انسانی حقوق پر حملہ کرنے والے ہانگ کانگ کے نئے قانون کے خلاف اقوام متحدہ کا احتجاج
چین ایک نہیں بلکہ متعدد معاملات میں عالمی برادری کی طرف سے تنقید کا نشانہ بن رہا ہے اور بیشتر معاملات میں اس لیے اس کی نکتہ چینی ہورہی ہے کہ انسانی حقوق اور وقار کے تئیں چین ایک انتہائی غیر حساس ملک ثابت ہورہا ہے۔ ابھی حال ہی میں یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ چین ایغور نسل کے مسلمانون پر شدید ظلم وستم ڈھا رہا ہے اور کچھ ایسے ہتھکنڈے بھی استعمال کررہا ہے جن کے ذریعہ وہ ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ ترتیب دے رہا ہے۔ ان الزامات کی چھان بین کے لیے لندن میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین قانون نے ایک ٹرائبونل قائم کرکے حقیقت کا پتہ لگانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ یہ ٹرائبونل عالمی ایغور کانگریس کی درخواست پر قائم کیا گیا ہے جس نے ابتدائی مرحلے کا کام شروع بھی کردیا ہے۔ لیکن چین صرف صوبۂ سنگیانگ ہی میں زیادتیاں نہیں کررہا ہے بلکہ اس کے ظلم وستم کا دائرہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ہانگ کانگ کے لیے اس نے جو نیا قانون وضع کیاہے، وہ انتہائی سفاکانہ نوعیت کا ہے اور پوری دنیا کے ماہرین قانون اسے انسانی حقوق پر زبردست حملے سے تعبیر کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے چین سے بڑے واضح لفظوں میں کہاہے کہ ہانگ کانگ کے لیے جو نیا سیکورٹی قانون وضع کیا گیا ہے وہ انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ اس قانون کو سابق برطانوی نوآبادی کے سیاسی کارکنوں کو سزا دینے اور پریشان کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ ہیومن رائٹس کے ان ماہرین نے ایک مشترکہ خط حکومت چین کو لکھا ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ماہرین کی طرف سے اس قسم کا قدم اٹھایا جائے اور براہ راست کسی حکومت کو بھیجا جائے۔ خط بھیجنے کے 48 گھنٹے بعد ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے قانون میں اس بات کی بھی گنجائش موجود ہے کہ عدالت کے ججوں اور وکلا کی آزادی بھی چھن جائے اور آزادیٔ اظہار پر بھی قدغن لگ جائے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب یہ قانون بنا تھا اور چین اسے ہانگ کانگ میں رائج کرنے کی تیاریاں کررہا تھا تو اسی وقت اقوام متحدہ نے اس کا نوٹس لیا تھا اور اس پر سخت تنقید کی تھی لیکن ضد اور طاقت کے نشے میں چور چین نے ان تنقیدوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اب ہیومن رائٹس کے ماہرین کی طرف سے لکھے گئے اس کھلے خط میں چین کے اس نام نہاد قومی سیکورٹی قانون برائے ہانگ کانگ کے قانونی پہلوؤں کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ قانون ایک ایسا کالا قانون ہے جو نہ صرف سراسر انسانی حقوق کی پامالی کرنے والا ہے بلکہ اس کے ذریعہ چین نے ایک ایسے معاہدے کی بڑے بھونڈے انداز میں خلاف ورزی کی ہے جس پر اس نے 1997 میں خود دستخط کیے تھے۔ جو نیا قانون اس نے نافذ کیا ہے اسے کچھ اس ڈھنگ سے ترتیب دیا گیا ہے کہ چین جس بات کو بھی چاہے اسے تخریب کارانہ، باغیانہ، دہشت گردانہ یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ سازش کرنے والی سرگرمی قرار دے دےاور ان تمام باتوں کے لیے عمرقید کی سزا تک اس نے طے کررکھی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ چینی حکام اور فائنانشیل سینٹر، دونوں یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ ہانگ کانگ کے استحکام اور خوشحالی کے لیے یہ اقدام ضروری ہیں۔
سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ جب 1997 میں ہانگ کانگ کو دوبارہ چین کے حوالے کیا گیا تو بنیادی سمجھوتہ اسی بات پر ہوا تھا کہ بلا شبہ اس کا نظم چین کے ذمہ ہوگا، لیکن یہاں یہ جو سسٹم نافذ ہوگا وہ چین جیسا نہیں ہوگا بلکہ اس فارمولے کے تحت اس کا انتظام و انصرام ہوگا کہ ایک ملک اور دو نظام رائج رہے گا۔ لہذا اب جو چین نے نیا سیکورٹی قانون ہانگ کانگ پر نافذ کیاگیا ہے وہ اس سمجھوتے کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے۔ 14 صفحات پر مشتمل جو خط اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کے ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے اسےفیونولا نی آؤلن(Fionnula Ni Aolain) نے پوسٹ کیا ہے جو خصوصی افسر برائے تحفظ انسانی حقوق ہیں اور جن کے ذمہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی دیکھ بھال کا کام بھی ہے۔
حال ہی میں چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں نے جموں وکشمیر میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے کچھ انتظامی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔ ان دونوں نے مل کر یہ سوچا ہے کہ کشمیر میں ہونے والے انتظامی اقدامات پر ہندوستان کے خلاف عالمی پیمانے پر پروپگنڈا کیا جائے اور خود اپنے یہاں جو دونوں ملک انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف وزری کررہے ہیں ان پر پردہ ڈالا جاسکے۔ لیکن ان کے یہاں جس بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے وہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دنیا کی نظروں سے مخفی رہ سکے۔ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے کہ اپنے سیاہ کارناموں کو چھپانے کی کوشش میں یہ دونوں ملک دنیا کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں۔لیکن دنیا اور عالمی ادارے اتنے بھی سادہ لوح نہیں ہیں جن کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونکی جاسکے۔ لندن میں اگر ایغور مسلمانوں کی شکایات کی چھان بین کے لیے ایک نیا ٹرائبونل قائم کیا گیا ہے تو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے ہانگ کانگ میں ہونے والی کارروائیوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس سے وابستہ انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک کھلا خط لکھ کر حکومت چین کو آئینہ دکھانے کا کام انجام دیا ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے پاکستان کو سخت وارننگ دی ہے کہ یہاں مختلف سطحوں پر انسانی حقوق کی جو بے دردی سے پامالی ہورہی ہے، اس کی ایک ایک بات کی تفصیل سے اقوام متحدہ واقف ہے،مثلاََ ایسی لاتعداد چیزیں موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے لڑنے والوں اور صحافیوں کی آواز کو کچلنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں اور آن لائن اور آف لائن پروپگنڈا کے ذریعہ ان کو تشدد کانشانہ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ایک ایسے ہی معاملے میں پاکستان کی ایک بے باک خاتون صحافی ماروی سرمد کے خلاف بھی مجرمانہ نوعیت کی مہم شروع کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کی خاتون صحافیوں نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا اور حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایک شرارت آمیز مہم منظم طور پر ان لوگوں کے خلاف چلارہی ہے جو حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہیں۔ ماروی سرمد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے خلاف حکومت حامی حلقے ایک گندی اور دل آزار مہم منظم انداز میں چلارہے ہیں۔ اس خاتون صحافی کو سوشل میڈیا کے ذریعہ نہ صرف تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں بلکہ بھدی بھدی گالیاں اور ہتک آمیز باتیں بھی کہی جارہی ہیں۔ اسی طرح اہانت دین قانون کا بھی انتہائی غلط استعمال ہورہا ہے اور کسی پر بھی یہ الزام لگادیا جاتا ہے کہ وہ دین کی شان میں گستاخی کررہاہے۔ دوسری طرف وہی پاکستان چین میں ایغور مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور شناخت پر ہونے والے حملوں پر نہ صرف خاموش رہتا ہے بلکہ اس کی حمایت بھی کرتا ہے۔ یہ سارا گندہ کھیل پوری دنیا دیکھ اور محسوس کررہی ہے اور اس کے خلاف ہرطرف احتجاج بھی ہورہا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب یہ قانون بنا تھا اور چین اسے ہانگ کانگ میں رائج کرنے کی تیاریاں کررہا تھا تو اسی وقت اقوام متحدہ نے اس کا نوٹس لیا تھا اور اس پر سخت تنقید کی تھی لیکن ضد اور طاقت کے نشے میں چور چین نے ان تنقیدوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اب ہیومن رائٹس کے ماہرین کی طرف سے لکھے گئے اس کھلے خط میں چین کے اس نام نہاد قومی سیکورٹی قانون برائے ہانگ کانگ کے قانونی پہلوؤں کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ قانون ایک ایسا کالا قانون ہے جو نہ صرف سراسر انسانی حقوق کی پامالی کرنے والا ہے بلکہ اس کے ذریعہ چین نے ایک ایسے معاہدے کی بڑے بھونڈے انداز میں خلاف ورزی کی ہے جس پر اس نے 1997 میں خود دستخط کیے تھے۔ جو نیا قانون اس نے نافذ کیا ہے اسے کچھ اس ڈھنگ سے ترتیب دیا گیا ہے کہ چین جس بات کو بھی چاہے اسے تخریب کارانہ، باغیانہ، دہشت گردانہ یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ سازش کرنے والی سرگرمی قرار دے دےاور ان تمام باتوں کے لیے عمرقید کی سزا تک اس نے طے کررکھی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ چینی حکام اور فائنانشیل سینٹر، دونوں یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ ہانگ کانگ کے استحکام اور خوشحالی کے لیے یہ اقدام ضروری ہیں۔
سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ جب 1997 میں ہانگ کانگ کو دوبارہ چین کے حوالے کیا گیا تو بنیادی سمجھوتہ اسی بات پر ہوا تھا کہ بلا شبہ اس کا نظم چین کے ذمہ ہوگا، لیکن یہاں یہ جو سسٹم نافذ ہوگا وہ چین جیسا نہیں ہوگا بلکہ اس فارمولے کے تحت اس کا انتظام و انصرام ہوگا کہ ایک ملک اور دو نظام رائج رہے گا۔ لہذا اب جو چین نے نیا سیکورٹی قانون ہانگ کانگ پر نافذ کیاگیا ہے وہ اس سمجھوتے کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے۔ 14 صفحات پر مشتمل جو خط اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کے ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے اسےفیونولا نی آؤلن(Fionnula Ni Aolain) نے پوسٹ کیا ہے جو خصوصی افسر برائے تحفظ انسانی حقوق ہیں اور جن کے ذمہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی دیکھ بھال کا کام بھی ہے۔
حال ہی میں چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں نے جموں وکشمیر میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے کچھ انتظامی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔ ان دونوں نے مل کر یہ سوچا ہے کہ کشمیر میں ہونے والے انتظامی اقدامات پر ہندوستان کے خلاف عالمی پیمانے پر پروپگنڈا کیا جائے اور خود اپنے یہاں جو دونوں ملک انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف وزری کررہے ہیں ان پر پردہ ڈالا جاسکے۔ لیکن ان کے یہاں جس بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے وہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دنیا کی نظروں سے مخفی رہ سکے۔ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے کہ اپنے سیاہ کارناموں کو چھپانے کی کوشش میں یہ دونوں ملک دنیا کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں۔لیکن دنیا اور عالمی ادارے اتنے بھی سادہ لوح نہیں ہیں جن کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونکی جاسکے۔ لندن میں اگر ایغور مسلمانوں کی شکایات کی چھان بین کے لیے ایک نیا ٹرائبونل قائم کیا گیا ہے تو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے ہانگ کانگ میں ہونے والی کارروائیوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس سے وابستہ انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک کھلا خط لکھ کر حکومت چین کو آئینہ دکھانے کا کام انجام دیا ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے پاکستان کو سخت وارننگ دی ہے کہ یہاں مختلف سطحوں پر انسانی حقوق کی جو بے دردی سے پامالی ہورہی ہے، اس کی ایک ایک بات کی تفصیل سے اقوام متحدہ واقف ہے،مثلاََ ایسی لاتعداد چیزیں موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے لڑنے والوں اور صحافیوں کی آواز کو کچلنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں اور آن لائن اور آف لائن پروپگنڈا کے ذریعہ ان کو تشدد کانشانہ بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ایک ایسے ہی معاملے میں پاکستان کی ایک بے باک خاتون صحافی ماروی سرمد کے خلاف بھی مجرمانہ نوعیت کی مہم شروع کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کی خاتون صحافیوں نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا اور حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایک شرارت آمیز مہم منظم طور پر ان لوگوں کے خلاف چلارہی ہے جو حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہیں۔ ماروی سرمد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے خلاف حکومت حامی حلقے ایک گندی اور دل آزار مہم منظم انداز میں چلارہے ہیں۔ اس خاتون صحافی کو سوشل میڈیا کے ذریعہ نہ صرف تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں بلکہ بھدی بھدی گالیاں اور ہتک آمیز باتیں بھی کہی جارہی ہیں۔ اسی طرح اہانت دین قانون کا بھی انتہائی غلط استعمال ہورہا ہے اور کسی پر بھی یہ الزام لگادیا جاتا ہے کہ وہ دین کی شان میں گستاخی کررہاہے۔ دوسری طرف وہی پاکستان چین میں ایغور مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور شناخت پر ہونے والے حملوں پر نہ صرف خاموش رہتا ہے بلکہ اس کی حمایت بھی کرتا ہے۔ یہ سارا گندہ کھیل پوری دنیا دیکھ اور محسوس کررہی ہے اور اس کے خلاف ہرطرف احتجاج بھی ہورہا ہے۔
Comments
Post a Comment