ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ پاکستان پر گرےلسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ اسی ماہ متوقع



چند روز قبل اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے گھریلو جھگڑوں سے متعلق معاملات پر بولتے ہوئے ہندوستان کا نام بھی گھسیٹ لائے تھے اور یہ کہاتھا کہ پاکستان کے اپوزیشن لیڈرز بطور خاص نواز شریف ہندوستان کے اشارے پر پاکستانی فوج کو بدنام کررہے ہیں اور اسے کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بڑی بےشرمی سے انھوں نے ہندوستان پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ ہندوستان پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور پاکستانی فوج اس سے ملک کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ مضحکہ خیز بیان عمران خان کا تو ہوسکتا ہے لیکن عالمی برادری اور خود پاکستان کے صائب حلقے ایسا قطعی نہیں محسوس کرتے ۔ پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کا مضبوط قلعہ بنانے والا کوئی حلقہ یا ادارہ ہے تو وہ خودپاکستانی فوج ہے جس نے افغانستان میں سوویت فوجوں کی موجودگی میں پورے پاکستان کو دہشت گردی کی فیکٹری میں تبدیل کردیا تھا۔ پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کے تعاون سے طالبان اور حقانی نیٹ ورک نے افغانستان کو مقتل میں تبدیل کردیا اور اب بھی ان کے رابطے خاصےمضبوط ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیموں نے تباہی مچانے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ تمام تنظیمیں اور ان کے سرغنہ اقوام متحدہ کے ذریعہ بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیے جاچکے ہیں۔ اور یہ تمام باتیں عالمی برادری کے علم میں ہیں۔ دہشت گردوں کے فنڈ اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی واچ ڈاگ ایف اے ٹی ایف نے ایک سے زائد بار پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا۔ اس وقت بھی وہ گرے لسٹ پر ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے 2018 میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور اسے 27 نکاتی ایکشن پلان دیا تھا تاکہ وہ دہشت گرد تنظیموں پر سخت قدغن لگائے اور ان کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق سرگرمیوں کو روکے اس کے لیے 2019 کے اواخر تک کا وقت بھی اسے دیا گیا تھا کہ وہ اس درمیاں ایکشن پلان پر عمل کرے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ بعد میں اس مدت میں توسیع بھی کی گئی تھی کیوں کہ ابھی پاکستان نے اپنا کام نہیں کیا تھا۔ بہر حال گزشتہ اگست میں پاکستان نے 88 ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کے کمانڈروں کے خلاف کچھ سخت قدم اٹھانے کا اعلان کیا تھا جن لوگوں کے خلاف قدم اٹھائے گئے تھے ان میں ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ اور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید، جیش محمد کا سربراہ مسعود اظہر اور ممبئی بم بلاسٹ کا ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم وغیرہ بھی شامل تھے۔ اب یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی اہم ورچوئل میٹنگ اسی ماہ کے اواخر میں ہونے والی ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالا جائے یا پھر اس کی مدت میں توسیع کی جائے۔ ظاہر ہے پاکستان قدرتی طور پر یہی چاہے گا کہ وہ اس لسٹ سے باہر آجائے اور اس کے لیے لابنگ بھی کررہا ہوگا۔ بہر حال اس مرحلہ میں تو قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ کیا ہوگا۔

دوسری طرف پاکستان میں گھمسان کے رن کی صورت حال ہے۔ حکمراں جماعت یعنی عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف اور فوج کے خلاف ایک ہمہ گیر تحریک اپوزیشن اتحاد نے شروع کررکھی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ فوج، سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے جس کی وجہ سے آئے دن سیاسی طور پر عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اسی ضمن میں اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں فوج نے دھاندلی کی اور غلط طور پر عمران خان کو برسراقتدار لائی۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں ہرطرف یہی چرچا ہے کہ فوج اور عمران حکومت کی ملی بھگت سے ملک کے سیاسی اور اقتصادی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک گیر پیمانے پر ان حلقوں کی آواز کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ چونکہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے اس لیے عوام میں ناراضگی اور بے اطمینانی سی پھیل گئی ہے۔متعدد اپوزیشن لیڈروں، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایکٹیوسٹ اور صحافیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا ہے۔ فوج کی تنقید کرنے والوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب 2018 میں خان برسراقتدار آئے تھے۔ انتخابی دھاندلی کی وجہ سے الیکشن کے عمل کو ایک ڈھونگ اور دکھاوا قرار دیا گیا۔ آئے دن جو سختیاں ہورہی ہیں اس کی وجہ سے عوام کا غم غصہ ابل پڑا ہے۔ ایسے میں نے اپوزیشن اتحاد کی تحریک ، جسے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام کے لیڈر مولانا فضل الرحمان ہیں۔ نئی ہمہ گیر سیاسی تحریک شروع ہوجانے سے عوام میں ایک نیا جوش دکھائی دینے لگا ہے۔ اس صورت حال سے عمران حکومت اور فوج دونوں گھبرائی ہوئی ہیں۔ اسی دوران عمران خان کے ایک خصوصی معاون لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا کا ایک گھپلہ بھی سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ عاصم باجوا کو عمران خان نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ کاچیئرمین بھی مقرر کیا ہے۔ ان کے خلاف گھپلے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی عمران حکومت ان کے خلاف چھان بین کرانے کی بجائے ان کا بچاؤ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا بدعنوانی سے پاک معاشرہ قائم کرنے کا نعرہ صرف ایک واہمہ ثابت ہوا۔

جیسے جیسے اپوزیشن تحریک زور پکڑ رہی ہے ویسے ویسے حکومت اور فوج کے گھبراہٹ بھی بڑھتی جارہی ہے۔لہذا بوکھلاہٹ کے عالم میں اپوزیشن پارٹیوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ چند روز بعد اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا پروگرام ترتیب دے رہی تھیں۔ حکومت نے گھبراہٹ کے عالم میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔ 5 اکتوبر کو نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کی پارٹی کے متعدد لیڈروں کے خلاف پولیس نے غداری کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ نواز کے چالیس سے پچاس لیڈروں کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کی کارروائیاں کرکے اپوزیشن کی تحریک کو کچلنا چاہتی ہے لیکن اس سے یہ تحریک رکنے والی نہیں ہے۔ اسی مہینہ کے اواخر تک ایف اے ٹی ایف بھی پاکستان سے متعلق اپنا فیصلہ سنانے والا ہے۔ اگر پاکستان گرے لسٹ سے باہر نہ آیا تو حکومت اور فوج دونوں کی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ