موضوع: ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹوپلس ٹو مذاکرات
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹو پلس ٹو کی تیسری میٹنگ کل نئی دہلی میں ہوئی ۔ اس ڈائیلاگ کے تحت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکہ کے وزیر دفاع مائک اسپیر اور وزیر خارجہ مائک پومپیو سے ملاقات کر کے سیکیورٹی سے متعلق اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات میں شرکت کرنے کی غرض سے امریکی وزراء کا نئی دہلی کا یہ دورہ ہند –امریکہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب دونوں ممالک کووڈ19- جیسی وبا کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں اور اسی وباء کے درمیان چند روز بعد امریکہ میں صدارتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان مذاکرات کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بات چیت کے دوران جو موضوعات زیر بحث آئے وہ کافی اہمیت کے حامل تھے۔ بات چیت کے بعد دونوں ملکوں نے دفاعی شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے جسے بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں نے ہند- بحر الکاہل میں سلامتی کی بگڑتی صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ہندوستان اور امریکہ کووڈ-19 سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس وبا کے باعث دونوں ملکوں کے نظام صحت پر بوجھ کافی بڑھ گیا ہے۔ وبا کے باعث دونوں ملکوں کی معیشتیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ان حالات میں بھی چین اپنی توسیع پسندانہ حرکتیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اپنے کئی پڑوسی ملکوں کی نہ صرف زمین بلکہ ان کے بحری علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد پر فوجی تعطل بنا ہوا ہے۔ ادھر امریکہ کو بھی ہند-بحر الکاہل کے علاقے میں چین سے معاشی اور سلامتی کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنر شپ کافی اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔
بہت سے لوگوں کو شک تھا کہ مذاکرات کے دوران آیا بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگریمنٹ پر دستخط ہونگے بھی یا نہیں ۔ لیکن معاہدے پر دستخط ہوئے اور شک کرنے والے خاموش ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ ہندوستان کے ساتھ سیٹلائٹ کے حساس ڈیٹا ساجھا کرے گا۔ دونوں ممالک نقشوں، ناٹیکل اور ایروناٹیکل چارٹوں ، جیوفزیکل اورجیو میگنیٹک اعداد و شمار کا تبادلہ بھی کر سکیں گے۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہندوستان اپنے فوجی اہداف پر بالکل صحیح نشانہ لگا سکے گا۔ مشرقی لداخ میں اصلی کنٹرول لائن پر گزشتہ پانچ مہینے سے جاری فوجی تعطل کے پیش نظر اس معاہدے کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری شروع ہو گئی تھی۔ لیکن ہندوستان اور امریکہ میں جو بھی حکومتیں آئیں ان کے دور میں اس شراکت داری کو دھیرے دھیرے فروغ حاصل ہوتا رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کبھی کبھی سیاسی اور معاشی اختلافات بھی دیکھنے کو ملے تاہم دونوں کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون پر ان اختلافات کا کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ بڑھتا ہی رہا۔ بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن اگریمنٹ سے قبل دونوں ملکوں نے تین اور معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ موجودہ معاہدے پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی ہندوستان امریکہ کا ایک قریبی اسٹریٹجک پارٹنر بن گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کسی اور ملک کے مقابلے امریکہ کے ساتھ سب سے زیادہ فوجی مشقیں کرتا ہے ۔ دونوں کے درمیان مالابار سیریز کی بحری مشقیں سب سے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان مشقوں میں ہند-بحرالکاہل کے چار جمہوری ملکوں نے حصہ لیا تھا۔ کواڈنام سے ہندوستان ، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا کا فورم ہند-بحر الکاہل میں سلامتی اور ترقی سے متعلق تمام مسائل کے حل کیلئے بنایا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بحر ہند کے علاقہ میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی چین کی کوششوں کے پیش نظر اس فورم کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ مذاکرات سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کی تبدیلی کے باوجود د ونوں ملکوں کے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
میٹنگ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ سیاسی مذاکرات کے باعث دفاع اور تجارت کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشی تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی ہمارے تعلقات کافی مضبوط ہیں اور عوام سے عوام کے درمیان رابطے بھی کافی اچھے ہیں جو ان رشتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب دونوں ممالک کووڈ19- جیسی وبا کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں اور اسی وباء کے درمیان چند روز بعد امریکہ میں صدارتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان مذاکرات کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بات چیت کے دوران جو موضوعات زیر بحث آئے وہ کافی اہمیت کے حامل تھے۔ بات چیت کے بعد دونوں ملکوں نے دفاعی شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے جسے بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں نے ہند- بحر الکاہل میں سلامتی کی بگڑتی صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ہندوستان اور امریکہ کووڈ-19 سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس وبا کے باعث دونوں ملکوں کے نظام صحت پر بوجھ کافی بڑھ گیا ہے۔ وبا کے باعث دونوں ملکوں کی معیشتیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ان حالات میں بھی چین اپنی توسیع پسندانہ حرکتیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اپنے کئی پڑوسی ملکوں کی نہ صرف زمین بلکہ ان کے بحری علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد پر فوجی تعطل بنا ہوا ہے۔ ادھر امریکہ کو بھی ہند-بحر الکاہل کے علاقے میں چین سے معاشی اور سلامتی کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنر شپ کافی اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔
بہت سے لوگوں کو شک تھا کہ مذاکرات کے دوران آیا بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن ایگریمنٹ پر دستخط ہونگے بھی یا نہیں ۔ لیکن معاہدے پر دستخط ہوئے اور شک کرنے والے خاموش ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ ہندوستان کے ساتھ سیٹلائٹ کے حساس ڈیٹا ساجھا کرے گا۔ دونوں ممالک نقشوں، ناٹیکل اور ایروناٹیکل چارٹوں ، جیوفزیکل اورجیو میگنیٹک اعداد و شمار کا تبادلہ بھی کر سکیں گے۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہندوستان اپنے فوجی اہداف پر بالکل صحیح نشانہ لگا سکے گا۔ مشرقی لداخ میں اصلی کنٹرول لائن پر گزشتہ پانچ مہینے سے جاری فوجی تعطل کے پیش نظر اس معاہدے کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری شروع ہو گئی تھی۔ لیکن ہندوستان اور امریکہ میں جو بھی حکومتیں آئیں ان کے دور میں اس شراکت داری کو دھیرے دھیرے فروغ حاصل ہوتا رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کبھی کبھی سیاسی اور معاشی اختلافات بھی دیکھنے کو ملے تاہم دونوں کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون پر ان اختلافات کا کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ بڑھتا ہی رہا۔ بیسک ایکسچینج اینڈ کو آپریشن اگریمنٹ سے قبل دونوں ملکوں نے تین اور معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ موجودہ معاہدے پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی ہندوستان امریکہ کا ایک قریبی اسٹریٹجک پارٹنر بن گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کسی اور ملک کے مقابلے امریکہ کے ساتھ سب سے زیادہ فوجی مشقیں کرتا ہے ۔ دونوں کے درمیان مالابار سیریز کی بحری مشقیں سب سے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان مشقوں میں ہند-بحرالکاہل کے چار جمہوری ملکوں نے حصہ لیا تھا۔ کواڈنام سے ہندوستان ، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا کا فورم ہند-بحر الکاہل میں سلامتی اور ترقی سے متعلق تمام مسائل کے حل کیلئے بنایا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بحر ہند کے علاقہ میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی چین کی کوششوں کے پیش نظر اس فورم کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ مذاکرات سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کی تبدیلی کے باوجود د ونوں ملکوں کے دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
میٹنگ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ سیاسی مذاکرات کے باعث دفاع اور تجارت کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشی تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی ہمارے تعلقات کافی مضبوط ہیں اور عوام سے عوام کے درمیان رابطے بھی کافی اچھے ہیں جو ان رشتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment