پاکستان میں سلیکٹیڈ اورسلیکٹرزکو آزمائش کا سامنا

فوجی اورسیاسی کشاکش میں الجھی پاکستانی جمہوریت ایک بار پھر سخت آزمائشوں سے گزر رہی ہے جہاں پاکستانی رینجرز کی جانب سے سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولس کو مبینہ طور پراغوا کرنے کے اقدام اور پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما صفدر اعوان کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے اگرچہ وزیر داخلہ بریڈیگیر اعجاز شاہ نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کی ہے کہ جمہوری نظام میں کسی بھی سیاسی رہنما کو اظہار رائے کی آزادی کا نام پرقومی اداروں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، لیکن حالات روز افزوں بگڑتے جا رہے ہیں ۔صورتحال کی سنگیی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ نے واقعے پر عوامی غم و غصے کے بعد مبینہ اغوا کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اِس بیچ پاکستانی ایوان بالا میں اپوزیشن نےکراچی کےہوٹل میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنے ان کے خاوند کی گرفتاری اور سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولس کےاغوا کی تفتیش کے لیے ایوان کی کمیٹی بنانے کی مطالباتی قرارداد پیش کردی ہے۔صوبہ سندھ میں حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے بھی عوام کی طرف سے فوج اور انٹیلی جنس سربراہوں سے معاملے کی چھان بین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے تمام حدیں پار کر لی ہیں۔

دوسری طرف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت میں مشترکہ اپوزیشن اتحاد کے پرچم تلے سیاسی جماعتوں نے‘‘کٹھ پتلی’’ حکومت کے خلاف کراچی میں اس قدر زبردست احتجاج کیا ہے کہ بظاہر وزیر اعظم عمران خان کی حکومت لرز اٹھی ہے۔ میڈیا کے مطابق کراچی کی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس احتجاج نے ملک میں جمہوریت کے ساتھ فوج کے تعلقات کے ازسرنو جائزہ کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت جسے پاکستان میں جمہوری کم اور نیم فوجی زیادہ کہا جاتا ہے، اُسے‘‘ کٹھ پتلی’’ حکومت قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے احتجاجی جلسوں میں مقررین نے عمران خان کو جہاں ‘سلیکٹڈ’ قرار دیا ہے وہیں سینئر جرنیلوں کو ‘‘سلیکٹرز’’ کا نام دے کر انہیں کھل کر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں (پی ڈی ایم) میں شامل دیگر شراکت داروں میں پشتونوں اور بلوچوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہیں۔

اس طرح دیکھا جائے تو حالیہ کراچی واقعے نےفوج کےساتھ عمران خان کے تال میل کی ناکام حکمت عملی کو ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک کی شکل دینے کی راہ تقریباً ہموار کر دی ہے۔ تازہ ایپی سوڈ میں نہ صرف پاکستان کی حکومت اور فوج کو عوام کی طرف سےسخت تنقید اور مذمتوں کا سامنا ہے بلکہ پورے ملک کو ایک بہت بڑے بحران نے گھیر لیا ہے جو وہاں کی قابل رحم جمہوریت کے حق میں کسی طور نہیں ہے۔بظاہر سندھ پولیس اعوان کی گرفتاری اور سندھ کے آئی جی پی مشتاق مہر کو ‘‘اغوا’’ کے معاملے کو لے کر فوج کے ساتھ محاذ آرائی کا عزم کر بیٹھی ہے۔ ایسے میں حالات کی شدت پورے خطے کے لیے تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں ایسے کسی بھی خلفشار کے ماحول نے ہمیشہ انتہا پسند ی کو فروغ دیا ہے۔

واضح رہے کہ اعجاز شاہ پاکستان انٹر سروسز انٹلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق آپریٹر ہیں ، اور انہیں اکثر دہشت گردوں کی پالیسیوں اور حمایت کرنے پر جمہوری حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے ۔بعض حلقو ں کا خیال ہے کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے یہ چال چلی ہے۔ وزارت داخلہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جارہا ہے کہ صفدر اعوان کی گرفتاری اور مشتاق مہر کااغوا وزارت کی ایما پر کیا گیا ہے کیونکہ رینجرز براہ راست سکریٹری داخلہ پاکستان کے اختیار میں کام کرتے ہیں۔ بریگیڈیئر شاہ ، جنہیں 2018 میں وزیر اعظم عمران خان نےوزیر داخلہ بنایا تھا پاکستانی سیاست میں بدستور انتہائی متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ایک خط میں یہ لکھ دیا تھا کہ اگر کبھی ان کا قتل ہو جائے تو اُس میں شاہ کے ملوث ہونے کی چھان بین کی جائے۔ بے نظیر کےقتل کے بعد ، پیپلز پارٹی نے بریگیڈ شاہ پرالقاعدہ اورطالبان سے تعلقات رکھنے کا الزام لگایاتھا۔

ہر چند کہ مشترکہ اپوزیشن اتحاد کی جاری مہم پرفوج کا رویہ نہایت محتاط ہے، وہ اپنی بوکھلاہٹ پر پردہ ڈالنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔ اس نے اپنے ابتدائی ردعمل میں فوج کی قیادت کومتنازعہ بنانے کی حزب اختلاف کی کوشش کو مسترد کیا ہے لیکن جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور کسی بھی فوج کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ سیاسی کرداربھی ادا کرے اور اپنی دخل اندازی کو لوگوں کی نظروں سےپوشیدہ بھی رکھنے میں بھی کامیاب ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ