کواڈ ملکوں کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ
کواڈ ملکوں یعنی بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ منگل کے روز ٹوکیو میں ہوئی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر، امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو، آسٹریلیا کے وزیر خارجہ میرائزپین اور جاپانی وزیر خارجہ موتیگی توشیمتسونے اپنی ملاقات کے دوران کووڈ۔19 کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجوں اور مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔ دنیا کی غیریقینی معاشی صورتحال، امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، بڑھتے علاقائی تناؤ اور موجودہ عالمی وبا کے پیش نظر یہ میٹنگ کافی اہمیت کی حامل ہے۔
ان ملکوں کی پہلی وزارتی میٹنگ پچھلے سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگوں سے ہٹ کر امریکہ میں ہوئی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد ہند۔بحرالکاہل علاقہ میں معاشی خوشحالی کو فروغ دینا تھا۔ میٹنگ کےدوران اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ کس طرح بحرالکاہل کےعلاقہ میں اصول وضوابط پر مبنی نظام کو یقینی بنایا جائے۔
منگل کے روز ٹوکیو کی میٹنگ میں ایجنڈہ یہ تھا کہ وبا کے بعد پیدا ہونے والےچیلنجوں کا ساتھ مل کر مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ایسے ٹیکے کس طرح تیار کئے جائیں جسے عام لوگ آسانی کےساتھ خرید سکیں اور اسی کے ساتھ دنیا میں وبا سےپیدا معاشی بدحالی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ لیکن ان ممالک کے لئے سب سےاہم موضوع یہ تھا کہ ہند۔بحر الکاہل میں قانون کی حکمرانی، شفافیت، جہازوں کے آنےجانےکی آزادی، علاقائی خود مختاری اور سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ اس بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ علاقہ میں اسٹریٹیجک استحکام کے لئے آسیان مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔
ان چاروں ملکوں کے درمیان لاجسٹک معاہدوں کے ذریعہ سیکورٹی کےشعبہ میں تعاون کو تقویت ملتی ہے۔اس کےعلاوہ مشترکہ بحری مشقوں سے بھی تعاون مضبوط ہوتا ہے۔ بھارت کی انڈو۔پیسفک اوشن انیشیٹیوبھی ہند۔بحر الکاہل میں محفوظ ومستحکم فضا بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔علاوہ ازیں ان ملکوں کے دو دو وزراء کے درمیان ہوئے مذاکرات اوربھارت، امریکہ اور جاپان نیز بھارت، جاپان اورآسٹریلیا کےدرمیان سہ رخی بات چیت نے بھی کواڈ کو مضبوط بنایا ہے۔
دنیا میں وبا پھیلنےکے بعد معیشت اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں جو تبدیلی رونما ہوئی اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سپلائی چین کو بہتر بنایا جائے۔ کووڈ۔19وبا کے پھیلنے کے بعد سپلائی چین میں جو خلل پڑا، اس سے زیادہ تر معیشتوں کوپریشانی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔اس لئے ضروری اشیاء کی ایک دوسرے کے یہاں سپلائی کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں کواڈ کے کچھ ارکان نے مناسب قدم اٹھائے ہیں۔ مثال کے طور پر ہند۔بحر الکاہل میں ایک معتبر سپلائی چین بنانے کے لئے آسٹریلیا۔ بھارت۔ جاپان سپلائی چین ریزیلئنس انیشیٹیووجود میں آرہی ہے۔
شفاف اور آزاد بحر الکاہل کے فروغ کے لئے بہترین بنیادی ڈھانچے کا قیام اور علاقائی کنیکٹویٹی بھی ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں کواڈ ملکوں نے ایسی حکمرانی پر زور دیا ہے جو دنیا میں سب سےاچھی مانی جاتی ہو۔ اس کے علاوہ علاقہ میں سیکورٹی کےچیلنجوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس بات پرخاص توجہ دی گئی کہ دہشت گردی اور سائبر کرائم کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔
ستمبر میں وزیراعظم شینزوابے کے استعفیٰ کے بعد نئے وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا نے عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کے عہدہ سنبھالنےکےفوراً بعد ہی یہ میٹنگ طلب کی گئی۔ سابق وزیر اعظم شینزوابے کے بارےمیں کہا جاتا ہے کہ کواڈ کے قیام میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ ان کی بھرپور کوششوں کے باعث ہی یہ گروپ وجود میں آسکا۔ اس لئے تمام وزرائے خارجہ نے یقین ظاہر کیا کہ وہ تمام ہم خیال ملکوں کو ایک پلیٹ فارم پرلا کر جناب ابے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم قوانین پر مبنی عالمی نظام، علاقائی سالمیت اور خود مختاری اور تنازعات کو پرامن طریقہ سے حل کرنےکا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ ہند۔بحر الکاہل کے تصور کو تیزی سے مقبولیت ملی۔ انہوں نےکہا کہ آئندہ برس جب ہندوستان دو سال کے لئے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالے گا تو وہ اس بات کی کوشش کرے گا کہ تمام عالمی چیلنجوں کا مل جل کر مقابلہ کیا جائے۔ وہ یہ بھی چاہے گا کہ کثیر رخی اداروں کی اصلاحات بھی ہوں تاکہ شفافیت قائم ہوسکے۔ ٹوکیو کے اپنے دورے کےدوران جناب جےشنکر نے جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ بات چیت بھی کی۔ جاپان بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ جناب سوگا کے وزیراعظم بننے سےبھارت کو یقین ہے کہ ہند۔جاپان خصوصی اسٹریٹیجک اور عالمی پارٹنر شپ کو تقویت حاصل ہوگی۔
ان ملکوں کی پہلی وزارتی میٹنگ پچھلے سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگوں سے ہٹ کر امریکہ میں ہوئی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد ہند۔بحرالکاہل علاقہ میں معاشی خوشحالی کو فروغ دینا تھا۔ میٹنگ کےدوران اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ کس طرح بحرالکاہل کےعلاقہ میں اصول وضوابط پر مبنی نظام کو یقینی بنایا جائے۔
منگل کے روز ٹوکیو کی میٹنگ میں ایجنڈہ یہ تھا کہ وبا کے بعد پیدا ہونے والےچیلنجوں کا ساتھ مل کر مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ایسے ٹیکے کس طرح تیار کئے جائیں جسے عام لوگ آسانی کےساتھ خرید سکیں اور اسی کے ساتھ دنیا میں وبا سےپیدا معاشی بدحالی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ لیکن ان ممالک کے لئے سب سےاہم موضوع یہ تھا کہ ہند۔بحر الکاہل میں قانون کی حکمرانی، شفافیت، جہازوں کے آنےجانےکی آزادی، علاقائی خود مختاری اور سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ اس بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ علاقہ میں اسٹریٹیجک استحکام کے لئے آسیان مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔
ان چاروں ملکوں کے درمیان لاجسٹک معاہدوں کے ذریعہ سیکورٹی کےشعبہ میں تعاون کو تقویت ملتی ہے۔اس کےعلاوہ مشترکہ بحری مشقوں سے بھی تعاون مضبوط ہوتا ہے۔ بھارت کی انڈو۔پیسفک اوشن انیشیٹیوبھی ہند۔بحر الکاہل میں محفوظ ومستحکم فضا بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔علاوہ ازیں ان ملکوں کے دو دو وزراء کے درمیان ہوئے مذاکرات اوربھارت، امریکہ اور جاپان نیز بھارت، جاپان اورآسٹریلیا کےدرمیان سہ رخی بات چیت نے بھی کواڈ کو مضبوط بنایا ہے۔
دنیا میں وبا پھیلنےکے بعد معیشت اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں جو تبدیلی رونما ہوئی اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ سپلائی چین کو بہتر بنایا جائے۔ کووڈ۔19وبا کے پھیلنے کے بعد سپلائی چین میں جو خلل پڑا، اس سے زیادہ تر معیشتوں کوپریشانی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔اس لئے ضروری اشیاء کی ایک دوسرے کے یہاں سپلائی کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں کواڈ کے کچھ ارکان نے مناسب قدم اٹھائے ہیں۔ مثال کے طور پر ہند۔بحر الکاہل میں ایک معتبر سپلائی چین بنانے کے لئے آسٹریلیا۔ بھارت۔ جاپان سپلائی چین ریزیلئنس انیشیٹیووجود میں آرہی ہے۔
شفاف اور آزاد بحر الکاہل کے فروغ کے لئے بہترین بنیادی ڈھانچے کا قیام اور علاقائی کنیکٹویٹی بھی ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں کواڈ ملکوں نے ایسی حکمرانی پر زور دیا ہے جو دنیا میں سب سےاچھی مانی جاتی ہو۔ اس کے علاوہ علاقہ میں سیکورٹی کےچیلنجوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس بات پرخاص توجہ دی گئی کہ دہشت گردی اور سائبر کرائم کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔
ستمبر میں وزیراعظم شینزوابے کے استعفیٰ کے بعد نئے وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا نے عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کے عہدہ سنبھالنےکےفوراً بعد ہی یہ میٹنگ طلب کی گئی۔ سابق وزیر اعظم شینزوابے کے بارےمیں کہا جاتا ہے کہ کواڈ کے قیام میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ ان کی بھرپور کوششوں کے باعث ہی یہ گروپ وجود میں آسکا۔ اس لئے تمام وزرائے خارجہ نے یقین ظاہر کیا کہ وہ تمام ہم خیال ملکوں کو ایک پلیٹ فارم پرلا کر جناب ابے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم قوانین پر مبنی عالمی نظام، علاقائی سالمیت اور خود مختاری اور تنازعات کو پرامن طریقہ سے حل کرنےکا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ ہند۔بحر الکاہل کے تصور کو تیزی سے مقبولیت ملی۔ انہوں نےکہا کہ آئندہ برس جب ہندوستان دو سال کے لئے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالے گا تو وہ اس بات کی کوشش کرے گا کہ تمام عالمی چیلنجوں کا مل جل کر مقابلہ کیا جائے۔ وہ یہ بھی چاہے گا کہ کثیر رخی اداروں کی اصلاحات بھی ہوں تاکہ شفافیت قائم ہوسکے۔ ٹوکیو کے اپنے دورے کےدوران جناب جےشنکر نے جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ بات چیت بھی کی۔ جاپان بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ جناب سوگا کے وزیراعظم بننے سےبھارت کو یقین ہے کہ ہند۔جاپان خصوصی اسٹریٹیجک اور عالمی پارٹنر شپ کو تقویت حاصل ہوگی۔
Comments
Post a Comment