چاہئے جس میں ملک کے تمام قبائل اور نسل کے لوگ محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہ سکیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ وارننگ بھی بہر حال دی ہے کہ مستقبل میں امریکہ کی طرف سے جو مالی امداد دی جائے گی اس کے حجم کا انحصار بڑی حد تک بین الاقوامی فنڈنگ پر ہوتا ہے لہذا اس کی تقسیم اسی بنیاد پر ہوگی کہ افغانستان میں کیا ہورہا ہے اور کون کیا کر دار ادا کر رہا ہے ۔جبکہ امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغان امور زلمے خلیل زاد نے پریس نمائندوں سے کہا کہ دہشت گردی کو روکنا بنیادی شرط ہے لیکن اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا کیونکہ امریکی کانگریس فنڈ مختص کرتے وقت اس بات کا بھی جائزہ لے گی۔
افتتاحی تقریب میں خوش آئند باتیں بھی ہوئیں اور بہتر تجاویز اور سجھاؤ بھی آئے لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بہت سے چیلنج بھی در پیش ہیں۔افتتاحی تقریب میں دونوں طرف کے نمائندے موجود تھے لیکن کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جو فی الحال کسی طرح کے اختلاف کا باعث بنتی لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈگر اتنی آسان نہیں ہے ۔ مستقل سیز فائر یا خواتین کے حقوق کی گارنٹی۔ یہ وہ باتیں ہیں جن پر قدم قدم پر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ غیر ملکی عناصر افغانستان کے بعض حلقوں کو الٹی سمت میں لے جانے کی کوشش کریں گے ۔ خواتین کے حقوق اور سیز فائر کا معاملہ بات چیت کے ایجنڈے میں نمایاں طور پر شامل ہے لیکن جب ان پر بحث کا وقت آئے گا تو فریقین کا الگ الگ انٹر پریٹیشن ہوگا اور وہیں پر پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سسٹم کے سوال پر بھی زبر دست تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ طالبان کا اصرار ہوگا کہ اسلامی امارات قائم ہو جبکہ دوسرا فریق اسلامی جمہوریہ کے حق میں ہوگا۔
افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والے مشاہدین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے جو سابق جنگجو ہیں وہ سجھوتے کے خلاف ہیں۔ اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے یا کچھ سمجھوتہ ہو بھی گیا تو یہ سابق جنگجو کسی دوسرے جنگجو گروپ یا گروپوں سے جا ملیں گے۔زیادہ شبہ اس بات کا ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی مفاہمت داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے افغان گروپ سے ہو سکتی ہے ۔ بعض حلقے تو اب بھی محسوس کر رہے ہیں کہ کچھ مفاہمت ہو چکی ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں افغانستان کے بعض علاقوں میں حملے بڑھ گئے ہیں۔ شکوک و شبہات کا ماحول تو بہر حال باقی ہے لیکن بین افغان بات چیت کا سلسلہ جب آگے بڑھتا ہے تو کیا کچھ دیکھنے میں آئے گا ۔ اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں ہی میں ہو سکتا ہے۔ فی الحال تو یہی کہا جا سکتاہے کہ افتتاحی تقریب میں جو بیانات اور تجاویز آئی ہیں ان کے مطابق اگر بات آگے بڑھتی ہے تو بہتری کی امید کی جا سکتی ہے ۔
افغانستان کی امن کونسل کے سر براہ ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ نے یہ کہا کہ بہتر تو یہ ہوگا کہ اگر فریقین تمام نکات پر اتفاق نہ بھی کریں تو کم از کم سمجھوتہ تو کر ہی سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بطور خاص کہی کہ میرے جو مندوب دوحہ میں موجود ہیں وہ ایک سیاسی سسٹم کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ سسٹم ایسا ہے جس کی لاکھوں افغان مرد اور عورتیں مختلف فکر اور کلچر کے لوگ ، سبھی حمایت کرتے ہیں ،مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ جو افغانستان کو اپنا وطن مانتے ہیں ،وہ سب اس بات کے حق میں ہیں کہ انہیں ایک پر امن اور خوشحال افغانستان چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا حکومت کی طرف سے جن مذاکرات کا روں کو بحال کیا گیا ہے ان میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف طالبان کے لیڈر ملا برادر نے یہ کہا کہ افغانستان میں ایک اسلامی نظام ہونا چاہئے جس میں ملک کے تمام قبائل اور نسل کے لوگ محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہ سکیں اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ وارننگ بھی بہر حال دی ہے کہ مستقبل میں امریکہ کی طرف سے جو مالی امداد دی جائے گی اس کے حجم کا انحصار بڑی حد تک بین الاقوامی فنڈنگ پر ہوتا ہے لہذا اس کی تقسیم اسی بنیاد پر ہوگی کہ افغانستان میں کیا ہورہا ہے اور کون کیا کر دار ادا کر رہا ہے ۔جبکہ امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغان امور زلمے خلیل زاد نے پریس نمائندوں سے کہا کہ دہشت گردی کو روکنا بنیادی شرط ہے لیکن اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا کیونکہ امریکی کانگریس فنڈ مختص کرتے وقت اس بات کا بھی جائزہ لے گی۔
افتتاحی تقریب میں خوش آئند باتیں بھی ہوئیں اور بہتر تجاویز اور سجھاؤ بھی آئے لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بہت سے چیلنج بھی در پیش ہیں۔افتتاحی تقریب میں دونوں طرف کے نمائندے موجود تھے لیکن کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جو فی الحال کسی طرح کے اختلاف کا باعث بنتی لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈگر اتنی آسان نہیں ہے ۔ مستقل سیز فائر یا خواتین کے حقوق کی گارنٹی۔ یہ وہ باتیں ہیں جن پر قدم قدم پر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ غیر ملکی عناصر افغانستان کے بعض حلقوں کو الٹی سمت میں لے جانے کی کوشش کریں گے ۔ خواتین کے حقوق اور سیز فائر کا معاملہ بات چیت کے ایجنڈے میں نمایاں طور پر شامل ہے لیکن جب ان پر بحث کا وقت آئے گا تو فریقین کا الگ الگ انٹر پریٹیشن ہوگا اور وہیں پر پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سسٹم کے سوال پر بھی زبر دست تنازعہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ طالبان کا اصرار ہوگا کہ اسلامی امارات قائم ہو جبکہ دوسرا فریق اسلامی جمہوریہ کے حق میں ہوگا۔
افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والے مشاہدین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے جو سابق جنگجو ہیں وہ سجھوتے کے خلاف ہیں۔ اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے یا کچھ سمجھوتہ ہو بھی گیا تو یہ سابق جنگجو کسی دوسرے جنگجو گروپ یا گروپوں سے جا ملیں گے۔زیادہ شبہ اس بات کا ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی مفاہمت داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے افغان گروپ سے ہو سکتی ہے ۔ بعض حلقے تو اب بھی محسوس کر رہے ہیں کہ کچھ مفاہمت ہو چکی ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں افغانستان کے بعض علاقوں میں حملے بڑھ گئے ہیں۔ شکوک و شبہات کا ماحول تو بہر حال باقی ہے لیکن بین افغان بات چیت کا سلسلہ جب آگے بڑھتا ہے تو کیا کچھ دیکھنے میں آئے گا ۔ اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں ہی میں ہو سکتا ہے۔ فی الحال تو یہی کہا جا سکتاہے کہ افتتاحی تقریب میں جو بیانات اور تجاویز آئی ہیں ان کے مطابق اگر بات آگے بڑھتی ہے تو بہتری کی امید کی جا سکتی ہے ۔
Comments
Post a Comment