گلگت۔بلتستان کا درجہ تبدیل کرنے کا پاکستان کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں



گلگت۔بلتستان پر قبضہ کرنے کے تقریباً 70 سال بعد پاکستان اس علاقہ کو ایک مکمل صوبے کا درجہ دینے جارہا ہے۔ یہ علاقہ جموں وکشمیر رجواڑےکا ایک حصہ تھا جس پر ہندوستان کادعویٰ برقرار ہے۔اکتوبر 1947 میں پہلی ہند۔پاکستانی جنگ کے دوران پاکستان نے شمالی علاقوں سمیت جموں وکشمیر کے 78,114 مربع کلو میٹر کے رقبہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ گلگت۔بلتستان کا دوسرا نام ‘‘ناردن ایریاز’’ یعنی ‘‘شمالی علاقے’’ بھی ہے جسے پاکستان انتظامی وجوہات کی بنا پر استعمال کرتا ہے کیونکہ یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔

28 اپریل 1949 کو پاکستان نے اس علاقہ کو مقبوضہ کشمیر سے علاحدہ کرکے اس کا انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعدمقامی لوگوں کے احتجاج کے باوجود دو مارچ 1963 کو پاکستان نے علاقے کا 5180 مربع کلو میٹر کا علاقہ چین کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس کا نام بدل کر ‘‘مرکز کے زیر انتظام شمالی علاقے’’ کردیا گیا۔ 2009 میں پاکستان نے گلگت۔بلتستان امپارومنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کو منظوری دی جس نے شمالی علاقوں کو خودحکومت کرنے کا اختیار دے دیا۔ اس آرڈر کے خلاف مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا اور ایک ایسی حکومت کا مطالبہ کیاجو بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ہو۔ ستمبر 2009 میں بنیادی ڈھانچوں اور بجلی گھرکے پروجیکٹوں کے لئے چین کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد مقامی صورتحال کافی بدل گئی۔ 17 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی قیادت میں ایک سات رکنی بنچ نے گلگت۔بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد کو 2018 کے انتظامی آرڈر میں ترمیم کرنے کی اجازت دے دی تاکہ علاقہ میں عام انتخابات کرائے جاسکیں۔ 

پاکستانی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہندوستان نے سخت احتجاج کیا۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان پر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ گلگت۔بلتستان سمیت جموں وکشمیر اور لداخ کا تمام علاقہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان کو وہ تمام علاقے فوری طور پر خالی کردینا چاہئے جو اس کے زیر قبضہ ہیں۔ نئی دہلی نے کہا کہ حکومت پاکستان یا عدلیہ کو ان علاقوں پر کوئی بھی کارروائی کرنے کاکوئی اختیار نہیں ہے جو اس کےقبضہ میں ہیں۔ 

ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ پہلے سے ہی چل رہا ہے اور اب اس تنازعہ کےدرمیان اپنی مذموم حرکتیں جاری رکھتے ہوئے پاکستان نےگلگت۔بلتستان میں 15 نومبر کو انتخابات کرانےکااعلان کیا ہے تاکہ اسےمکمل صوبے کا درجہ دیاجاسکے۔ علاقہ کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اس ماہ کی 16 تاریخ کو فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اس موضوع پر بہت سےسیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ادھر قومی اسمبلی کےاسپیکر اسدقیصرنے انتخابات پرتبادلۂ خیال کے لئے جو میٹنگ بلائی تھی اپوزیشن پارٹیوں نے اس میں شرکت کرنے سےانکار کردیا۔ حکومت پاکستان کےلئے اسے بڑا دھچکا مانا جارہا ہے۔ 

گلگت۔بلتستان میں 18 اگست کو انتخابات ہونےوالےتھے لیکن 11 جولائی کو کورونا وائرس وبا کےباعث انتخابی کمیشن نے انہیں ملتوی کردیا۔ اس علاقہ کے لوگ ہمیشہ سےہی محرومی کا شکار رہے ہیں۔ جہاں دوسروں صوبوں پر کافی دھیان دیا جاتا رہا، کسی بھی حکومت نے اس علاقہ کی ترقی پر ذرا بھی دھیان نہیں دیا۔ اس لئےوہاں کے لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ 1947 کے بعد جو انتظامی ڈھانچہ تیار کیا گیا تھا اس کےتحت مقامی کونسلوں کو علاقہ کی معاشی، سماجی اور تعلیمی ترقی کے لئےذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ علاقہ کے پچھڑے پن کی حالت یہ تھی 1948 اور 1958 کے دوران محض ایک ڈاکخانے کا قیام ہی عمل میں آیا تھا۔ ریڈیو، ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کی خدمات تو آئندہ کی دہائی میں مہیا کرائی گئی تھیں۔ یہ علاقہ سونےکی کانوںاوردوسری معدنیات سے مالا مال ہے لیکن پھر بھی ترقی کے نام پر یہاں کچھ بھی نہیں۔ 

علاقہ میں فوجیوں کی کثرت سے تعیناتی کے باعث سیاحت کو بھی فروغ حاصل نہ ہوسکا۔ یہاں شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کی اچھی آبادی ہے جنہیں اکثر فوجیوں کے ظلم وستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ یہ مظاہرے بڑے بڑے پروجیکٹ شروع ہونے کےبعد اپنی زمین اور روزی روٹی کھونےکے باعث ہو رہے ہیں۔ عام طور پر یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ چین کے دباؤ میں آکر پاکستان علاقہ پراپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ 

گلگت۔بلتستان میں انتخابات کرانے کےپاکستان کےاعلان کے بعد ہندوستان نے یہ بات دہرائی کہ یہ علاقوہ اس کااٹوٹ حصہ ہےجس پر اسلام آباد نے قبضہ کر رکھا ہے۔ وزرات خارجہ نے کہا کہ علاقہ کا درجہ تبدیل کرنے کی پاکستانی کوشش غیر قانونی ہے، جسے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ