چین کی نیوکلیائی توسیع پسندی اور سنکیانگ
پچھلی دو تین دہائیوں میں چین دنیا کی ایک بہت بڑی معیشت بن کر ابھرا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اس کے سامراجی عزائم سے دنیا میں نقص امن کا کتنا بڑاخطرہ ہے۔ چین اپنی سامراجیت قائم کرنے کے لئے اپنے پڑوسی ممالک سے بھی ہمیشہ بر سر پیکار رہتا ہے۔ ساؤتھ چائنا سی (South China Sea) پر قبضہ جمانے کے لئے اس نے فلپائین، کوریا یہاں تک کہ امریکہ سے بھی دشمنی مول لےرکھی ہے ۔ وہیں بیٹھے بٹھائے وہ بھارت جیسے ایک ملک، جسے اپنی سرحدیں بڑھانے کا کوئی شوق نہیں ہے، اور جو دنیا میں امن و امان چاہتا ہے، اس کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں گلوان ویلی میں چینی فو جیوں نے جس طرح ہندوستانی فوجیوں پر بے وجہ حملہ کیا اور جس جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی شہید ہوئے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی طاقت کا بھونڈا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ اور بات کہ ہندوستانی فوجیوں نے بھی منہ توڑ جواب دیا اور چین کو جتا دیا کہ بھارت اب اس سے دبنے والا نہیں ہے۔ اس کی فوج چین سے لوہا لینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ۔ بھارت کے اس موقف کی دنیا بھر میں حمایت ہوئی ہے۔ اب سے صرف چند روز پہلے امریکی وزیر خارجہ مایک پومپیو جو نئی دہلی کے دورے پر آئے ہوئےتھے ، کہا کہ چین کے مظالم روکنے کے لئے امریکہ بھی بھارت کا ساتھ دینے کو تیار ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جمہوری حکومتوں اور آمرانہ نظام والے ممالک کے بیچ ٹکراؤ بڑھ رہا ہے اور چونکہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اس لئے امریکہ اس کے ساتھ ہے۔
چین کےسامراجی عزائم کا شکار پڑوسی ممالک ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی اپنی آبادی بھی آمریت کی شکار ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ چین میں عوام کو کوئی آزادی نہیں حاصل ہے۔ نہ اپنی حکومت چننے کی، نہ اس کے تھوپے ہوئے قوانین کی مخالفت کرنے کی اور نہ اپنے ضمیر کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کی۔ اس آمرانہ نظام کی زد میں سب سے زیادہ ہے اس کی ایغور آبادی جو مغربی ژنجیانگ خطہ میں آبا دہے۔ بظاہر تو وہ اس کے لئے وہ وہاں کی اکثریتی مسلم آبادی میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کو ذمہ دار قرار دیتا ہے لیکن اس کی اصل وجہ پر بات کرنے سے پہلے اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے جس کی خاطر اس نے ایغور مسلمانوں کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا ہوا ہے جو قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔
1949 میں جب عوامی جمہوریہ چین کا قیام ہوا ،تب سے ہی اس نے نیوکلیائی توانائی حاصل کرنے کے اپنے منصوبے کو تیز کر دیا۔ چین اس وقت نیوکلیائی توانائی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ۔ وہاں ابھی 44 نیوکلیئر ری ایکٹر کام کر رہے ہیں اور 18 زیر تعمیر ہیں۔ ان ری ایکٹروں سے حاصل شدہ نیوکلیائی توانائی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے معاملے میں چین دنیا کے سر فہرست ممالک میں سے ایک ہے۔ نیوکلیائی توانائی کے لئے جو یورینیم درکار ہوتا ہے چین اس کا ایک بہت بڑا حصہ مغربی خطہ سنکیانگ اور خاص طور سے ییلی گھاٹی ( Yili Basin)سے حاصل کرتا ہے۔ اس خطے میں چین نے نیوکلیائی ہتھیاروں کے لئے اپنا پہلا تجربہ بھی کیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ نیوکلیائی توانائی کو تیار کرنے میں ماحولیات کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ تو ہے ہی۔ جن جگہوں پر اس کے پلانٹ لگائے جاتے ہیں وہاں کی مقامی آبادی کی صحت پر بھی اس کے برے اثرات پڑتے ہیں۔سب سے زیادہ کینسر کی بیماری پھیلتی ہے۔ یہی کچھ سنکیانگ میں بھی ہوا اور اس کی زد میں سب سے زیادہ ایغور مسلمانوں کی آ بادی آئی جو وہاں کثیر تعدا میں آباد ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے زنجیانگ میں کینسر کی بیماری 35 فی صد زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ وہاں ایغوریوں کی مزاحمت شروع ہوئی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے چین نے پہلے تو ہان نسل کے چینیوں اور ایغور مسلمانو ں کے درمیان ایک مسلسل کشیدگی پیدا کردی یہاں تک کہ 2009 میں اورومقی ( Urumqi)میں ہان چینیوں اور ایغوریوں کے درمیان فساد کروایا اور پھر اس کو روکنے کے نام پر ایغوروں کے خلاف مظالم توڑے جس میں بیشتر ایغور لوگ مارے گئے۔
بد قسمتی سے چین کی اس صریحاً غلط بیانی کو اسلامی مملکت ہونے کا مدعی پاکستان بھی درست سمجھتا ہے۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کیونکہ چین سے اس کی دوستی جگ ظاہر ہے۔ اور چین اس دوستی کے نام پر جس طرح پاکستان میں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن وہی پاکستان جو وقت بے وقت اور غلط صحیح ہر پلیٹ فارم سے کشمیر کا نام نہاد مسئلہ اٹھاتا رہا ہے اور ہمیشہ منہ کی کھاتا رہا ہے اس نے کبھی چین سے یہ نہیں پوچھا کہ سنکیانگ کی ایغور مسلم آبادی پر جو اس نے طرح طرح کے مظالم روا رکھے ہوئے ہیں ان کا سلسلہ کیوں نہیں بند ہوتا۔ بھارت سے اپنی بلا وجہ کی دشمنی نکالنے کے لئے وہ کشمیری مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی تو دکھاتا ہے لیکن ایغور مسلمان جو سچ مچ ہمدردی اور عالمی برادری کی حمایت کے مستحق ہیں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ اسے آپ بد ترین منافقت نہیں تو اور کیا کہیں گے۔
Comments
Post a Comment