عمران حکومت کو خود پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لینا چاہیے
پاکستان میں سابق کرکٹ کپتان عمران خان جب سے برسراقتدار آئے ہیں تب سے انہوں نے عجیب قسم کے طرز حکمرانی کو فروغ دینا شروع کیا ہے۔ چوں کہ انہوں نے پاکستان کے عوام سے بڑے لمبے چوڑے وعدے کیے تھے اور یہ دعوی کیا تھا کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط، کرپشن سے پاک اور ہر اعتبار سے شفاف اور آئیڈیل ملک بنائیں گے لیکن دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ ہر محاذ پر ناکام ہوئے ہیں، اس لیے لوگوں کی توجہ بنیادی مسائل سے مبذول کرانے کے لیے ان کی حکومت طرح طرح کے کرتب دکھانے میں مصروف ہو گئی ہے۔ مثلاََ پاکستانی معیشت بد سے بدترہوگئی۔ انسانی حقوق کی پامالی کا یہ عالم ہے کہ نہ صرف اپوزیشن لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیلوں میں ڈالا جارہا ہے بلکہ حکومت کی تنقید کرنے والوں کو بھی طرح طرح کی اذیتیں دی جا رہی ہیں اور پریس پر تو ایک طرح سے سنسرشپ ہی نافذ کردی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عمران خان کے دور اقتدار میں مذہبی اور مسلکی منافرت کو بھی بڑے پیمانے پر بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اہانت دین قانون کا بھی اتنے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہونے لگا ہے کہ بہت سے لوگ یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اگر یہی حال رہا تو عمران خان کی حکومت جنرل ضیاءالحق کے ‘‘اسلامائزیشن’’ والے دور کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ اس وقت جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے اس کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ تقریباََ ہر معاملے میں انسانی حقوق کی بڑی بے دردی سے پامالی ہو رہی ہے۔صحافیوں اور بلاگروں کو ہلاک کرنے اور اغوا کیے جانے کی واردات میں اضافہ ہورہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ خاتون صحافیوں کو بھی ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جا رہی ہیں۔ خاتون صحافیوں کو پریشان کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ مہینے پاکستان کی خاتون صحافیوں نے ایک احتجاجی بیان جاری کیا کہ حکومت اور حکومت نواز حلقوں کی جانب سے ایک منظم مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کے توسط سے انہیں گالیاں دینے اور ڈرانے دھمکانے کا کام انجام دیا جارہا ہے اور ناشائستہ زبان استعمال کی جاتی ہے۔
اندرون پاکستان یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے اس سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ہندوستان کے خلاف بھی ایک پروپگنڈا مہم شروع کردی گئی ہے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی باتیں کہی جانے لگی ہیں۔ حالانکہ اس پروپگنڈے کا توڑ کرتے ہوئے جنیوا میں ہیومن رائٹس کونسل کے 45ویں اجلاس میں ہندوستان کے مستقل نمائندے اندر منی پانڈے نے بڑے واضح الفاظ میں ہندوستان کے اس موقف کو پیش کیا کہ باوجود اس کے کہ ایک پڑوسی ملک باقاعدہ اور مستقل جموں وکشمیر میں دہشت گردی اور تخریب کاری کو فروغ دیتا رہا ہے پھر بھی ہندوستان نے ہر چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے زمینی سطح کی جمہوریت کو وہاں پر وان چڑھایا ہے۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں انتظامی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انتظامی تبدیلیاں تو ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی حیثیت سے اپنے جمہوری اصولوں کو قربان نہیں کرسکتا اور انسانی حقوق کو ہر حال میں بحال رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگست 2019 میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر کے لوگوں کو وہ تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں جو ملک کے دوسرے حصوں کے لوگوں کو ملے ہوئے ہیں۔ وہاں بنیادی اور نچلی سطح پر بھی جمہوریت کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ سماجی اور اقتصادی ترقی اور خوش حالی کے لیے لگاتار کوششیں ہورہی ہیں۔ موجودہ حالات میں عالمی وبا کورونا وائرس اور پڑوسی ملک کی طرف سے دراندازی جیسے درپیش چیلنجوں کے باوجود صورت حال کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان کے شرانگیز پروپگنڈے اور منفی سفارتی سرگرمیوں کے باوجود ہندوستان کی عالمی برادری میں اپنی ساکھ ہے ہندوستانی جمہوریت، شاخ نازک پر بنا ہوا کوئی آشیانہ نہیں ہے جو ہوا کے ایک معمولی جھونکے سے ٹوٹ کر بکھرجائے۔ پاکستان، ہندوستان کے خلاف جھوٹی اطلاعات پھیلانے میں تو پیش پیش رہتا ہے لیکن کیا کبھی اس نے اپنے گریبان میں جھانک کر بھی دیکھا ہے کہ عالمی برادری میں یا خود پاکستان میں انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں عام رائے کیا ہے؟ ابھی زیادہ دن کی بات نہیں ہے۔اسی ماہ کی آٹھ تاریخ کو جنیوا میں ہیومن رائٹس کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان کی طرف سے پریس بریفنگ کے نوٹس جاری ہوئے جن میں کہا گیا کہ ہم بہت زیادہ تشویش کے ساتھ ایسی خبروں کا جائزہ لے رہے ہیں جن سے پتہ چل رہا ہے کہ تشدد کو بڑھاوا دینے کے لیے صحافیوں اور انسانی حقوق کے ایکٹیوسٹ کے خلاف پاکستان میں ایک مہم سی آن لائن اور آف لائن چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے تحت خواتین اور اقلیتوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ بات تو بطور خاص تشویش کا باعث ہے کہ اہانت دین قانون کے تحت بےروک الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ممتاز پاکستانی خاتون صحافی ماروی سرمد پر بھی یہی الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے خلاف نہ صرف سوشل میڈیا میں الزام تراشی ہورہی ہے بلکہ حقیقتاََ پولیس میں شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔ ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسے واقعات کی نہ تو چھان بین ہوتی ہے نہ کوئی پکڑا جاتا ہے اور نہ ہی کسی کو سزا دی جاتی ہے۔ اس پریس بریفنگ میں بہت ساری باتیں کہی گئی ہیں اور حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ کم از کم اتنی حساس بنے کہ وہ ایسے واقعات کی مذمت کرے اور چھان بین کرائے ساتھ ہی ساتھ اہانت دین قانون کے بے روک ٹوک غلط استعمال کو روکے۔
ایسے واقعات کو روکنا غلط کار عناصر کو سزا دلوانا تو دور کی بات فوج کے کندھے پر سوار ہوکر چلنے والی عمران حکومت تو ایسے عناصر کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ممنوعہ دہشت گرد مسلکی تنظیمیں مل کر کراچی جیسے شہر میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف اتنی بڑی ریلی کا اہتمام نہ کرتیں کہ پورے شہر کو یرغمال بنا لیں۔ اس ریلی میں باقاعدہ اور کھلم کھلا یہ نعرے لگائے گئے کہ شیعہ کافر ہوتے ہیں۔ محرم کے جلوس پر پابندی عائد کرنے کی بھی بات کہی گئی۔ غیر مسلم اقلیتوں پر تو پاکستان میں ویسے بھی طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور وہ خوف اور موت کے سائے میں سانس لینے پر مجبور کیے جاتے ہیں لیکن اب شیعہ مسلمانوں کے لیے بھی پاکستان کی سرزمین تنگ سے تنگ ہوتی جارہی ہے۔ ان کی عبادت گاہوں اور امام بارگاہوں پر آئے دن حملے ہوتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں شیعہ مسلمان 20 فیصد آبادی احاطہ کرتے ہیں۔ ان کی حالات بھی اب دوسری اقلیتوں سے مختلف نہیں ہے۔ کیا ایسے ملک کے حکمرانوں کو یہ اخلاقی حق حاصل ہے کہ وہ کسی اور ملک پر انگلی اٹھائیں؟
Comments
Post a Comment