پاکستان کی سرحد پار پراکسی وار جاری
امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک لمبی بات چیت کے بعد افغانستان میں قیام امن کے بارے میں اس سال فروری میں ایک سمجھوتہ ہوا۔اس معاہدے میں دوسری باتوں کے علاوہ ایک اہم بات یہ تھی کہ امریکہ نے اس بات سے اتفاق کرلیا تھا کہ افغانستان حکومت کی زیر حراست سینکڑوں طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا اور حکومت کے جو لوگ طالبان کے قبضے میں ہیں انہیں وہ رہا کردیں گے۔ معاہدے کے مطابق افغان حکومت نے زیادہ تر طالبان قیدیوں کو رہا کردیا ہے لیکن وہ ان تقریباً تین سو قیدیوں کو رہا نہیں کرنا چاہتی جن پر دہشت گردی کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا اور فرانس نے بھی ان قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی ہے کیونکہ یہ ان ملکوں کے شہریوں کی ہلاکت میں ملوث تھے۔
معاہدے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کا بھی ذکر ہے اور یہ بات چیت انہیں قیدیوں کی رہائی کو لیکر ابھی تک شروع نہیں ہوسکی تھی لیکن سنیچر کے روز یہ امن مذاکرات بالآخر دوحہ میں شروع ہوگئے۔ اس تاریخی امن مذاکرات کی افتتاحی تقریب کا آغاز قطرکے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نےکیا جس میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے شرکت کی۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔
دراصل صدر ٹرمپ امریکی فوجوں کو افغانستان سے جلد از جلد نکالنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے طالبان کے سامنے ایک طرح سے ہتھیار ڈال کر فروری میں ان سے معاہدہ کرلیا۔ کچھ اسی طرح کا واقعہ ویتنام میں بھی ہوا تھا جہاں امریکی فوجیں بری طرح پھنس گئی تھیں اور ان کا وہاں سے نکلنا مشکل ہوگیا تھا۔ معاہدے پر دستخط تو ہوگئے لیکن امریکہ نے اس بات کو یقینی نہیں بنایاکہ طالبان معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ معاہدے پر دستخط کرنے کا امریکہ کا جو مقصد ہے وہ پورا بھی ہوگا یا نہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔ مثال کے طور پر سمجھوتے میں یہ طے پایا گیا تھا کہ طالبان القاعدہ جیسے جہادی گروپوں سے رشتہ توڑ لیں گے لیکن طالبان نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اپنے بانی ملّا عمر کے بیٹے ملّا یعقوب کو اپنا فوجی سربراہ بنادیا۔ ملّا یعقوب کو بدنام زمانہ دہشت گرد گروپ جیش محمد نے تربیت دی تھی۔ یہ وہ گروپ ہے جس نے افغانستان اور ہندوستان دونوں ملکوں میں دہشت گردانہ حملے کئے ہیں۔
پاکستان، طالبان کا سرپرست اعلی ہے۔ اس جہادی گروپ کے لوگوں کو وہاں پناہ ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے وزیر خارجہ کے ساتھ وفد سطح کی بات چیت کے لئے طالبان کو اپنے یہاں مدعو کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس بار طالبان کے رہنماؤں نے صرف وزیر خارجہ سے ہی ملاقات کی ہو لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی وہاں کی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی تیار کرتی ہیں اور وہی طے کرتی ہیں کہ اس پالیسی کے تحت ان جہادیوں اور دہشت گردوں کا کیا رول ہوگا۔
نائن الیون کے سانحہ کے بعد جب امریکی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو اسی وقت پاکستانی فوج نے کہہ دیا تھا کہ امریکی فوجوں کو بالآخر افغانستان چھوڑنا ہی پڑے گا۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان بظاہر امریکہ کا ساتھ تو دے رہا تھا لیکن پس پردہ وہ افغان طالبان کی مدد کررہا تھا۔ طالبان کے رہنما پاکستان آکر پناہ لے رہے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کو مخلوط افواج سے لڑنے کی ترببیت بھی دی جارہی تھی۔ انہیں اسلحے فراہم کئے جارہے تھے۔ اس بات کا اعتراف خود سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب افغانستان میں ہندوستان کی موجودگی کے سبب کیا جارہا تھا۔ اس عمل میں پاکستان میں ایک ایسا ماحول تیار ہوگیا کہ تقریباً ہر کس و ناکس جہادیوں کی مدد کرنے کو تیار تھا۔ ملک کے تقریباً تمام مدرسے اسلامیات کی تعلیم دینے کی بجائے جہادی تیار کرنے لگے۔ لیکن 2007 میں کچھ مقامی دہشت گرد پاکستانی فوج کے کنٹرول سے باہر آگئے اور انہوں نے تحریک طالبان پاکستان نام کی ایک الگ تنظیم بنالی۔ اس گروپ نے پاکستانی فوج اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ یہ گروپ نہ صرف افغان طالبان کے اشارے پر کام کرتا تھا بلکہ حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے بھی اس کا گہرا تعلق تھا۔ پاکستانی فوج نے تحریک طالبان پاکستان کو برسوں برداشت کیا لیکن بعد میں مجبور ہوکر اسے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنی پڑی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی کارروائی کے دوران افغان طالبان کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ انہیں مختلف قبائلی علاقوں میں دوبارہ بسایا گیا اور ان کی ہر طرح سے مدد کی گئی۔
پاکستانی فوج یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ہندوستان کو افغانستان سے دور رکھنے کےلئے وہ جہادیوں اور دہشت گردوں کی انڈسٹری چلا رہی ہے لہذا اس کے لئے قیمت بھی چکانی پڑے گی اور وہ قیمت ہے عام شہریوں کی جانوں کا زیاں۔ بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور فوجی آپریشن کے دوران 70 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں لیکن پاکستان کے فوجی جرنلوں کے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہند۔ افغان گٹھ جوڑ کو توڑتا ہے تو یہ سب برداشت کرنا ہی پڑے گا۔
لیکن ہندوستان نے یہ بات واضح کردی ہے کہ افغانستان سے اس کی دوستی غیر متزلزل اور نہایت مضبوط ہے۔دونوں ممالک ہمیشہ سے اچھے دوست رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ نئی دہلی کو امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو ہند مخالف سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
Comments
Post a Comment