مولانا فضل الرحمٰن نئے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مقرر



حال ہی میں پاکستان میں جو نیا اپوزیشن اتحاد قائم ہوا ہے اور جس کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے سے روکا جائے۔ اس کے سربراہ اتفاق رائے سے جمعیۃ العلماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن کومقرر کیا گیا ہے۔ جمعیۃ العلماء اسلام اور جماعت اسلامی در اصل پاکستان کی اہم مذہبی جماعتیں ہیں جو سیاست میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں۔ جنرل مشرف کے زمانے میں، جو سیاسی صف بندیاں ہوئی تھیں ان میں ایک سیاسی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کے نام سے بھی قائم ہوا تھا جس میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والی چھہ مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔ اس وقت جنرل مشرف نے کچھ ایسے انتخابی ضابطے وضع کئے تھے جن کے تحت مین اسٹریم پارٹیوں مثلاً پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کےامیدوار کم سے کم تعداد میں آسکیں۔ اس ضابطے کے تحت متحدہ مجلس عمل کے امیدوار بڑی تعداد میں منتخب ہوکر آئے تھے اور اسےپارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ صوبۂ خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت بھی قائم ہوئی تھی۔ بہرحال یہ اتحاد کچھ عرصہ بعد ٹوٹ بھی گیا تھا اور تمام مذہبی جماعتیں ایک دوسرے سےالگ بھی ہوگئیں۔ موجودہ سیاسی منظرنامہ میں جماعت اسلامی، عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی ہےجبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیۃ العلماء مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں کی اتحادی ہے اور نہ صرف اتحادی ہے بلکہ موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے میں پیش پیش بھی نظرآتی ہے۔ جو نیا اپوزیشن اتحاد قائم ہوا ہے اس میں بھی مولانا فضل الرحمٰن نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔ 

بہرحال اپوزیشن اتحاد نے جس ایشو پر سب سے زیادہ زور دیا ہے وہ فوج کی سیاسی امور میں بےجامداخلت کا ایشو ہے کیونکہ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ فوج ہی کی بے جا مداخلت کے سبب عمران خان برسرِ اقتدار آئے ہیں۔ جب یہ خبر عام ہوئی کہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلے ہی مرحلے میں اس اتحاد کا سربراہ بنایا گیا ہے اور یہ کہ ان کا نام نواز شریف نے ہی پیش کیا تھا تو عمران حکومت ایک دم طیش میں آگئی اور مولانا فضل الرحمٰن کودہشت گرد تک قراردے دیا۔ عمران کابینہ میں سائنس اور ٹکنالوجی کےوزیر فواد چودھری نےکہا کہ پاکستان کے لئے یہ بڑامنحوس دن ہے کہ ایک ایسے شخص کو اپوزیشن اتحاد کا سربراہ بنایا گیا ہے جس کےدہشت گرد گروپوں سے رابطے رہے ہیں۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمٰن کا تعلق ہے تو بلاشبہ دوسری مذہبی جماعتوں کےلیڈروں کی طرح ان کے دل میں بھی انتہا پسند گروپوں کےتئیں نرم گوشہ رہا ہےلیکن یہی بات جماعت اسلامی پر بھی صادق آتی ہے جو عمران خان کی اتحادی رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے کہیں زیادہ طالبان کےقریب تو مولانا سمیع الحق رہےہیں جو جمعیۃ العلماءاسلام (سمیع) گروپ کے سربراہ تھے اور ان کا مدرسہ دہشت گردوں کی یونیورسٹی کے طورپر جانا جاتا ہے۔طالبان کے متعدد بڑے لیڈر انہی کے مدرسہ سے فارغ ہوئے تھے اور خود انہیں بابائے طالبان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کے مدرسے کو صوبۂ خیبر پختونخواکی حکومت خطیر رقم بطور گرانٹ بھی دیتی ہے۔ 

دراصل عمران حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی اس بات سےہو رہی ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے سیاسی امور میں فوج کی مداخلت کو اپنا بنیادی مطالبہ بنایا ہے اوراسی لئے فوج کےساتھ عمران خان کا نام بھی جڑتا رہا ہے اور یہ بات تو خود عمران خان نے اپنےایک حالیہ انٹرویو میں بھی کہی ہے کہ ان کے اور فوج کےرشتےاتنے اچھے ہیں کہ کسی بھی پاکستانی حکومت کےرشتے فوج سےاتنے اچھےنہیں تھے۔ اپنے اسی انٹرویو میں عمران خان نواز شریف پر خوب گرجے برسے تھے اور یہ کہا تھا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ سازباز کرکے پاکستان کی فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔ فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمٰن کو تو دہشت گردوں کا حامی قرار دے دیا لیکن کیا انہیں واقعی اس بات کا علم نہیں ہے کہ جب ان کے لیڈر عمران خان اپوزیشن میں تھے تو سب سے زیادہ دہشت گردوں کی حمایت میں وہی بولتے تھے۔بلکہ ان کا نام ہی ‘‘طالبان خان’’ پڑگیا تھا۔ وہ کبھی دہشت گردوں کےحملوں کے بعد،ان کی مذمت نہیں کرتے تھے۔بلکہ اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دےتو یہ حملے خود بخود بند ہوجائیں گے۔ 

فو اد چودھری کی یاد داشت اتنی کمزور تو نہیں ہوگی کہ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ دہشت گردوں کے تئیں عمران خان کے دل میں خود نرم گوشہ تھا۔ اپنے انٹرویو میں عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی فوج،ہندوستان کی جانب سے فروغ دی جانے والی دہشت گردی سے پاکستان کو محفوظ رکھتی ہےاور اسی فوج کو نواز شریف کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ سبحان اللہ! گویا پاکستان کی فوج، ہندوستان میں دہشت گرد نہیں بھیجتی بلکہ ہندوستان خود پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔کیا عمران خان یا فواد چودھری یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں گے کہ طالبان، حقانی نیٹ ورک وغیرہ کی پناہ گاہیں کہاں ہیں؟ کوئٹہ شوریٰ کہاں ہے؟ لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی دہشت گردتنظیمیں کہاں سے آپریٹ کررہی ہیں؟ وہ یہ بھی بتائیں کہ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے کس کے سربراہ پر تلوار لٹک رہی ہے؟ اور کون ایف اے ٹی ایف کی جانب سے گرےلسٹ میں شامل کیا گیا ہے اورکسےبلیک لسٹ میں شامل کئےجانے کی دھمکی تک مل چکی ہے؟ ہندوستان کو یاپاکستان کو؟

پاکستانی فوج کا پیشہ یہ بن گیا ہے کہ وہ ہندوستان کے خلاف پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنےکے لئے نت نئی کہانیاں بنائے اور یہ کہے کہ وہ پاکستان کے وجود کو مٹا دینے کے درپہ ہے۔ لیکن اس حقیقت سے پاکستان کےلوگ بھی واقف ہوچکے ہیں کہ پاکستانی فوج اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کے لئےہندوستان کا ہوّا کھڑا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر فوج کی کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے ہیں تو راولپنڈی میں واقع فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں اس وقت بوکھلاہٹ کا ماحول ہے۔ عمران خان چونکہ اپنے اقتدار کے لئے فوج پر بھروسہ کرتے ہیں، اس لئےقدرتی طور پر وہ اس کے احسان تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری طاقت فوج کا دفاع کرنے کے لئے وقف کردی ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو واقعی منتخب وزیراعظم تصور کرتے ہیں تو کم از کم انہیں اس عہدے کا بھرم قائم رکھنا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ