موضوع: ہندوستانی معیشت میں بہتر ی کے آثار
وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ تہوار کے مہینوں میں اشیائے صرف کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں اکتوبر سے لے کر مارچ تک کی مدت کو تہوارں کا موسم تصور کیا جاتا ہے۔ نکّی مینوفیکچرنگ پرچیز منیجر کےاشاریہ پی ایم آئی کا حوالہ دیتےہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ کووڈ-19 وبا پھیلنے کے بعد عائد کی گئی پابندیوں میں چھوٹ دینے اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے متعدد اقدامات کے بعد ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ایم آئی ریڈنگ (Reading)اگرپچا س سےاوپر ہےتو اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے اور اگر ریڈنگ پچاس سے نیچے ہوئی تو سمجھ لیجئے کہ اس میں گراوٹ آرہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ جائزوں کے مطابق اگست میں پی ایم آئی کی ریڈنگ 52 تھی جو ستمبر میں بڑھ کر 56 اعشاریہ آٹھ ہوگئی۔ یہ ریڈنگ جنوری 2020 سے لے کر اب تک سب سے زیادہ تھی۔
تہوار کے موسم میں کاروں کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور ملک کے کچھ حصوں میں دو پہیاں گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ برآمدات خاص طور پر زرعی برآمدات میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً 555 اعشاریہ ایک دو ارب امریکی ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ بین الاقوامی ایجنسیوں نے پیش گوئی کی ہے کہ 2021-22 میں ہندوستانی معیشت ترقی کی اپنی رفتار دوبارہ پکڑلے گی اور اس وقت مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو 8 فیصد ہوگی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تخمینہ کے مطابق حالیہ دنوں تک ہندوستانی معیشت دنیا کی سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت تھی جبکہ 2019 میں چین کی شرح نمو چھ فیصد تھی۔ تاہم بین الاقوامی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ برس ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو چین سے زیادہ ہوجائے گی۔ مالیاتی فنڈ کے تخمینہ کے مطابق ہندوستان کی شرح نمو آٹھ اعشاریہ 8 فیصد ہوگی جبکہ امید ہے کہ چین کی شرح نمو آٹھ اعشاریہ دو فیصد ہی رہےگی۔
کووڈ-19 وبا کا تمام دنیاپر اثر پڑا۔ معیشتیں بری طرح متاثر ہوئیں ۔ہندوستان بھی اس سے بچ نہ سکا۔ کاروبار اور روزگار بری طرح متاثرہوئے جس کے باعث لوگوں کی آمدنی کافی کم ہوگئی۔ ان تما م باتوں کے پیش نظر حکومت نےمارچ میں اعلان کیا کہ بینک سے دو کروڑ روپے تک قرض لینے والوں کو قسط ادا کرنے کرنے کیلئے چند ماہ کی مہلت دی جائے گی تاکہ ان پر مالی بوجھ نہ پڑے۔ حکومت کے اس اقدام سےقرض لینے والوں کو کافی راحت ملی۔ لیکن بینکوں کے ذریعہ سود پر سود لینے کا معاملہ سامنے آیا جس کو لے کر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی گئیں۔ اب معاملے کی سماعت دو نومبر کو ہوگی۔ حکومت نےعدالت عظمیٰ میں حلف نامہ داخل کرکے کہہ دیا ہے کہ سود پر جو سود لیا گیا ہے وہ رقم قرض داروں کے بینک کھاتوں میں پانچ نومبر تک جمع کردی جائے گی۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ معیشت میں بہتری کے اشارے تو مل رہے ہیں لیکن موجودہ مالی سال میں مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو صفر کے قریب ہوسکتی ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ سال کی پہلی سہ ماہی یعنی اپریل اور جون کے درمیان معیشت میں 23 اعشاریہ 9 فیصد کی گرواٹ آئی ہے۔ محترمہ سیتارمن نے یہ واضح کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث 25 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کرنا ضروری ہوگیا تھا کیونکہ ہمیں لوگوں کی زندگیاں زیادہ عزیز ہیں۔ اگر ایسا نہ کیاجاتا تو شاید ہماری مشکلیں زیادہ بڑھ جاتیں۔ جہاں تک غیرملکی راست سرمایہ کاری کا تعلق ہے تو 2020 کی پہلی سہ ماہی میں عالمی سطح پر اس میں 49 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ یواین سی ٹی اے ڈی (UNCTAD) کی ایک رپورٹ کے مطابق یوروپی یونین میں غیرملکی راست سرمایہ کاری پہلی بار منفی رہی۔ یہ 202 ارب ڈالر سے کم ہوکر منفی سات ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ادھر امریکہ میں ایف ڈی آئی 61 فیصد گرکر 51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ریزروبینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (Monetary Policy Committee) نے پیش گوئی کی ہےکہ 2021-22 میں معاشی ترقی میں 9اعشاریہ پانچ فیصد کی کمی واقع ہوگی۔ ایم پی سی نے پالیسی شرحوں کو جیوں کا تیوں رکھا ہے کیونکہ افراط زر کی شرح چھ فیصد سے زیادہ تھی۔ ملک کی معیشت کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے کہا ہے کہ ہم نے 2024 تک پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا جو ہدف رکھا ہے اسے حاصل کرنے کیلئے ہم پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
Comments
Post a Comment