میڈیا کی آزادی اور حکمرانی میں شفافیت پاکستان کی معتبریت کیلئے لازمی
میڈیا کو کسی بھی جمہوری ملک کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی معتبریت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہاں کی حکومت کے کاموں اور فیصلوں میں کتنی شفافیت ہے نیز وہاں کی میڈیا کتنی آزاد ہے۔ میڈیا حکومت کی کارروائیوں پر نظر رکھتی ہے اور اس کے ذریعہ کئے گئے صحیح اور غلط کاموں کی خبر عوام تک پہنچاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں میڈیا اس وقت بہت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ میڈیا گھرانوں پر ایسے صحافیوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا سخت دباؤ ہے جو سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کے مطابق کام نہیں کررہے ہیں۔ میڈیا کو سخت سینسرشپ کا سامنا ہے۔ اظہا رائے کی آزادی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو بھی معتبریت کے بحران کا سامنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب میڈیا کو اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوگی اور حکومت اپنی حکمرانی میں شفافیت نہیں برتے گی تو حکومت کی ایمانداری پر سوال تو اٹھیں گے ہی اور جب سوال اٹھیں گے تب اس کی معتبریت کو دھچکا بھی لگے گا اور بین الاقوامی برادری اس نتیجے پر پہنچے گی کہ حکومت حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے۔
حکومت کی کوئی بھی مشینری اگر سماج میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت اور ملک کی معتبریت پر زبردست وار کررہی ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پریس کی آزادی کو چوٹ پہنچانے کی ہرزمانے میں کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن سب سے اہم واقعہ اپریل 2014 میں پیش آیا جب جیو ٹیلی ویژن نے اپنے سینئر صحافی حامد میر پر ہوئے قاتلانہ حملے کی خبردی۔ جیو نے آئی ایس آئی کے اس وقت کے ڈی جی کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ اس خبر نے حکمراں طبقہ کو یہ باور کرادیا کہ ان کی تانا شاہی اور میڈیا کی آزادی سماج میں ایک ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سبھی کو معلوم ہے۔
دو ہزار اٹھارہ کے متنازعہ عام انتخابات کے بعد پاکستان میں میڈیا پر پابندیاں بڑھتی چلی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں ایک کمزور حکومت کو اقتدار میں لانے کیلئے فوج نے اپنا پورا زور لگا دیا تھا۔ جب میڈیا کے کچھ حلقوں نے فوج کے کردار پر سوال اٹھایا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں خاموش کرادیا۔ جو صحافی سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف بول رہے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ ویسا ہی کریں جیسا ان سے کہا جائے ورنہ انہیں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ بہت سے صحافیوں نے تو ہتھیار ڈال دئے اور جو صحافی بغیر کسی خوف کے لکھتے رہے انہیں اپنی ملازمت سے واقعی ہاتھ دھونا پڑا۔ ان صحافیوں میں نجم سیٹھی، نصرت جاوید اور مرتضیٰ سولنگی کے نام قابل ذکر ہیں۔
دنیا میں جابرانہ حکومتیں اپنا زیادہ تر وقت عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کرنے کی بجائے اپنے مخالفین کو دبانے اور کچلنے میں صرف کرتی ہیں۔اس وقت پاکستان میں بھی یہی ہورہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چین کی طرز حکمرانی کافی پسند ہے۔وہ کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ چین کی طرح اپنے سیکڑوں بدعنوان مخالفین کو جیل میں ڈال دیں تو ملک کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں سے مقابلہ کرنے لگے گی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کے زیادہ تر مخالفین پہلے سے ہی جیل میں ہیں یا پھر ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں ۔ پھر بھی فوج کی حمایت یافتہ ان کی حکومت مفلوج نظر آرہی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ آپ عوامی دلچسپی کی خبریں دے نہیں سکتے جبکہ میڈیا میں ملک کے اہم مسائل پر بحث و مباحثوں کا انعقاد بہت ہی کم ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں انگریزی روزنامہ ‘‘ڈان’’ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس مہم کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ ان علاقوں میں جہاں فوج کا کنٹرول ہے وہاں اس اخبار کی رسائی پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس کے علاوہ سرکاری اشتہارات بھی روک دیئے گئے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا انٹرویو لینے کیلئے ایک سینئر صحافی سیرل المیداکو باغی قرار دے کر ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس کے بعد اخبار کے اسلام آباد دفتر کے باہر سیکڑوں مظاہرین نے اخبار کے خلاف نعرے لگائے اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ مظاہرین سرکاری ملازمین تھے جو فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت میں بھی نعرے لگارہے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اخبار کے مدیر ظفر عباس نے امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہتھیار ڈال دینا نہیں بلکہ سچ بولنا ہی صحافت ہے۔
حکومت بغاوت کے نام پر میڈیا کو خاموش کرنا ایک نیک کام سمجھتی ہے۔ ملک کی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے پچھلے سال جولائی میں احتساب بیورو کے ایک جج کے بارے میں مریم نواز کی پریس کانفرنس کو لے کر دو درجن سے زیادہ ٹی وی چینلوں پر سنسر شپ لگا دی تھی۔ اس کے علاوہ تین چینلوں کو پریس کانفرنس لائیو نشر کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ بلاول بھٹو کی ریلیوں اور دوسری مصروفیات کو بھی ٹی وی چینلوں پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔
ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں نہ تو اظہار رائے کی آزادی ہے اور نہ ہی اس کی حکمرانی میں شفافیت۔ اب پاکستانی حکومت کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے اور اپنی معتبریت قائم کرنے کی کوشش کرے یا پھر اپنی اس شبیہ کی حفاظت کرے کہ سماج میں کسی کو بھی اسے چیلنج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر وہ پہلا راستہ چنتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ میڈیا کو حکومت کے صحیح اور غلط کاموں کی سچی تصویر پیش کرنے کی پوری آزادی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ وہ شفافیت برتنا چاہتی ہے اور نہ ہی میڈیا کو اظہار رائے کی آزادی دینا چاہتی ہے۔ اب تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی حرکتوں سے لگتا ہے کہ اس نے آج کے سیاسی اور جغرافیائی مقابلے میں جابرانہ حکومتوں کے خیمہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
حکومت کی کوئی بھی مشینری اگر سماج میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت اور ملک کی معتبریت پر زبردست وار کررہی ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پریس کی آزادی کو چوٹ پہنچانے کی ہرزمانے میں کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن سب سے اہم واقعہ اپریل 2014 میں پیش آیا جب جیو ٹیلی ویژن نے اپنے سینئر صحافی حامد میر پر ہوئے قاتلانہ حملے کی خبردی۔ جیو نے آئی ایس آئی کے اس وقت کے ڈی جی کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ اس خبر نے حکمراں طبقہ کو یہ باور کرادیا کہ ان کی تانا شاہی اور میڈیا کی آزادی سماج میں ایک ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سبھی کو معلوم ہے۔
دو ہزار اٹھارہ کے متنازعہ عام انتخابات کے بعد پاکستان میں میڈیا پر پابندیاں بڑھتی چلی گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں ایک کمزور حکومت کو اقتدار میں لانے کیلئے فوج نے اپنا پورا زور لگا دیا تھا۔ جب میڈیا کے کچھ حلقوں نے فوج کے کردار پر سوال اٹھایا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں خاموش کرادیا۔ جو صحافی سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف بول رہے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ ویسا ہی کریں جیسا ان سے کہا جائے ورنہ انہیں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ بہت سے صحافیوں نے تو ہتھیار ڈال دئے اور جو صحافی بغیر کسی خوف کے لکھتے رہے انہیں اپنی ملازمت سے واقعی ہاتھ دھونا پڑا۔ ان صحافیوں میں نجم سیٹھی، نصرت جاوید اور مرتضیٰ سولنگی کے نام قابل ذکر ہیں۔
دنیا میں جابرانہ حکومتیں اپنا زیادہ تر وقت عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کرنے کی بجائے اپنے مخالفین کو دبانے اور کچلنے میں صرف کرتی ہیں۔اس وقت پاکستان میں بھی یہی ہورہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چین کی طرز حکمرانی کافی پسند ہے۔وہ کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ چین کی طرح اپنے سیکڑوں بدعنوان مخالفین کو جیل میں ڈال دیں تو ملک کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں سے مقابلہ کرنے لگے گی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کے زیادہ تر مخالفین پہلے سے ہی جیل میں ہیں یا پھر ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں ۔ پھر بھی فوج کی حمایت یافتہ ان کی حکومت مفلوج نظر آرہی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ آپ عوامی دلچسپی کی خبریں دے نہیں سکتے جبکہ میڈیا میں ملک کے اہم مسائل پر بحث و مباحثوں کا انعقاد بہت ہی کم ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں انگریزی روزنامہ ‘‘ڈان’’ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس مہم کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ ان علاقوں میں جہاں فوج کا کنٹرول ہے وہاں اس اخبار کی رسائی پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس کے علاوہ سرکاری اشتہارات بھی روک دیئے گئے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا انٹرویو لینے کیلئے ایک سینئر صحافی سیرل المیداکو باغی قرار دے کر ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس کے بعد اخبار کے اسلام آباد دفتر کے باہر سیکڑوں مظاہرین نے اخبار کے خلاف نعرے لگائے اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ مظاہرین سرکاری ملازمین تھے جو فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت میں بھی نعرے لگارہے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اخبار کے مدیر ظفر عباس نے امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہتھیار ڈال دینا نہیں بلکہ سچ بولنا ہی صحافت ہے۔
حکومت بغاوت کے نام پر میڈیا کو خاموش کرنا ایک نیک کام سمجھتی ہے۔ ملک کی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے پچھلے سال جولائی میں احتساب بیورو کے ایک جج کے بارے میں مریم نواز کی پریس کانفرنس کو لے کر دو درجن سے زیادہ ٹی وی چینلوں پر سنسر شپ لگا دی تھی۔ اس کے علاوہ تین چینلوں کو پریس کانفرنس لائیو نشر کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ بلاول بھٹو کی ریلیوں اور دوسری مصروفیات کو بھی ٹی وی چینلوں پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔
ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں نہ تو اظہار رائے کی آزادی ہے اور نہ ہی اس کی حکمرانی میں شفافیت۔ اب پاکستانی حکومت کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے اور اپنی معتبریت قائم کرنے کی کوشش کرے یا پھر اپنی اس شبیہ کی حفاظت کرے کہ سماج میں کسی کو بھی اسے چیلنج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر وہ پہلا راستہ چنتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ میڈیا کو حکومت کے صحیح اور غلط کاموں کی سچی تصویر پیش کرنے کی پوری آزادی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ وہ شفافیت برتنا چاہتی ہے اور نہ ہی میڈیا کو اظہار رائے کی آزادی دینا چاہتی ہے۔ اب تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی حرکتوں سے لگتا ہے کہ اس نے آج کے سیاسی اور جغرافیائی مقابلے میں جابرانہ حکومتوں کے خیمہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
Comments
Post a Comment