پاکستان کی، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہنے کی مدت میں توسیع کا امکان

پیرس سے ملنے والی خبروں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ فی الحال پاکستان کی ،فنانشیئل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر آنے کی توقع بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ27 نکاتی ایکشن پلان کی جو فہرست ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے حوالے کی تھی اور معینہ مدت میں پورے طور پر اس پر عمل کرنے کی تاکید کی تھی، اس پر پاکستان نے اب تک پورے طور پر عمل نہیں کیا۔ حالانکہ مقررہ مدت کئی ماہ پہلے ہی ختم ہو چکی تھی جس میں کچھ توسیع بھی کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ایف اے ٹی ایف کے ذرائع کےمطابق چھ نکات ایسے رہ گئے ہیں جن پر پاکستان نے ابھی تک عمل نہیں کیا۔ اس میں ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ جن نکات پر ابھی تک عمل نہیں ہوا وہ بڑے اہم نکات ہیں۔ ان میں ہندوستان کے دو انتہائی مطلوبہ دہشت گرد، جیش محمد کا مولانا مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کا بانی حافظ سعید بھی شامل ہے۔ ان دونوں مطلوبہ ملزموں کے خلاف ابھی تک سخت قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے واچ ڈاگ کے ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اچانک چار ہزار سے زیادہ دہشت گردوں کےنام سرکاری فہرست سے غائب ہو گئے ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر، ذرائع کے مطابق، پاکستان کا فی الحال گرے لسٹ سے باہر آنے کا امکان بہت کم ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی انتہائی اہم میٹنگ جاری ہے جو 23 اکتوبر تک چلے گی۔ اس میٹنگ میں بڑی گہرائی سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ پاکستان کتنے بڑے پیمانے پر اور کتنی سنجیدگی سے دہشت گردوں کے مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے معاملے پر غور اور عمل کر رہا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے ایک ذمہ دار افسر نے بتایا کہ پاکستان نے اکیس نکات سے متعلق تو کم و بیش اپنا کام مکمل کر لیا ہے لیکن باقی جن چھ نکات پر اس نے ابھی عمل نہیں کیا ہے وہ کلیدی نوعیت کے نکات ہیں۔پاکستان کو جو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں اور جنھیں لازماً پاکستان کو پورا کرنا تھا ان میں اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے افراد اور گروپس ہیں جن میں مسعود اظہر، حافظ سعید اور لشکر طیبہ کا فعال کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی بھی شامل ہے، کے خلاف فیصلہ کن اقدام بہت اہم تھاجس میں پاکستان ابھی تک ناکام رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف نے اس بات کا بھی سخت نوٹس لیا ہے کہ اچانک اورِجنل فہرست میں شامل 7600 میں سے 4000 ایسے دہشت گردوں کے نام غائب ہو گئے ہیں جو اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سے درج کئے گئے تھے۔ ایف اے ٹی ایف کے مذکورہ افسر کے مطابق ایسی صورت میں یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس کثیر قومی ادارے کے چار اہم ممالک یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پاکستان کی کارکردگی سے قطعی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلافکارروائی کرنے میں اکثر ناکام رہا ہے جو پاکستان کی سرزمین سےدہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔

مسعود اظہر، حافظ سعید اور ذکی الرحمان لکھوی وہ خطرناک دہشت گرد ہیں جو ہندوستان کے موسٹ وانٹیڈ افراد ہیں اور جو ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کو فروغ دینے کی متعدد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان حملوں میں ممبئی کا چھبیس گیارہ کا وہ حملہ بھی ہے جس میں متعدد امریکی اور دوسرے غیر ملکی شہریوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک حملہ گزشتہ سال ہی جموں کشمیر کے پلوامہ ضلع میں بھی ہوا تھا جس میں سی آر پی ایف کے درجنوں جوان شہید ہوئے تھے۔ اگر لمبی مدت تک پاکستان گرے لسٹ والے ممالک کی صف میں شامل رہتا ہے تو اس کے لئے عالمی بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے ساتھ ساتھ یوروپین یونین وغیرہ سے امداد حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ ایف اے ٹی ایف اس بات کا بھی مشاہدہ کرے گا کہ پاکستان کے متعلقہ حکام اور ادارے کتنی سنجیدگی سے ان جرائم کی روک تھام کے کاموں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کو فروغ دینے ، دہشت گردوں کو پناہ گاہیں مہیا کرانے اور انھیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی جو آزادیاں پاکستان میں حاصل ہیں، اس کی مثال مشکل ہی سے کہیں اور ملے گی۔ بجائے اس کے کہ پاکستانی حکمراں اپنی کوتاہیوں اور منفی سوچ پر نظر ثانی کریں اور انھیں دور کر کے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس لانے کی کوشش کریں، وہ الٹے اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں کو دہشت گرد قرار دے کر اپنی بوکھلاہٹ کا ثبوت دینے لگتے ہیں۔ لیکن اس سطح پر اتر کر وہ خود اپنے وقار کو مجروح کر لیتے ہیں۔ جس ملک کا عالمی برادری میں ایسا ریکارڈ ہو وہ بھلا عالمی برادری میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کیونکر بحال کر پائے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ