پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی نئی لہر
گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا میں دہشت گردی ایک لعنت بنی ہوئی ہے ۔دہشت گردی کے واقعات کہیں بھی پیش آئیں وہ قابل مذمت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے بیشتر بے قصور افراد کی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور معاشی سطح پر نقصان بھی ہوتاہے ۔لیکن ایسے وقت یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے جب دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ایک ملک خود اس کا شکار ہوجائے ۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخوا کی راجدھانی پشاور کے ایک مدرسہ میں پیش آنے والا دہشت گردی کا واقعہ انتظامیہ اور دہشت گردوں کے مابین طویل عرصہ تک جاری گہرے روابط کا شاخسانہ ہے ۔اس واقعہ میں آٹھ افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے ہیں جن میں طلبا اور اساتذہ شامل ہیں ۔پی ڈی ایم کے سربراہ اور قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے بالکل صحیح کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دہشت گردی کو ختم کر دینے کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے معنی ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ بھی خیبر پختو نخوا میں دھماکے ہوئے تھے اور ان میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔29 ستمبر کو صوبہ خیبر پختو نخوا میں 24 گھنٹے کے اندر دودھماکے ہوئے تھے جن میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔ پہلا دھماکہ ضلع نوشہرہ کے علاقہ اکبر پورہ کے ایک بازار میں ہواتھا جس میں پانچ افراد ہلاک اور دوزخمی ہوگئے تھے ۔دوسرا دھماکہ ضلع مردان میں کاروباری مرکز جج بازار میں سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مادہ پھٹنے سے ہواتھا جس میں ایک شخص اور اس کی دوکمسن بیٹیوں سمیت چارافراد ہلاک ہوگئے تھے ۔یہ ایسے حقائق ہیں جوپاکستان کی ناقص اور بے سمت پالیسیوں کی غمازی کرتے ہیں۔
پاکستان نے روز اول سے یعنی اپنے وجود میں آنے کے وقت سے ہی منفی سوچ کو فروغ دیا اور اپنے عوام ،سماج اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے اپنے ہمسایہ ملکوں کو کمتر ثابت کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ پاکستان نے آزادی کے بعد اپنی توانائی اور وسائل خطہ کو غیر مستحکم کرنے اور تخریب کاری پر صرف کیے ہیں۔ نتیجہ بنگلہ دیش کے قیام کی شکل میں برآمد ہوا۔ ایک ہی ملک میں الگ زبان اور ثقافت کی شناخت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرکے پاکستان نے انتشار کی بنیاد ڈال دی تھی اور لوگ حکمرانوں سے بددل ہوگئےتھے اور وقت گزرنے کے ساتھ مغربی اور مشرقی پاکستان میں خلیج بڑھتی گئی اور نتیجہ سبھی کے سامنے ہے ۔
تہذہب وثقافت اور وسائل سے مالا مال ایک بڑے خطہ سے ہاتھ دھونے کے باوجود پاکستان نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور بلوچستان میں وہ وہی غلطیاں دوہرا رہاہے ۔اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے عوام پر وہ ظلم وزیادتی کررہاہے ۔ اس علاقہ کی ترقی کے لیے ضروری وہاں کے قیمتی وسائل پر مقامی لوگوں کا حق نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے لوگوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور لوگ حکام کے خلاف اپنی آواز بلند کررہے ہیں لیکن حکام انکی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انھیں جیلوں میں ڈال دیتے ہیں، انھیں طرح طرح سے اذیتیں دیتے ہیں اور اکثر وبیشتر ایسے افراد کی جبرا گمشدگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے بہت سے خاندان ہیں ، ایسے بہت سے والدین ہیں جنھیں اپنے بیٹوں اور اپنے عزیزوں کا انتظار ہے ۔وہاں کے لوگوں میں مایوسی کے ساتھ ساتھ غم وغصہ بھی ہے ۔
پاکستان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بہت سی دہشت گردتنظیمیں تشکیل دیں اور انکی پرورش کی اور آج بھی کررہاہے ۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد ان میں شامل ہیں ۔ان تنظیموں کے قیام کا مقصد ہندوستان میں بدامنی پھیلانا اور یہاں کے لوگوں کا ناحق خون بہانا ہے ۔اس طرح کا منفی رویہ کسی کے لیے بھی سود مندنہیں ہوسکتا۔اپنی انھیں حرکتوں کی وجہ سے آج پاکستان متعد د مسائل سے دوچار ہے اور دہشت گردوں کی اعانت کے الزام میں بین الاقوامی نگراں ادارے ، ایف اے ٹی ایف کی طرف سے بلیک لسٹ ہونے کی تلوار مسلسل اس کے سر پر لٹک رہی ہے ۔فی الحال پاکستان گرے لسٹ میں ہے ۔
پاکستان نے جن دہشت گردوں کو پڑوسی ملکوں کے خلاف استعمال کیاتھا اب وہ خود اس سے متنفر ہورہے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی اسی کا نتیجہ ہے ۔پاکستان میں آئے دن جو دھماکے ہوتے رہتے ہیں وہ ایسے ہی دل برداشتہ دہشت گرد انجام دیتے ہیں جن کا استعمال پاکستان کے حکام نے اپنے مقصد کے لیے کیا اور اب انھیں تنہاچھوڑ دیا۔ وہاں کے حکام نے ان نوجوانوں کو گمراہ کیا، ان کا استحصال کیا اور انھیں اچھی تعلیم وتربیت کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے انکے ہاتھوں میں بندوق دیدی ۔یہ وہ نوجوان ہیں جن کا نہ تو ماضی محفوظ تھا ، نہ حال محفوظ ہے اور نہ مستقبل کی بہتری کی کوئی امید ہے ۔
مسجد ، مدرسہ یا کسی عوامی مقام پر دہشت گردانہ حملہ کےلیے کوئی جواز فراہم نہیں کیاجاسکتا۔حالیہ حملہ انسانیت کوشرمسار کرنے والا ہے جس کی کوئی ملک یاحکمراں تائید نہیں کرسکتا ۔ اس طرح کی وحشیانہ حرکتیں قابل مذمت ہیں ۔لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہاہے۔ پاکستان نے ہندستان میں دہشت گردی کی حمایت کی ہے اور ممبئی سمیت کئی ہولناک دہشت گردانہ حملوں میں وہاں کے دہشت گردملوث رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انھیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہندستان کی باربار کی درخواست کے باوجود انھیں سزادینے کی بات تو دور ان پر کسی طرح کی کوئی قدغن نہیں ہے ۔
پاکستان کو جب تک یہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور دہشت گرد صر ف دوسرے ملکوں کےلیے ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہیں اس وقت تک وہ دہشت گردی کا شکار بنتارہے گا۔پاکستان کو ہندوستان سمیت ہمسایہ ملکوں کے تئیں اپنی منفی سوچ ترک کرکے مثبت طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اسی میں خطےکے امن و ترقی کاراز مضمر ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ بھی خیبر پختو نخوا میں دھماکے ہوئے تھے اور ان میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔29 ستمبر کو صوبہ خیبر پختو نخوا میں 24 گھنٹے کے اندر دودھماکے ہوئے تھے جن میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔ پہلا دھماکہ ضلع نوشہرہ کے علاقہ اکبر پورہ کے ایک بازار میں ہواتھا جس میں پانچ افراد ہلاک اور دوزخمی ہوگئے تھے ۔دوسرا دھماکہ ضلع مردان میں کاروباری مرکز جج بازار میں سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مادہ پھٹنے سے ہواتھا جس میں ایک شخص اور اس کی دوکمسن بیٹیوں سمیت چارافراد ہلاک ہوگئے تھے ۔یہ ایسے حقائق ہیں جوپاکستان کی ناقص اور بے سمت پالیسیوں کی غمازی کرتے ہیں۔
پاکستان نے روز اول سے یعنی اپنے وجود میں آنے کے وقت سے ہی منفی سوچ کو فروغ دیا اور اپنے عوام ،سماج اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے اپنے ہمسایہ ملکوں کو کمتر ثابت کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ پاکستان نے آزادی کے بعد اپنی توانائی اور وسائل خطہ کو غیر مستحکم کرنے اور تخریب کاری پر صرف کیے ہیں۔ نتیجہ بنگلہ دیش کے قیام کی شکل میں برآمد ہوا۔ ایک ہی ملک میں الگ زبان اور ثقافت کی شناخت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرکے پاکستان نے انتشار کی بنیاد ڈال دی تھی اور لوگ حکمرانوں سے بددل ہوگئےتھے اور وقت گزرنے کے ساتھ مغربی اور مشرقی پاکستان میں خلیج بڑھتی گئی اور نتیجہ سبھی کے سامنے ہے ۔
تہذہب وثقافت اور وسائل سے مالا مال ایک بڑے خطہ سے ہاتھ دھونے کے باوجود پاکستان نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور بلوچستان میں وہ وہی غلطیاں دوہرا رہاہے ۔اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے عوام پر وہ ظلم وزیادتی کررہاہے ۔ اس علاقہ کی ترقی کے لیے ضروری وہاں کے قیمتی وسائل پر مقامی لوگوں کا حق نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے لوگوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور لوگ حکام کے خلاف اپنی آواز بلند کررہے ہیں لیکن حکام انکی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انھیں جیلوں میں ڈال دیتے ہیں، انھیں طرح طرح سے اذیتیں دیتے ہیں اور اکثر وبیشتر ایسے افراد کی جبرا گمشدگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے بہت سے خاندان ہیں ، ایسے بہت سے والدین ہیں جنھیں اپنے بیٹوں اور اپنے عزیزوں کا انتظار ہے ۔وہاں کے لوگوں میں مایوسی کے ساتھ ساتھ غم وغصہ بھی ہے ۔
پاکستان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بہت سی دہشت گردتنظیمیں تشکیل دیں اور انکی پرورش کی اور آج بھی کررہاہے ۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد ان میں شامل ہیں ۔ان تنظیموں کے قیام کا مقصد ہندوستان میں بدامنی پھیلانا اور یہاں کے لوگوں کا ناحق خون بہانا ہے ۔اس طرح کا منفی رویہ کسی کے لیے بھی سود مندنہیں ہوسکتا۔اپنی انھیں حرکتوں کی وجہ سے آج پاکستان متعد د مسائل سے دوچار ہے اور دہشت گردوں کی اعانت کے الزام میں بین الاقوامی نگراں ادارے ، ایف اے ٹی ایف کی طرف سے بلیک لسٹ ہونے کی تلوار مسلسل اس کے سر پر لٹک رہی ہے ۔فی الحال پاکستان گرے لسٹ میں ہے ۔
پاکستان نے جن دہشت گردوں کو پڑوسی ملکوں کے خلاف استعمال کیاتھا اب وہ خود اس سے متنفر ہورہے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی اسی کا نتیجہ ہے ۔پاکستان میں آئے دن جو دھماکے ہوتے رہتے ہیں وہ ایسے ہی دل برداشتہ دہشت گرد انجام دیتے ہیں جن کا استعمال پاکستان کے حکام نے اپنے مقصد کے لیے کیا اور اب انھیں تنہاچھوڑ دیا۔ وہاں کے حکام نے ان نوجوانوں کو گمراہ کیا، ان کا استحصال کیا اور انھیں اچھی تعلیم وتربیت کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے انکے ہاتھوں میں بندوق دیدی ۔یہ وہ نوجوان ہیں جن کا نہ تو ماضی محفوظ تھا ، نہ حال محفوظ ہے اور نہ مستقبل کی بہتری کی کوئی امید ہے ۔
مسجد ، مدرسہ یا کسی عوامی مقام پر دہشت گردانہ حملہ کےلیے کوئی جواز فراہم نہیں کیاجاسکتا۔حالیہ حملہ انسانیت کوشرمسار کرنے والا ہے جس کی کوئی ملک یاحکمراں تائید نہیں کرسکتا ۔ اس طرح کی وحشیانہ حرکتیں قابل مذمت ہیں ۔لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہاہے۔ پاکستان نے ہندستان میں دہشت گردی کی حمایت کی ہے اور ممبئی سمیت کئی ہولناک دہشت گردانہ حملوں میں وہاں کے دہشت گردملوث رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کرنے اور انھیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہندستان کی باربار کی درخواست کے باوجود انھیں سزادینے کی بات تو دور ان پر کسی طرح کی کوئی قدغن نہیں ہے ۔
پاکستان کو جب تک یہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور دہشت گرد صر ف دوسرے ملکوں کےلیے ہی نہیں بلکہ خود پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہیں اس وقت تک وہ دہشت گردی کا شکار بنتارہے گا۔پاکستان کو ہندوستان سمیت ہمسایہ ملکوں کے تئیں اپنی منفی سوچ ترک کرکے مثبت طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اسی میں خطےکے امن و ترقی کاراز مضمر ہے ۔
Comments
Post a Comment