شنجیانگ صوبے میں ہزاروں مسجدیں اور مزارات چین کے ہاتھوں مسمار



چین پر پچھلے کئی برسوں سےایغور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔لیکن پچھلے کچھ مہینوں میں جو ثبوت سامنے آئےہیں ان کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ بیجنگ اپنی اقلیتوں کی مذہبی اورثقافتی شناخت مٹادینا چاہتا ہے۔ اپنی اس مہم کے تحت چینی حکام نے شنجیانگ صوبے میں ہزاروں مسجدوں کو یا تو پوری طرح سے مسمار کردیا ہے یا پھر انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اس بات کا خلاصہ آسٹریلین اسٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جو گزشتہ جمعہ کے روز منظر عام پر آئی۔ رپورٹ میں اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے کہ چین کس طرح ایغور مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت اور ان کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شنجیانگ صوبےمیں تقریباً 16 ہزار مسجدوں کو یا تو پوری طرح سے مسمار کردیا گیا ہے یا پھر انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں جو کارروائی کی گئی اس کے تحت نہ صرف دس لاکھ سےزیادہ ایغوروں کو حراست میں لیا گیا بلکہ ان کی شناخت پر بھی حملہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق2016 میں آکسو پر یفیکٹرکےڈپٹی سکریٹری نےسرکاری محکموں سے کہا تھا کہ لوگوں کو گائڈ کرنے میں وقت برباد نہ کریں بلکہ ان کے رسم ورواج بدلیں اورپچھڑے اور دقیانوسی رواجوں کو بند کریں۔ 

اکسو میں کم سےکم 400 قبرستانوں کی بےحرمتی کی گئی ہے۔ان قبرستانوں کو مسمار کرکےان کی جگہ دوسرے ڈھانچے کھڑےکر دئے گئے ہیں۔ یہی نہیں، 2015 میں کمیونسٹ پارٹی کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ شنجیانگ میں ضرورت سےزیادہ مسجدیں ہیں اس لئے انہیں مسمار کردینا چاہئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 8500مسجدیں گرائی جاچکی ہیں اور 1960میں شروع ہوئے ثقافتی انقلاب کے بعد سے پہلی بار اتنی کم مسجدیں ہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جو مسجدیں موجود ہیں وہاں بھی لوگ نماز پڑھنے نہیں جاتے۔ 

صرف مسجدیں ہی نہیں بلکہ، مزاروں اور دوسرے مذہبی اور ثقافتی مقامات کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ایسی 50 فیصد سے زیادہ جگہوں کو بھی مسمار کردیاگیا جو سرکار کے تحفظ میں تھیں۔ 2017 میں حکومت نےبیس کلو میٹر کےعلاقہ میں بلڈوزر چلا کر سب مسمار کردیا جبکہ یہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 854مزاروں کا پتہ لگایا گیا جن میں سے 165 کو یا تو مسمار کردیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا۔ 

جن مسجدوں کو گرایا گیا ان میں گاشگر کی گرینڈ مسجد بھی شامل ہے جسے 16ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تب سے وہ اسلامی موزیک اور فن تعمیر کی مثال تھی۔ سرکاری طور پر یہ ایک ثقافتی وراثت تھی لیکن اسلامی تاریخ مٹانےکی کوشش میں اسے بھی مسمار کردیا گیا۔ 2018 میں نہ صرف اس مسجد کو گرایا گیا بلکہ اس پر نوٹس لگادیا گیا کہ پارٹی کے کسی رکن، طالب علم یا سرکاری ملازم کو یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسے دوبارہ بنوایا گیا لیکن اس بار یہ مسجد کافی چھوٹی تھی۔ باقی کے حصہ میں مال بنانے کا اعلان کردیا گیا۔ 

ابھی ایک دہائی قبل تک ریگستان میں واقع امام عاصم کے مزار پر حاضری دینے ہزاروں عقیدتمند آتے تھے۔ کہاجاتاہےکہ انہوں نےبودھوں کو شکست دینے میں کافی مدد کی تھی جنہوں نے چین پرہزاروں سال حکومت کی۔ لیکن دھیرے دھیرے اس مزار پر آنے والےعقیدتمندوں پر پابندی لگنی شروع ہوگئی اور بالآخر 2014میں مزار پر آنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی اور پچھلے سال اس مزار کو تقریباًپوری طرح سے مسمار کردیا گیا۔ 

شنجیانگ کے اورڈم میں تقریباً چار سو برسوں سےلوگ اس بزرگ کے مزار پر حاضری دینے آتے تھے جس نے چین میں اسلام کی تبلیغ کی تھی۔ لیکن اس مزار کو بھی منہدم کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس مزار کے منہدم کئے جانے کے ایک ماہ کے اندر ہی ان مقامات کا مطالعہ کرنے والی راہیلے داوت نام کی خاتون کو غائب کردیا گیا۔ دسمبر 2017 کے بعد سے ان کےاہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی بھی جانکاری نہیں ملی ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

رپورٹ کےمطابق انسٹی ٹیوٹ نے سٹیلائٹ سےلی گئی تصویروں سے 380 سےزیادہ ایسے مشتبہ حراستی کیمپوں کا پتہ لگایا جہاں ایغور مسلمانوں کو رکھا گیا ہے۔ ان مراکز کی یا تو توسیع کی گئی ہےیاپھریہ نئے بنائے گئے ہیں۔ جولائی 2019 سے لے کر ابتک کم از کم 61 مراکز کی توسیع کی جاچکی ہے اور ایک درجن سے زیادہ اس وقت زیر تعمیر ہیں۔ 

اے ایس پی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی کمیونسٹ حکومت ایغور مسلمانوں کی نہ صرف زبان،موسیقی اور ان کے کھان پان کے طریقوں کو بدلنا چاہتی ہے بلکہ ان کی پوری تہذیب وثقافت پر وار کرنا چاہتی ہے۔موجودہ حکومت سے پہلے کےادوار میں بھی ایسے اقدامات کئے گئے تھے جن سے ایغورمسلمانوں کی تہذیب وثقافت پرکافی اثر پڑا تھالیکن اقلیتوں کو دبانےاور کچلنے کے لئے جوپالیسیاں شی جنپنگ کی موجودی حکومت کے ذریعہ اختیار کی جارہی ہیں ایسی پالیساں پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملیں۔موجودہ حکومت کے ذریعہ کی جارہی کارروائیوں کا مقصد صرف اور صرف علاقہ کے مسلم اقلیتوں کو کمیونسٹ پارٹی کاتابعدار بنانا ہے تاکہ شی جنپنگ حکومت کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھا سکے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ