پاکستان میں جبری گمشدگی کے بڑھتے معاملات پر عدلیہ کا اظہار تشویش



پاکستان میں جبری گمشدگی کی بڑھتی تعداد پر نہ صرف وہاں کے عوام کو فکر ہے بلکہ وہاں کی عدلیہ نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں ایک معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جبری گمشدگی کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور یہ صورت حال کافی تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق صرف اسلام آباد میں پچاس ایسے لوگ ہیں جو برسوں سے لاپتہ ہیں اور ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق صرف پولیس کو ہی کسی کوگرفتار کرنے کا اختیار ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دوسری ایجنسیاں بھی گرفتاریاں کررہی ہیں جو خلاف قانون ہے۔ عدالت عالیہ نے مزید کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی بھی ادارہ انسانی حقوق کی حفاظت کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے تو اسے وفاقی حکومت کی ناکامی سمجھا جائے گا۔ عدالت عبدالقدوس نام کے ایک شخص کی اسلام آباد سے جبری گمشدگی کے معاملے کی سماعت کررہی تھی۔ 

پاکستان میں جبری گمشدگی کے معاملات جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے لیکن بعد کی حکومتوں کے ادورار میں بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔ لوگوں کو سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ کسی بھی الزام میں زبردستی اٹھاکر لے جاتے پھر برسوں ان کا پتہ نہ چلتا کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔2001 میں افغانستان میں امریکی فوجوں کی آمد کے بعد پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہوگیا، خودکش حملے ہونے شروع ہوگئےجن میں معصوم لوگوں کی جانون کا زیاں ہونے لگا۔ ایسی صورت حال میں جنرل مشرف کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔ جن لوگوں کے بارے میں حکومت کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہوتا تھا انہیں سیکورٹی ایجنسیاں اٹھالے جاتی تھیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو تو امریکہ کے حوالے کردیا گیا تھا جنہیں بعد میں‘ گوانتا ناموبے ’کی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد لوگوں کی جبری گمشدگی میں اضافہ ہونے لگا اور روزنامہ ڈان کے مطابق 2016 کے پہلے سات ماہ میں پانچ سو سے زیادہ لوگوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کی گئی۔ اس سے قبل 2011 میں لوگوں کے اغوا اور جبری گمشدگی کے معاملات کی تحقیقات کرنے کے لیے ایک کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ادھر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کی چیئرپرسن اور حقوق انسانی کی علمبردار امینہ مسعود جنجوعہ کے مطابق پاکستان میں پانچ ہزار سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جنہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر اغوا کرلیا گیا ہے اور جن کی رپورٹیں تھانوں میں درج ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا تعلق بلوچ، سندھی، پشتوں، ہزاہ، احمدیہ اور شیعہ برادریوں سے ہے۔ بلوچ رہنما نائلہ قادری کے مطابق پاکستانی فوج نے ہزاروں بلوچ خواتین کو زبردستی ان کے گھروں سے اٹھالیا ہے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ بلوچستان وہ صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ ایسے واقعات ہورہے ہیں۔ صوبے کے علاحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے جاری علاحدگی پسند تحریک کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ لوگ لاپتہ ہوچکے ہیں جنہیں فوج اور آئی ایس کے لوگ جبراََ اٹھاکر لے گئے اور ابھی تک ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔اس سال جون میں بلوچستان نیشنل پارٹی وزیراعظم عمران خان کے پارلیمانی بلاک سے اس وجہ سے الگ ہوگئی کیوں کہ وہ دوسرے مسائل کے علاوہ بلوچیوں کی جبری گمشدگی کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ دو سال قبل جب اس پارٹی نے عمران خان کی مخلوط حکومت سے اتحاد کیا تھا تو پارٹی رہنما اختر مینگل نے 5128 گمشدہ لوگوں کی ایک فہرست حکومت کے حوالے کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ان کا جلد از جلد پتہ لگایا جائے۔ تب سے لے کر اب تک 450 سے زیادہ لوگوں کو رہا کیا جاچکا ہے۔ لیکن اسی مدت کے دوران مزید 1800 لوگوں کا اغوا کرلیا گیا ہے۔ یہ تمام کارروائیاں اظہار رائے کو دبانے کے لیے کی جارہی ہیں۔

علاحدگی پسند عناصر ہوں یا فوج اور آئی ایس آئی کی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافی، سیکورٹی ایجنسیاں کسی کو بھی نہیں بخشتیں۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان خاتون صحافی زینت شہزادی کو 19 اگست 2015 کو کچھ مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ وہ کسی شخص کی جبری گمشدگی کے بارے میں پتہ لگانے کی کوشش کررہی تھیں، آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ جنوری2017 کے اوائل میں سوشل میڈیا پر سرگرم رہنے والے پانچ لوگوں سلمان حیدر، احمد وقاص گورایا، عاصم سعید اور احمد رضا نصیر کو پاکستان کے مختلف علاقوں سے اغوا کرلیا گیا تاہم کچھ دن بعد یہ تمام لوگ گھر واپس آگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ میں رہنے والے صحافیوں سے آئی ایس آئی نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں حقوق انسانی کی پامالی کے بارے میں قلم نہ اٹھائیں ورنہ ان کے کنبوں کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔

اغوا کیے گئے لوگوں کے اہل خانہ برابر احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کی روداد سننے والا کوئی بھی نہیں۔ جبراََ گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایک گروپ نے چند ماہ قبل پاکستان کا دورہ کرنے کی اجازات مانگی تھی تاکہ وہ ایسے معاملات کی تحقیقات کرسکے لیکن اسے کوئی جواب نہ ملا۔

پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں فوج اور آئی ایس آئی کے علاوہ کسی کی نہیں چلتی۔ صورت حال کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو کہنا پڑا کہ گرفتاری کی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے لیکن دوسری ایجنسیاں بھی ایسا کررہی ہیں جو خلاف قانون ہے۔ یہ صورت حال کافی سنگین ہے اور حقوق انسانی کی حفاظت میں روڑے اٹکانے کی اجازت دینا وفاقی حکومت کی ناکامی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ