موضوع: عمران خان کا پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب



پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی شبیہ بہتر بنا کر ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا وعدہ کیاتھا۔ ایک ایسا پاکستان جس میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہ ہو اور جو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰؐ کے رہنما اصولوں کے مطابق ہو جیسا کہ شہر مدینہ تھا۔ لیکن یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ملک کی خستہ حال معیشت، اتحادیوں کی مخلوط حکومت سے رخصتی اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کا خدشہ، یہ وہ باتیں ہیں جو عمران خان حکومت کی کارکردگی کی داستان بیان کرتی ہیں۔

اپنی حکومت کی تیسری سالگرہ کے موقع پر عمران خان نے اپنی پچھلے دو سال کی حصولیابیوں کو گنوانے کیلئے ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز کا کئی بار دورہ کیا۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی پسند کی خارجہ پالیسی کے ذریعہ پاکستان کی شبیہ کو بہتر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس وبا سے مقابلہ کرنے میں ان کی حکومت نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے، جو ان کی سب اہم حصولیابی ہے۔ ٹیلی ویژن پرایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ ایک ایسا ملک جس کا خواب اس کے قیام کے وقت دیکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو عالم اسلام کیلئے ایک مثال بناناچاہتے ہیں۔وہ اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ ان کا ملک ریاست مدینہ کی طرح بن جائے جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰؐ کے زمانے میں تھا۔

حکومت پاکستان نے مدرسوں کو اہمیت دینے اور انہیں زندگی کے اصل دھارے سے جوڑنے کیلئے متنازعہ سنگل نیشیل کریکولم پالیسی نافذ کردی ہے۔ اس پالیسی کے تحت درجہ پانچ تک کے بچوں کو دینیات پڑھانا لازمی ہوگا۔اس کے علاوہ درجہ آٹھ نو اور دس کے بچوں کے لئے اسکول سلیبس میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰؐ کی حیات طیبہ کے بارے میں ایک نیا چیپٹر شروع کرنا ہوگا تاکہ طلباء ان کی زندگی سے سبق حاصل کرسکیں۔ اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی تعلیم کو نہیں بلکہ نظریہ کو دھیان میں رکھ کر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی پر مذہب کا رنگ چڑھا ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ بہت کم عمر میں ہی بچوں پر مذہب کا رنگ چڑھنے لگے گا ۔ اس پالیسی کے باعث مستقبل میں عام طلباء اور طالبات پر مدرسوں کا کافی گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ بات بھی دیکھنے کو ملی ہے کہ آج کل عمران خان میڈیا کے ساتھ بات چیت میں اکثر اسلامی ریاست کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔

اس نئی پالیسی کاذکر کرتے ہوئے پاکستان کے مشہور و معروف ماہر تعلیم پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ اس نئے کریکولم سے اسکول کے بچوں میں کسی طرح بھی مساوات پیدا نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ درجہ اول سے درجہ پانچ تک کے بچوںکو نہ صرف دینیات پڑھائی جائے گی بلکہ انہیں قرآن بھی حفظ کرنا ہوگا، انہیں اس کا ترجمہ بھی سمجھنا ہوگا۔ جب مذہبی درس کا اتنابوجھ ہوگا تو بچے دوسرے مضمون کیسے پڑھ پائیں گے؟انہوں نے کہا کہ اسکولوں کا مقصد بچوں کو موجودہ زندگی کے لئے تیار کرنا ہے جبکہ مدرسے آخرت کیلئے بچوں کو تیار کرتے ہیں۔ اس لئے ان دونوں کو مشترک کیسے کرسکتے ہیں؟ انہوں نے ان چار سو ماہرین کی معتبریت پر بھی سوال اٹھایا جن سے نیا کریکولم متعارف کرنے کیلئے صلاح و مشورہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی کے بارے میں ایک جائز ے کے مطابق 54 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت گزشتہ دو برسوں کے دوران تمام محاذ پر مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان کا کہناہے کہ اس مدت میں شرح افراط زر میں کافی اضافہ ہوا ہے، بے روزگاری بڑھی ہے اور بد عنوانی بھی اپنے شباب پر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کابینہ میں جن لوگوں کو شامل کیا گیا ہے ان کی شبیہ اچھی نہیں ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایک بار کچھ کہتے ہیں لیکن بعد میں اسی بات سے پلٹ جاتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں کافی تضاد ہے۔

برسوں سے سکیورٹی اسٹبلشمنٹ پاکستان میں قومی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق پالیسی کا تعین کرتی رہی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت میں اس سلسلہ میں اس کا عمل دخل کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔ فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے اکثر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے فیصلوں سے حکومت کو بچایا ہے جو انہوں نے جذبات میں آکر بغیر سوچے سمجھے لئے تھے۔ مثال کے طور پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کو لے لیجئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب کشمیر مسئلہ پر او آئی سی کے وزراء خارجہ کی میٹنگ طلب نہیں کرسکتا تو وہ اس کے لئے وزیر اعظم عمران خان سےدرخواست کریں گے۔ اس بیان سے سعودی عرب کافی ناراض ہوا اور معاملات کو بگڑنے سے بچانے کے لئے قمر باجوہ نے فوراً ریاض کا دورہ کیا۔

خبر ہے کہ عمران خان کی کابینہ کے اندر اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ان کی کابینہ کے بہت سے ارکان پاکستان کو اسلامی ریاست بنا نے کے ان کے مشن سے اتفاق نہیں رکھتے۔ عمران خان کو اپوزیشن کا سخت سامنا ہے۔ ملک کی معیشت بھی خستہ حال ہے اور ملک پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی لٹکی ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عمران خان اپنی باقی ماندہ مدت کار میں پاکستان کو ‘‘ریاست مدینہ’’ بناسکتے ہیں یا نہیں، یا پھر انہیں زمینی حقائق کا اندازہ ہوجائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ