موضوع :پاکستان میں قوی تر ہوتی بحالئ جمہوریت کی تحریک

پاکستان سے موصول ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بحالئ جمہوریت کے لئے جو نئی تحریک شروع ہوئی ہے اس نے ابتدائی مرحلے میں ہی خاصہ زور پکڑ لیا ہے اور مختلف شہروں میں جو ریلیوں اور جلسوں کا اہتمام ہو رہا ہے ان میں عوام بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں۔ تحریک کا خاص ایشو یہ ہے کہ پاکستانی فوج آئین کا پورے طور پر پاس کرے اور صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے سروکار رکھے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ پاکستانی فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کر کے آئین کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ادھر ۲۰۰۸ کے بعد سے یعنی جنرل مشرف کے زوال کے ساتھ ہی جمہوریت کی جو بحالی ہوئی اس کے بعد سے فوج نے براہ راست تو اقتدار پر شبخون نہیں مارا لیکن سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے سے وہ کبھی باز نہیں آئی۔ گزشتہ جنرل الیکشن میں مبینہ طور پر اس نے پردے کے پیچھے سے ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے کہ عمران کو برسر اقتدار لایا جا سکے۔

بہر حال اس تحریک سے فوری طور پر فوج کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان فوج کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن اندازہ یہی ہوتا ہے کہ فوج کی حمایت میں وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا الٹا ہی اثر ہو رہا ہے۔ عمران خان کا سیدھا الزام یہی ہےکہ اپوزیشن لیڈران ، بطور خاص سابق وزیر اعظم نواز شریف فوج کو ہندوستان کے اشارے پر بدنام کر رہے ہیں۔ ان کی سازش ہے کہ فوج کو کمزور کیا جائے۔ فوج کی مدافعت کرتے ہوئے ایک بیان میں انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کا حوالہ بھی دیا جس نے کہا تھا کہ پاکستان میں فوج ہی سب سے زیادہ ایماندار ادارہ ہے۔ یہ حوالہ دے کر عمران خان خود ہی عجیب قسم کی صورتحال میں پھنس گئے کیونکہ لوگوں کے سامنے ایک تازہ واقعہ بھی تھا جس سے فوج کی کارکردگی پر سوال اٹھے تھے۔ دراصل سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک فیصلے میں یہ کہا تھا کہ کچھ فوجی افسران آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں اور سیاسی معاملات میں دخل اندازی کر کے خود اپنے حلف کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اس فیصلے کی پاداش میں جسٹس عیسیٰ کے خلاف عمران حکومت نے ایک ریفرنس پیش کیا تھا۔ چونکہ یہ واقعہ حال ہی کا ہے لہٰذا لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر ریفرنس پیش کیا گیا تھا، بہرحال سپریم کورٹ نے خود ہی اس ریفرنس کو خارج کر دیا تھا۔ اس سے عمران خان کی فوج کا دفاع کرنے کی کوشش فلاپ ہو گئی۔

اپنے ایک اور بیان میں عمران خان نے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک پر یہ الزام لگایا تھا کہ یہ لوگ تو خودبھی فوج کے تھے اور اسی ذریعے سے سیاست میں آئے تھے لہٰذا انھیں فوج کو بدنام کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ان کی اس بات میں تھوڑا دم تھا۔ بلا شبہہ ذوالفقار علی بھٹو فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کے زمانے میں وزیر خارجہ تھے لیکن بعد میں وہ ان سے الگ ہو گئے تھے اور فوجی حکومت کے خلاف ہی پاکستان پیپلز پارٹی قائم کی تھی۔ تب سے اب تک وہ اور ان کا پورا بھٹو خاندان فوج کا نشانہ بنتا رہا۔ جنرل ضیا ٔالحق نے صرف ۱۹۷۷ میں نہ صرف ان کی حکومت کا تختہ الٹا تھا بلکہ انھیں پھانسی کی تختے پر بھی لٹکا دیا تھا۔ عمران خان کا یہ کہنا بھی درست تھا کہ نواز شریف بھی کبھی فوج کے ہامی تھے۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف جب ۱۹۹۰ کی دہائی میں فوج نے ایک سازش رچی تھی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے جو ایک سیاسی گروپ قائم کرایا تھا اس میں نواز شریف بھی شامل تھے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ جب وزیر اعظم کے طور پر نواز شریف نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے فوج کو اس کا مقام یاد دلانا چاہا تب فوج نے ان کے خلاف اپنی طاقت استعمال کی اور انھیں اقتدار سے بے دخل کیا ۔ جنرل مشرف نے ۱۹۹۹ میں ان کا تختہ پلٹا اور انھیں خاندان سمیت جلاوطن کیا۔ جنرل مشرف پر بے نظیر بھٹو کو قتل کرانے کا بھی الزام ہے۔ بہرحال یہ درست ہے کہ جو لوگ کبھی فوج کے ساتھ تھے انھیں بھی فوج نے نہیں بخشا۔ وہ لوگ منتخب ہو کر جب وزیر اعظم بنے تو اکثر وہی وزرائے اعظم، ان ہی فوجی جنرلوں کے ہاتھوں بے دخل کئے گئے جنھیں خود انھوں نے ہی بحال کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کو یہ تو یاد رہا کہ بھٹو اور نواز شریف کبھی فوج کے ساتھ تھے لیکن یہ بات انھیں یاد نہ رہی کہ پاکستانی فوج کسی کی سگی نہ ہو سکی۔ اسے صرف اپنا مفاد عزیز تھا اور آج بھی ہے۔ فوج ہمیشہ منتخب حکومت سے زیادہ طاقتور بن کر رہی اور اب بھی طاقتور ہی بن کر رہنا چاہتی ہے۔ خود عمران خان جنھیں مبینہ طور پر فوج ہی بر سر اقتدار لائی ہے ہر محاذ پر ناکام ہونے کے باعث فوج کے لئے ایک بوجھ بنتے جا رہے ہیں لیکن سیاسی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ فوج کے پاس عمران خان کو برداشت کرنے کے علاوہ فی الحال کوئی متبادل نہیں۔ اسی لئے دونوں ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ فوج اور اپوزیشن پارٹیوں کی موجودہ محاذ آرائی کہاں جا کر ختم ہوتی ہے اور جوڑ گھٹا کر اس کا نتیجہ کیا سامنے آتا ہے لیکن یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے یا کوئی بڑا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ