پاکستان میں پھر بحالی جمہوریت کی تحریک
پاکستان میں بحالی جمہوریت کی تحریک کئی بار چلائی گئی اور تحریک چلانے والوں کو کامیابی بھی ملی یعنی کافی جدوجہد کے بعد فوجی آمریت کا خاتمہ ہوا اورجمہوری حکومت بحال ہوئی لیکن جمہوریت کے فروغ کیلئے صحیح معنوں میں وہاں فضا اس طور پر سازگار نہ ہوسکی، جس طور پر جمہوری معاشرے میں ہونی چاہئے۔ پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان تھے، جنہوں نے 1958 میں فوجی بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور اسے ‘انقلاب’ کا نام دیا تھا۔ انہوں نے دس سال تک حکومت کی۔ ظاہر ہے اس دوران جمہوری قدریں بڑے پیمانے پر پامال ہوئی تھیں لیکن کوئی دس سال بعد عوامی احتجاج کے نتیجہ میں انہیں اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا اور ان کی جگہ ایک دوسرے فوجی جنرل یحییٰ خان مسند اقتدار پر بیٹھے۔ ان کا دورِ اقتدار تو بہت مختصر رہا لیکن انہوں نے 1970 میں انتخابات ضرور کرائے تھے۔ ان عام انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کی پارٹی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کے لئے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں لیکن اسے اقتدار نہیں سونپا گیا جس کی وجہ سے وہاں لوگ مخالف ہوگئےاور یحییٰ خان کی فوج نے آرمی کریک ڈاؤن کے ذریعہ ان کی آواز دبانا چاہی لیکن بالآخر مشرقی پاکستان 1971 میں پاکستان سے الگ ہوگیا اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ پاکستان کے نام پر اب صرف مغربی پاکستان رہ گیا۔ پاکستان کے اس باقی ماندہ حصے میں سب سے زیادہ سیٹیں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے جیتی تھیں لیکن مشرقی پاکستان میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ بہرحال پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے اقتدار اسی کو منتقل ہوا اور ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے سربراہ بنے چونکہ ابھی نیا آئین نہیں بنا تھا اس لئے وہ صدر کی حیثیت سے اقتدارسنبھال رہے تھے جب 1973 میں نیا آئین منظور ہوگیا تو وہ وزیراعظم بنے۔ عام خیال یہی تھا کہ فوج کے ہاتھوں پاکستان کی جو درگت بنی تھی اس کے بعد اب فوج اقتدار کی طرف دیکھے گی بھی نہیں اور جمہوریت کو فروغ حاصل ہوگا۔ لیکن یہ خیال، خیال خام ہی ثابت ہوا اور 1977 میں آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے، سیاسی پارٹیوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر وزیراعظم بھٹو کو اقتدار سے بے دخل کردیا اور خود اقتدار پر قابض ہوگئے۔ انہوں نے مذہبی انتہاپسندوں کو اپنا ہمنوا بناکر پاکستان کو مذہبی انتہاپسندی سے آشنا کرایا جس کا اثر آج بھی پاکستانی سماج پر نہ صرف نظر آرہا ہے بلکہ اس میں روز افزوں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے ایک غیر اعلان شدہ ملاّ۔ ملٹری اتحاد قائم کردیا تھا۔
بہرحال جنرل ضیاء الحق 1988 میں ایک ہوائی حادثےکا شکار ہوئے اور اس طور پر ان کا دورِ اقتدار ختم ہوا تھا لیکن اپنے دور میں وہ آئین میں ایسی تبدیلی کرا گئے تھے جس میں اقتدار کا ایک مثلث بن گیا تھا۔ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف تینوں ایک طرح سے اقتدار کے حصہ دار تھے۔ جب ضیاء الحق کی موت کے بعد انتخابات ہوئے تو بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ لیکن دو یا ڈھائی سال کے بعد ان کی حکومت کو صدر نے ڈسمس کردیا۔ اس کے بعد جب انتخابات ہوئے تو نواز شریف وزیراعظم بنے، کم وبیش دو ڈھائی سال میں وہ بھی معزول کر دیے گئے۔ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں لیکن اس بار بھی انہیں وقت سے پہلے ہی معزول کردیا گیا تھا۔
1997 میں جب نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم بنے تو انہوں نے ایک اہم کام یہ کیا تھا کہ آئین سے جنرل ضیاء کے زمانے کی وہ شق پارلیمنٹ کے ذریعے حذف کرادی تھی جس کے تحت صدر کو یہ لامحدود اختیار حاصل ہو گیا تھا کہ وہ جب چاہے منتخب وزیراعظم کو معزول کردے۔ لیکن فوجی جنرل بھلا کہاں آئین کی پاسداری کرے! نواز شریف نے اپنے ہندوستانی ہم منصب اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ مل کر ہند-پاک تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی تو آرمی چیف اس قدر برہم ہوئے کہ کارگل مہم چھیڑ دی اور بعد میں اسی سال یعنی 1999 میں نواز شریف کا تختہ ہی پلٹ دیا۔
بہرحال، اب ایک بار پھر مختلف پارٹیوں نے مل کر فوجی حکومت کے خلاف بحالی جمہوریت کی تحریک شروع کی۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے اسی دوران چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کئے تھے۔ بعد ازاں ایک سمجھوتے کے تحت بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں ا ور کچھ دن بعد نواز شریف بھی واپس آگئے پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل مشرف کے زوال کے دن آگئے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری سے جھگڑا مول لیا۔ انہیں معزول کیا۔ چیف جسٹس کی حمایت میں پاکستان کے تمام وکلاء میدان میں آگئے اور وکلاء کی تحریک آگے بڑھ کر عوامی تحریک میں بدل گئی۔ 2007کے اواخر میں انتخابات کا بھی اعلان ہوا لیکن اسی درمیان بے نظیر بھٹو کو ہلاک کردیا گیا۔ انہوں نے پاکستان آنے سے پہلے جنرل مشرف کو آگاہ کر دیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ بہرحال! اصل قاتل کون تھا، اس پر آج بھی اسرار کے پردے پڑے ہیں،انتخابات کچھ دنوں کیلئے ٹل گئے اور 2008 کے اوائل میں ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنی۔ گویا جمہوریت بحال ہوئی۔ لیکن زمینی حقیقت پھر بھی نہ بدلی۔ اتنی تبدیلی ضرور آئی کہ اب 2008 سے ہر پانچ سال بعد انتخابات ہو رہے ہیں لیکن اب بھی سب سے طاقتور ادارہ فوج ہی ہے اور وہ آزادی سے منتخب حکومت کو کام کرنے کا موقع نہیں دیتی۔ 2013 میں نواز شریف جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے کچھ ایسی کوششیں بھی کیں کہ فوج کی بیجا سرگرمیوں پر روک لگے لیکن فوج اپنی طاقت کے بل پر ریاست کے بیشتر اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ لہٰذا جب نواز شریف کی حکومت نے فوجی افسران کو یہ ہدایت دی کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پوری دنیا میں رسوا ہو رہا ہے۔ تو یہ خبر بعض اخباروں میں لیک ہوگئی اور تب فوج نے اپنے کرتب دکھائے اور عدالت اور احتساب بیورو وغیرہ کی مدد سے نوازشریف کو سیاسی منظر نامے سے غائب کرا کر ہی دم لیا۔ 2018 میں جو انتخابات ہوئے اس میں مختلف انداز کے ہتھ کنڈے استعمال کرکے فوج نے وزارت عظمیٰ تو عمران خان کو دلوادی لیکن عمران حکومت کے پردے میں آج کل پاکستان میں فوج جمہوریت کو ہرمحاذ پر دبانے کی کوشش کررہی ہے اس کا چرچہ عالمی پیمانے پر بھی ہورہا ہے۔
عمران حکومت کے غیرجمہوری اقدامات کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام اسلام آباد میں کیا ہے۔ اسے کچھ لوگ بحالی جمہوریت کی تحریک کا نام بھی دے رہے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے یہ تحریک عمران حکومت کے خلاف ہے۔ اب تک بحالی جمہوریت کی تحریکیں فوجی حکومتوں کے خلاف اٹھتی تھیں لیکن یہ تحریک قدرے مختلف نوعیت کی ہے۔ عمران خان بظاہر تو منتخب وزیراعظم ہیں لیکن عام تاثر یہ ہے کہ وہ الیکٹیڈ نہیں بلکہ سلیکٹیڈ وزیراعظم ہیں اور ان کے دور میں ہرحلقے کو شکایت ہے۔ صحافی، بلاگرز، فنکار، مصنف، خواتین صحافی، میڈیا کے مالکان اور ایڈیٹر۔ غرضیکہ کوئی حلقہ ایسا نہیں ہے جسے حکومت اور ریاست کے اُن اداروں سے شکایت نہیں ہے، جن کے ذمہ دار افراد حلف تو آئین کا لیتے ہیں لیکن جمہور کی آواز کو دبانے کے لئے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یعنی یہ تحریک حقیقی جمہوریت کی بحالی اور اسٹیٹ کے آئینی اداروں کی آزادی کی تحریک ہے۔ اس آل پارٹیز کانفرنس سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے خطاب کیا اور اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ آئینی اداروں کی آزادی اور غیرجانب داری بحال ہونی چاہئے اور یہ کہ آئین کی پاسداری نہ کرنے والے اداروں اور ذمہ دار افراد کو جوابدہ بنایا جانا چاہئے اور یہ کہ یہ لڑائی عمران خان سے نہیں بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والوں سے ہے۔
Comments
Post a Comment