طالبان کے اڈے پر حملہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر متضاد دعوے
ایک طرف قطر کی راجدھانی دوحہ میں بین افغان مذاکرات کے طے شدہ پروگرام کے تحت حکومت افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان سے دونوں فریقوں کے درمیان تصادم اور جھڑپوں کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔ ایسی خبریں غیر متوقع بھی نہیں ہیں کیونکہ طالبان کی طرف سے حملوں اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ کبھی رکا ہی نہیں۔بات چیت کا پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ حالانکہ اس مرحلے میں بھی کافی پیچیدگیاں اور رکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں، بلکہ بات چیت کا وہ سلسلہ ایک بار ٹوٹ بھی گیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ بات چیت کے دوران بھی طالبان کے حملے جاری تھے اور اندرون افغانستان حملے بڑھتے ہی جارہے تھے۔ ایسے ہی ایک حملے میں ایک امریکی فوجی بھی طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہوا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے درمیان ہی میں بات چیت کا سلسلہ منسوخ کردیا تھا۔ بہرحال کچھ مدت بعد وہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوا اور اس بار امریکہ اور طالبان کے درمیان ضروری سمجھوتہ ہوگیا۔ مذاکرات کا دوسرا اور اہم مرحلہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے سمجھوتے کے تحت تو امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کی بات شامل تھی اور امریکہ کو طالبان سے یہ گارنٹی چاہئے تھی کہ امریکی فوجیوں کی واپسی محفوظ طور پر ہوگی۔ منصوبہ کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ اندرون افغانستان پائیدار امن کے قیام کے لئے طالبان اور افغان حکومت سمیت افغانستان کے دوسرے حلقوں کے بارے میں آپس میں بات چیت ہو اور اتفاق رائے سے کوئی حل تلاش کیا جائے۔ بہرحال وہ مرحلہ بھی دوحہ میں اب شروع ہوچکا ہے جس کی گزشتہ ہفتہ افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ مشاہدین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان حکومت اور طالبان نمائندوں کے درمیان جو بات چیت ہورہی ہے، شاید یہ سب سے زیادہ دشوار گزار ثابت ہوگی۔ ایک بات تو پہلے ہی محسوس کی جارہی تھی کہ سیز فائر کے معاملے میں طالبان کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں جبکہ حکومت افغانستان چاہتی ہے کہ طالبان پرتشدد کارروائیاں بند کریں۔
دوحہ میں افتتاحی تقریب کے دوران بھی یہی محسوس کیا گیا تھا کہ اس مرحلے میں سیز فائر نظام حکومت اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق نیز خواتین کی تعلیم سے متعلق گفتگو کا مرحلہ جب آئے گا تو دونوں فریقوں کے خیالات میں اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں لیکن ابھی تو ان امور پر گفتگو کا مرحلہ آیا بھی نہیں لیکن اندرون افغانستان جو کچھ ہو رہا ہے، وہ خاصا پریشان کن ہے۔ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں بھی ہورہی ہیں اور پرتشدد کارروائیاں بھی انتہا پسندوں کی طرف سے جاری ہیں۔ گزشتہ سنیچر کو افغان ایئر فورس نے طالبان کے ایک بیس پر دو حملے کئے جس کے نتیجے میں 40 افراد کے ہلاک ہونے کی خبرہے لیکن اس سلسلے میں متضاد دعوے کئے جارہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان انتہاپسند شامل تھے جبکہ طالبان کا دعوی یہ ہے کہ ان حملوں میں صرف سویلین مارے گئے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ ایک طرف کابل میں وزارت دفاع کے بیان میں سویلین کی ہلاکت کا کوئی ذکر نہیں ہے، دوسری طرف طالبان نے اپنے جنگجوؤں کی ہلاکت کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ یہ حملے صوبہ قندوز میں طالبان کے ایک اڈے پر ہوئے تھے۔ اس صوبے کے ایک سرکاری افسر نے یہ کہا ہے کہ ان ہوائی حملوں میں کم از کم 12 سویلین ہلاک اور 10 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ گویا کچھ سویلین بھی ضرور ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان جنگجو بھی یقیناً ہلاک ہوئے ہوں گے۔ صوبائی افسر کے مطابق پہلے حملے میں طالبان جنگجو مارے گئے تھے جبکہ دوسرے میں عام شہری نشانہ بنے۔ ظاہر ہے حملے انتہاپسندوں کی طرف سے ہوں یا جوابی کارروائی کے طور پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے کوئی کارروائی ہو، دونوں صورتوں میں عام لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے۔ سو اُن حملوں میں بھی ایسا ہوا ہوگا۔ افغان وزارت دفاع کے ذرائع نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی چھان بین کرائی جارہی ہے۔ صوبہ قندوز کی نمائندگی کرنے والی ممبر پارلیمنٹ فاطمہ عزیز کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان ہوائی حملوں میں طالبان انتہاپسندوں کے ساتھ ساتھ سویلین بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
بہرحال ایک ایسے وقت میں جبکہ دوحہ میں ان دونوں فریقوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہو تو اندرون ملک اس طرح کے تصادم کو فال نیک نہیں کہا جاسکتا۔ اس طرح کی صورتحال سے افغانستان کے امن پسند حملوں میں یقیناً مایوسی پیدا ہوگی اور اسی پس منظر میں افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مشاہدین اور تجزیہ کار دوحہ میں چلنے والی بات چیت سے کچھ زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔ بیشتر تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ سب سے دشوار مرحلہ اس وقت درپیش ہوگا جب نظام حکومت کے سوال پر بات چیت ہوگی۔ طالبان کا اصرار اس بات پر ہوگا کہ افغانستان میں خالص اسلامی حکومت قائم ہو جبکہ حکومت اور دوسرے حلقے یہ چاہیں گے کہ وہاں اسلامی جمہوریہ ہو۔ اگر افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس درمیان افغانستان میں اعتدال پسندی کو فروغ حاصل ہوا ہے اور لوگ ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں طالبان کے دور والی سخت گیریاں نہ ہوں۔ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور مختلف شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا جو موقع ملا ہے، اسے وہ گنوانا نہیں چاہتیں۔ موجودہ حکومت میں پورے طور پر نہ سہی لیکن کچھ حد تک خواتین کو بھی نمائندگی ضرور ملی ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لئے جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں تین چار خواتین بھی شامل ہیں۔ آج کے زمانے میں سخت گیر قوانین اور ضابطے، ویسے بھی بے وقت کی راگنی معلوم ہوتے ہیں۔ انسانی تہذیب کا کاررواں آگے بڑھتا ہے۔ پیچھے مڑکر نہیں دیکھتا۔ طالبان کو یہ بات محسوس کرنی چاہیے کہ جس ملک کا وہ نظام چلانا چاہتے ہیں یا اس نظام میں حصہ داری چاہتے ہیں تو انہیں اس ملک کے مختلف حلقوں کی خواہشات اور امنگوں کا بھی احساس کرنا ہوگا اور انہیں ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ویسے تو طالبان کے نمائندوں نے یہ کہا ہےکہ مختلف نسل کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے لیکن اگر طالبان کے پچھلے دور اقتدار کی بات کی جائے تو اس دور کو یاد کرکے آج بھی لوگ گھبرا اٹھتے ہیں اور خواتین اور اقلیتیں تو بطور خاص کانپ اٹھتی ہیں۔ اگر طالبان اعتدال پسندی کا ثبوت دیں تو اس کی پہل اس طور پر کرسکتے ہیں کہ خود افغانستان میں حملوں کا سلسلہ بند کرکے مذاکرات کی راہ کو زیادہ ہموار بناسکتے ہیں۔ اس کے بعد کا راستہ خود بخود آسان ہوتا جائے گا۔
Comments
Post a Comment