ایغور مسلمانوں کے تعلق سے پاکستان کا شرمناک رویہ



پاکستان چین سے اپنی دوستی پر اکثر و بیشتر فخر کا اظہار کرتا رہتا ہے۔پاکستان اس خوش فہمی کا بھی شکار ہے کہ چین پاکستان کا سچّا ہمدرد اور مددگار ہے۔چین سے اپنے کاروباری اور تجارتی رشتوں کو بھی پاکستان اپنی معیشت کی مضبوطی کے لیے کافی اہمیت دیتا ہے،لیکن یہ عجیب بات ہے کہ چین میں ایغور مسلمانوں کے تعلق سے چین کے رویے پر پاکستان نے کبھی ایک لفظ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، بلکہ یہ بات شاید زیادہ صحیح ہے کہ ایسا کہنے کی اس میں ہمّت نہیں ہے اور مسلمانوں کے تئیں اس کی مبینہ ہمدردی بھی اس کی سیاست کا ہی حصہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے قومی سیکورٹی مشیر کا ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ایغور مسلمانوں سے متعلق سوال پر اس ایشو کو غیر اہم و ناقابل ذکر ماننا درحقیقت عمران خان اور ان کی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ و غیر انسانی طرز فکر کا ہی ثبوت ہے۔

ایغور مسلمانوں کے تعلق سے حال ہی میں سامنے آئی ایک رپوٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین کی اس مظلوم اقلیت کو کس طرح حکومت کے ذریعہ ستایا جا رہا ہے اور اس کے تہذیب و تمدن کو مٹانے کے ساتھ ساتھ ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔چین میں ایغور مظالم کی داستان نئی نہیں ہے لیکن حالیہ رپوٹ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ واضح رہے کہ ایغور مسلمانوں کی بڑی آبادی چین کے سنکیانگ علاقے میں بسی ہوئی ہے۔مذکورہ رپوٹ بتاتی ہے کہ ایغور مسلمانوں کے ہزاروں بچّے والدین کے زندہ ہونے کے باوجود یتیم اور مسکین کی زندگی گزارنے کے لیے مجبور ہیں۔یہ بچّے اس لیے اپنی ماں یا باپ سے دور ہیں کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے نظربندی کیمپوں،ڈٹینشن کیمپوں یا پھر ری ایجوکیشن کے نام پر کھولے گئے کیمپوں میں بند ہیں۔ کچھ والدین کو مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ایسے تمام معاملوں میں انسانی ہمدردی کے اس اہم ترین پہلو کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ان نابالغ بچّوں کی پرورش اور تربیت کے لیے انھیں اپنے والدین کی ضرورت ہے اور والدین کو یا بچّوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ مذکورہ رپورٹ میں سنکیانگ سے متعلق اہم سرکاری دستاویزوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ2018 میں ایسے بچّوں کی تعداد 9500 تھی کہ جو اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے سایہ عاطفت سے محروم ہیں اور اس کا سبب ان کا مرجانا نہیں بلکہ سرکار کے مختلف کیمپوں میں محبوس ہونا ہے۔بچّوں کی اس تعداد میں اکثریت ایغور مسلمانوں کے بچّوں کی تھی۔ اس علاقے کے یاک لینڈ کاؤنٹی کے ہر گھر کا کم از کم ایک فرد جیل یا نظر بندی کیمپ میں بتایا جاتا ہے۔چینی حکومت کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان بچّوں میں سے کوئی بھی چین کی اکثریتی آبادی ہان سے متعلق نہیں ہے۔شمال مغربی علاقے کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک ملین سے زیادہ افراد مختلف طرح کے کیمپوں میں قید ہیں۔حالانکہ چین کی حکومت کی طرف سے ان افراد کی نظر بندی یا حراست کے لیے آبادی پر کنٹرول،غریبی اور دہشت گردی کا خاتمہ اور انتہا پسندی کو روکنا جیسے جواز پیش کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین ان ایغور مسلمانوں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے مشق ستم بنائے ہوئے ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ایغور مسلمانوں کی اقتصادی،تعلیمی اور ثقافتی زندگی قابل رحم بنا دی گئی ہے۔ ان کے بچّے بھی اعلیٰ حفاظتی بورڈنگ اسکولوں میں محصور کر دیے گئے ہیں۔ان کی مختلف طریقوں سے برین واشنگ کی جا رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ15سال سے کم عمر والے دو لاکھ50 ہزار سے زیادہ ایغور بچّے آج اپنے ماں یا باپ یا دونوں سے اس لیے محروم ہیں کہ وہ کسی نہ کسی کیمپ میں ہیں۔چین اس معاملے کو حقوق انسانی سے متعلق ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔چین اس معاملے کو مذہب یا فرقہ سے متعلق بھی نہیں مانتا، بلکہ اسے تشدد،دہشت گردی اور علیحدگی پسندی سے جوڑتا ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔

ایسا نہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ان تمام باتوں کی خبر نہیں تعجب اس بات پر ہے کہ چین کی ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان چین کو اپنا قریبی دوست کہتا ہے اور چین کے مظلوم ایغور مسلمانوں کے معاملے میں اس نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔بات صرف چشم پوشی تک ہی محدود نہیں بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ خود حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کرنے کا مرتکب پاکستان چین کی ایسے معاملوں میں حمایت کرکے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلامی ریاست ہونے کا اس کا دعویٰ فرضی ہے اور اسلامی اصولوں و فرائض سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ