موضوع : ہندوستان کی تابکاری ۔مخالف میزائل کا کامیاب تجربہ
ہندوستان نے پچھلے ہفتے نئی نسل کی جدید ترین تابکاری مخالف میزائل ’’رودرم۔ایک‘‘ کے کامیاب تجربہ کے ساتھ اپنی دفاعی تیاری میں ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ اس میزائل کو ملک کی دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم نے تیار کیا ہے۔ جس کا مقصد جنگ کی صورت میں فضائیہ کو دشمن کے مقابلہ بر تری حاصل کرانا ہے۔ میزائل کا تجربہ اوڈیشہ کے بالا سور ضلع میں چاندی پور کے انٹیگریٹیڈ ٹسٹ رینج میں ایک سکھوئی۔30ایم کے آئی لڑاکا طیارے کے ذریعہ کیا گیا ۔ میزائل نے اوڈیشہ میں ڈاکٹر ابو الکلام جزیرے جسے اس سے قبل وہیلر آئی لینڈ کے نام سے جانا جاتا تھا، پر واقع ہدف کو بڑی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ ا رودرم میزائل کے اس کامیاب تجربے کے ساتھ ہی ہندوستان ان منتخب ملکوں کے گروپ میں شامل ہو گیا جن کے پاس تابکاری مخالف میزائل تیار کرنے کی صلاحیت ہے ۔ جس سے ان کی فضائیہ کی طاقت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیاب تجربے پر ڈی آر ڈی او کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے ۔
ایک تابکاری مخالف میزائل وہ میزائل ہے جس کی مدد سے دشمن کے سرویلانس رڈار، ٹریکنگ اور مواصلاتی نظام کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایسی میزائلوں میں سنسرس لگے ہوتے ہیں جن سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ تابکاری کہا ں سے آ رہی ہے ۔ اور پھر ان کے پاس پہنچتے ہی یہ میزائل پھٹ جاتی ہے۔ یہ وہ میزائل ہے جسے دشمن کے مواصلاتی نظام کو بر بادکرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔یہ دشمن کے رڈار، جمبرس اور یہاں تک کی بات چیت کے لئے استعمال ہونے والے ریڈیو کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی میزائلوں کا استعمال کسی جنگ کے شروعاتی دور میں ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ میزائلیں اچانک آنے والی زمین سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلوں کے خلاف بھی چھوڑی جا سکتی ہیں۔ رودرم میزائل سو کلو میٹر دور سے ہی پتہ لگا سکتی ہے کہ ریڈیو فری کیونسی کہا ں سے آ رہی ہے ۔ یہ میزائل سو سے 250 کلو میٹر کی رینج میں کسی بھی نشانے کو اڑا سکتی ہے۔ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے دو گنا ہے۔ اسے سکھوئی۔30 ایم کے آئی کے علاوہ دوسرے لڑاکو طیاروں سےبھی چھوڑا جاسکتاہے۔اس میں آخری حملے کے لئے آئی این ایس۔جی پی ایس نیوی گیشن کے ساتھ پیسیو ہومنگ ہیڈموجود ہے۔ پیسیو ہومنگ ہیڈ الگ الگ فریکیونسی پر اپنے اہداف کی نشاندہی کر کے ان پر نشانہ لگا سکتی ہے۔ اس کی لانچ اسپیڈ صفر اعشاریہ چھ سے دو میک یعنی 2469اعشاریہ چھ کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کی رینج اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ لڑاکو طیارہ کتنی اونچائی پر ہے۔ اسے500 میٹر سے لیکر 15 کلو میٹر کی اونچائی سے چھوڑا جا سکتا ہے۔اس دوران یہ میزائل 250کلو میٹر کے دائرے میں موجود ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اگر دشمن نے رڈار سسٹم کو بند کر رکھا ہے تو بھی یہ میزائل اسے نشانہ بنائے گی۔ یہ لانچنگ سے پہلے اور اس کے بعد بھی اپنے ہدف کو لاک کرسکتی ہے۔
ڈی آر ڈی او کے مطابق رودرم میزائل ہندوستانی فضائیہ کے لئے تیار کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکے۔ تنظیم کے مطابق 2012 میں ہی اس میزائل کے بارے میں مطالعہ شروع ہو گیا تھا اور یہ دیکھا جارہا تھا کہ اندرون ملک یہ میزائل کیسے تیار کی جا سکتی ہے ۔ میزائل تیار کرنے کے لئے ڈی آر ڈی او کو جدید ترین ٹکنا لوجی کی ضرورت تھی۔ ان میں وائڈ بینڈ پیسیو سیکرایک ملی میٹرک ویو ایکٹیو سیکر سیکرس کے لئے روڈوم اور ڈویل پلس پروپلشن سسٹم شامل تھیں، جنہیں کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا گیا ۔ لانچ کے بعد سنسرس اور پیسیو ہومنگ سیکر ٹکنا لوجی سے جو سگنلس ملتے ہیں اس کے مطابق میزائل اپنے ہدف کی جانب اپنا سفر طے کرتی ہے۔ان سگنلس کو جہاز پر موجود کمپیوٹر میں پہلے پراسیس کیا جاتا ہے اور پراسیس مکمل ہونے کے بعد وہاں سے کمانڈ ملتا ہے اور کمانڈ کے مطابق میزائل اپنا کام کرتی ہے۔
یہ بات تو سبھی جانتے ہیں آج کی جنگوں میں ٹکنا لوجی کا رول بہت اہم ہو گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی ملک کو جنگ کے دوران بر تری حاصل کرنے کے لئے اس کی فضائیہ کا مواصلاتی نظام بہترین ہونا چاہئے کیونکہ یہ نظام اسلحوں کے نظام سے جڑا ہوتا ہے۔اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دشمن پرکس طرح نظر رکھنی ہے اور اس کی خفیہ چیزوں کا کیسے پتہ لگانا ہے۔ اس تناظر میں ہندوستان کی رڈار مخالف میزائل کا کامیاب تجربہ کافی اہمیت کا حامل ہے ۔
*****
Comments
Post a Comment