پاکستان کا اہانت اسلام قانون اس کے مخالفین اور اقلیتوں کے خلاف بہترین ہتھکنڈہ



پاکستان کے شہر پشاور میں اس سال جولائی میں طاہر احمد نسیم نام کے ایک شخص کو اہانت اسلام کے الزام میں قتل کردیا گیا۔ اس سے پہلے کہ اس معاملہ میں عدالت کوئی فیصلہ سناتی ایک جنونی شخص نے عدالت کے اندر ہی طاہر کو گولی ماردی۔ طاہر احمد نسیم خود کو پیغمبر بتاتا تھا جس کے الزام میں وہ 2018 سے پشاور کی سینٹرل جیل میں قید تھا۔ اس واقعہ کے بعد طاہر کے قاتل کو ہیرو بنادیاگیا۔ جن لوگوں نے طاہر کے قاتل کے قصیدے پڑھے ان میں حکمراں پارٹی کے لیڈر حلیم عادل شیخ بھی شامل تھے۔

پاکستان کے حقوق انسانی کے علمبردار 65 سالہ بشپ جان جوژف اس قانون میں اصلاح کے لیے دہائیوں سے کام کررہے تھے۔ چھ مئی 1998 کو وہ ساہیوال کی ایک عدالت کے سامنے کچھ لوگوں کے ساتھ مظاہرہ کررہے تھے جہاں چند روز قبل ایوب مسیح نام کے ایک شخص کو اہانت اسلام کا مجرم قرار دے کر اسے سزائے موت سنادی گئی تھی۔ جوژف عدالت کے دروازے تک گئے جہاں انہوں نے مسیح کے لیے دعا مانگنے کے بعد اپنی جیب سے ریوالور نکال کر خود کو گولی مارلی۔ بشپ جوژف کی یہ خودکشی پاکستانی سماج کے دامن پر آج بھی ایک بدنما داغ ہے۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو چار جنوری 2011 کو اسلام آباد میں ہلاک کردیا گیا۔ ان کے قاتل ممتاز قادری کے مداحوں نے اسلام آباد میں اس کی قبر کو ایک مقبرہ میں تبدیل کردیا جس کی زیارت کرنے کے لیے دوسروں کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد محمد صفدر بھی جاتے ہیں۔ قادری کے مداحوں میں پنجاب کری کولم اینڈ ٹکسٹ بک بورڈ (Punjab curriculum and text book board) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر رائے منظور ناصر کا نام بھی شامل ہے۔

پاکستان کو اہانت اسلام قانون اس کے سابق برطانوی حکمرانوں سے ورثے میں ملا۔ جنہوں نے 1860 میں برصغیر ہند میں ہندو-مسلم فسادات روکنے کے لیے مذہب سے متعلق کچھ قوانین وضع کیے تھے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کے مطابق1860 اور 1947 کے درمیان اہانت اسلام سے متعلق صرف سات معاملات درج ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان قوانین کا استعمال شاذونادر ہی ہوا۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق 1977 تک اہانت اسلام سے متعلق مقدمات میں صرف دس فیصلے ہی سامنے آئے۔ ہاں اس سے پہلے 1974 میں یہ ضرور ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں احمدیہ فرقہ کو غیرمسلم قرار دے دیا گیا۔ 

1980 اور 1986 کے درمیان جنرل ضیاءالحق کی فوجی حکومت نے اہانت اسلام قانون کو مزید مضبوط بنایا اور اس میں پانچ نئی دفعات جوڑ دیں۔ 1977 سے لے کر 1988 تک جنرل ضیاءالحق کے دور میں اہانت اسلام سے متعلق معاملات میں کافی اضافہ ہوا۔لوگوں نے اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے اس قانون کا خوب ناجائز استعمال کیا۔ سی آر ایس ایس کے مطابق اس مدت میں 80 سے زیادہ مقدمات دائر کیے گئے۔ لیکن 1991 میں ایک اعلی اسلامی عدالت نے جب یہ فیصلہ سنایا کہ توہین رسالت کی سزا موت سے کم نہیں تو معاملات میں مزید اضافہ ہونے لگا۔2011 سے لے کر 2015 تک کی جو تفصیلات موجود ہیں ان کے مطابق پاکستان میں اہانت اسلام سے متعلق 1296 سے زیادہ معاملات درج ہوچکے ہیں اور اس وقت تقریباََ 80 لوگ ایسے ہیں جنہیں اس جرم میں یا تو سزائے موت مل چکی ہے یا تاحیات قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق 75 لوگ ایسے ہیں جن کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے جنونی لوگوں نے ہلاک کردیا۔ حالیہ برسوں میں اس قانون کے تحت دائر کیے گئے مقدمات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ابھی پچھلے ماہ ملک کے شیعہ فرقہ کے کچھ لوگوں کے خلاف بھی اس قانون کے تحت مقدمات دائر کیے گئے۔ سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف پر بھی توہین رسالت کا الزام لگ چکا ہے۔ ان کا صرف اتنا سا قصور تھا کہ انہوں نے تمام مذاہب کو برابر کا قرار دیا تھا۔

صورت حال یہ ہے کہ صرف وہی لوگ جنونی لوگوں کا نشانہ نہیں بنتے جن پر اہانت اسلام کا الزام ہوتا ہے بلکہ ان ججوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جو ملزم کے حق میں فیصلہ سناتے ہیں۔ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی خاتون آسیہ بی بی کی کہانی آپ کو یاد ہوگی۔ سپریم کورٹ نے جب انہیں تمام الزامات سے بری کردیا تو ملاؤں نے متعلقہ جج کو ہی جان سے مارنے کے لیے لوگوں کو اکسایا۔ پاکستانی سماج میں مذہبی شدت پسندی اس درجہ سرایت کر گئی ہے کہ دوسرے مذہبوں اور عقیدوں سے تعلق رکھنے والوں کو برداشت ہی نہیں کیا جاتا ۔ اب تو توہین رسالت کے نام پر ہزاروں لوگوں کو تشدد برپا کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے مذہبی پارٹیوں کو شہرت مل جاتی ہے اس سے انہیں اور کچھ نہیں تو حکومت سے سودے بازی کا موقع تو مل ہی جاتا ہے۔

بہرحال، پاکستان کی داخلی صورت حال کافی سنگین ہے۔ مذہبی پارٹیاں سیاست پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس کی ایک مثال تحریک لبیک پاکستان ہے، جس نے 2017 میں توہین رسالت کے ایشو پر حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر ان پارٹیوں کا زور چلا اور اس قانون میں ترمیمات نہیں کی گئیں تو سول سوسائٹی خاص طور پر اقلیتوں کا ملک میں زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ