موضوع:پاکستان میں اغوا اور رہائی کا کھیل جاری

پاکستانی صحافی علی عمران کے 22گھنٹے تک لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس لوٹ آنے پر ان کے اہل خانہ اور صحافتی برادری نے راحت کی تھوڑی سانس لی ہے۔ لیکن یہ خوف بہر حال برقرار ہے کہ پتہ نہیں اگلی مرتبہ کس صحافی کے مبینہ لاپتہ ہوجانے کی خبر آجائے۔ پاکستان کےسینئر صحافی مبشرزیدی نے لکھا کہ علی عمران نے فلسطین اوربرماجاکررپورٹنگ کی لیکن اسرائیلی فوج نے انھیں اغوا نہیں کیا اور برما سےبھی بچ نکلے تاہم انہیں اپنے شہر میں رپورٹنگ کی سزایہ ملی کہ پیشہ وراغواکاروں نےاغواکرلیا۔

علی عمران جیو ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو بنالی تھی جسے جیو ٹیلی ویزن پر نشر کیا گیا تھا۔ اس خبر کے نشر ہونے کے کچھ دیر بعد ہی علی عمران لاپتہ ہوگئے۔ ان کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ علی عمران تھوڑی دیر میں گھر آنے کا کہہ کر باہر گئے تھے۔ وہ اپنی گاڑی اور موبائل فون بھی گھر پر ہی چھوڑ گئے تھے لیکن کئی گھنٹے بعد تک ان کا کوئی اتاپتہ نہیں چلا۔ جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر زبردست طور پر گشت کرنے لگی۔ بہر حال 22گھنٹے کے بعد جب علی عمران گھر لوٹے تو ان کی ذہنی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ وہ کچھ بات بھی کرسکیں۔

علی عمران کے لاپتہ ہوجانے یا لاپتہ کردیے جانے کا واقعہ پاکستان میں ان صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جو سچ بات لکھنے کی جرأت کرتے ہیں۔کوئی تین ماہ قبل ہی پاکستان کے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے دن دہاڑے اغوا کرلیا گیا تھا۔اس شرمناک واقعے کی تمام سیاسی، صحافتی اور سماجی حلقوں نے شدید مذمت کی تھی اور اغوا کاروں کو گرفتار کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مطیع اللہ جان نے بعد میں بتایا تھا کہ اغوا کار ان کی آنکھوں پر پٹی باند ھ کر کسی خاص جگہ لے گئے، پھر مختلف جگہوں پر گھماتے رہے اور 12گھنٹے کے بعد ایک ویرانے میں پھینک دیا۔ مطیع اللہ جان کا قصور بھی وہی تھا کہ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی خامیوں کی طرف نشاندہی کرتے رہے تھے۔لیکن جس طرح آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ مطیع اللہ جان کا اغوا کن لوگوں نے کیا تھا۔اسی طرح شاید علی عمران کے اغوا کاروں کے بارے میں بھی کبھی معلوم نہیں ہوسکے گا۔

مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہو ئے کہا تھا کہ جس طرح ایک صحافی کو دن دہاڑے اٹھا لیا گیا، کیا پاکستان کے تمام ادارے تباہ ہوچکے ہیں اور کسی میں اتنی ہمت کیسے ہوجاتی ہے کہ پولیس کی وردی پہنے، پولیس کی گاڑی جیسے اشارے لگائے اور کسی کو بھی اٹھاکر کے لے جائے؟ آخر عام آدمی میں کیا تاثر جائے گا کہ یہاں پولیس کی وردی میں لوگ دندناتے پھررہے ہیں؟

پاکستان میں اکیسویں صدی میں بھی صحافت اور صحافی برادری قدغنوں سے آزاد نہیں ہے۔پاکستان میں اغوا کرلیے جانے والے صحافیوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے والے صحافی، بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر ان چیف، ساجد حسین کو اسی سال مارچ میں سویڈن سے ہی اغوا کرلیا گیا تھا۔ 2014ء میں سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہو اتھا۔

پاکستان میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے صحافیوں کو موت کی نیند سلادینے کے واقعات بھی کم نہیں ہیں۔صوبہ سندھ میں صحافی عزیز میمن کے قتل کو زیادہ وقت نہیں گزرا ہے۔ یہ فروری 2020ء کی بات ہے۔

پاکستان کی صحافتی تنظیموں کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشل اورپاکستانی ہیومن رائٹس کمیشن جیسی بین الاقوامی تنظیمیں صحافیو ں کے اغوا اور قتل کے واقعات پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں اوراسے میڈیا کا گلا گھونٹنے،سنسر شپ نافذ کرنے اور مخالفانہ آوازوں کو دبانے کا ہتھکنڈہ قرار دیتی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مئی 2020ء میں فریڈم نیٹ ورک نے پاکستان میں آزادی اظہار پر لگنے والی قدغنوں، صحافیوں پر ہونے والے ظلم و ستم اور دھمکیوں پر ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں صحافیوں پر تشدد کے کم و بیش 91 واقعات رجسٹر کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مئی سے لے کر رواں برس اپریل تک ہر ماہ 7 سے زائد ناخوشگوار واقعات ایسے تھے جن سے صحافی متاثر ہوئے۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کوئی گوشہ صحافیوں کیلئے محفوظ نہیں۔

پاکستان میں حقوق انسانی کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ علی عمران کے اغوا کا معاملہ صرف صحافیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کی تمام تنقیدی آوازوں کے لئے ایک پیغام ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ریاست کا ایک اہم ترین ستون، صحافت، اس وقت بحران کا شکار ہے۔ آزادی صحافت نام کی کوئی چیز نہیں۔ ملک میں موجود نشریاتی ادارے بھی یرغمالی اداروں کے طور پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت ہزاروں صحافی بے یقینی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جو صحافی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے آگے جھکتے نہیں یا بکتے نہیں، انہیں سرعام اغوا کر کے یہ جتایا جا رہا ہے کہ اغوا کرنے والے ملک میں رائج قانون سے بالاتر ہیں۔ صحافی علی عمران کے اغوا نے پاکستان میں رائج قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ