افغان طالبان کے لئے اب بھی پاکستان محفوظ پناہ گاہ

مسئلے اچھی بیان بازیوں سے نہیں، مثبت اقدامات سے ختم ہوتے ہیں۔ مسئلوں کو ختم کرنے کے لئے اچھا نظر آنے والا اتحادی نہیں، وہ پر خلوص معاون کارآمد ہوتا ہے جو باتوں سے بہلائے نہیں۔ افعانستان کے موجودہ حالات اسی لئے بدتر ہیں، کیونکہ وہاں سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کو اتحادی بنایا۔ پاک لیڈر امریکہ کے لیڈروں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے، دہشت گردی کے خلاف بیان بازی کرتے رہے، پاک فوجی افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بظاہر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہے مگر اس سچائی سے انکار کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ پاکستان نے طالبان کی معاونت کبھی چھوڑی ہی نہیں۔ طالبان کو پاکستان نے ہی پیدا کیا ہے، ان سے اس کا جدا ہونا آسان نہیں۔ 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ افغانستان کے حالات میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی مگر امید بر نہیں آئی۔ گزشتہ چند ہفتوں میں افغانستان میں پرتشدد واقعات میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ ہلمند اور دیگر افغان صوبوں پر طالبان کے قبضے کی لڑائی میں 35,000 کنبوں کو گھروں کو چھوڑنا پڑا ہے۔ امن کی تلاش میں گھر چھوڑنے والوں کے لئے پرامن جائے پناہ تک پہنچنا بھی آسان نہیں، کیونکہ طالبان نے سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ مائنز بچھا رکھی ہیں۔ ان کے پھٹنے سے لوگوں کو جانیں گنوانی پڑتی ہیں۔ سال رواں کے اگست میں افغان صدر اشرف غنی کو طالبان سے گزارش کرنی پڑی تھی کہ مائنز شہریوں کی ہلاکتوں کی کلیدی وجہ ہیں، اس لئے انہیں آپ نہ بچھائیے مگر افغان صدر کی بات پر طالبان نے توجہ نہیں دی۔

طالبان کو اس سے سروکار نہیں کہ عام لوگ مارے جا رہے ہیں، ان کا مقصد اپنے دائرہ اثر کو وسعت دینا ہے، افغانستان کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنا ہے۔ ان کے لئے امن معاہدہ فائدہ اٹھانے کا ایک موقع ہے اور وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ انہیں مدد کہاں سے ملتی ہے؟ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکہ اگر واقعی افغان مسئلے کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے پاک فوج اور انٹلی جنس پر دباؤ ڈالنا چاہئے تاکہ افغانستان میں حالات بہتر ہوں۔ اسی طرح کا بیان کرزئی نے اس وقت بھی دیا تھا جب یکم جنوری 2018 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دہشت گردی کی ‘محفوظ پناہ گاہ’ بتایا تھا ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے بیوقوفانہ طریقے سے گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب سے زیادہ ڈالر دیئے مگر بدلے میں انہوں نے جھوٹ اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ٹرمپ نے پاکستان کو فوجی امداد بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان سے وابستہ گروپوں پر اگر پاک حکومت نے کارروائی نہیں کی تو پاکستان کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی لیکن امریکی صدر کے اس انتباہ کے بعد طالبان کے حملوں میں شدت آگئی تھی، افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو گیا تھا۔یہ اضافہ اس بات کا اشارہ تھا کہ افغانستان میں پاکستان کا ایک رول ہے۔ ویسے دہشت گردی مخالف جنگ کے حوالے سے پاکستان کی حقیقت اسی وقت آشکارا ہو گئی تھی جب امریکی فوجیوں نے ایبٹ آباد میں کارروائی کر کے اسامہ بن لادن کو ختم کر ڈالا تھا۔

عام افغانوں کی مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ وہ طالبان کی اصل طاقت کو سمجھ چکے ہیں۔ یہ بات ان کی فہم سے بالاتر نہیں کہ افغان حکومت طالبان سے کتنے بھی امن معاہدے کر لے، یہ معاہدے اس وقت تک بے معنی رہیں گے، مذاکرات کے دور کے ساتھ خودکش دھماکوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا، بے قصور لوگوں کی جانیں اس وقت تک جاتی رہیں گی جب تک پاکستان کی خفیہ مدد طالبان کو ملتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سینئر افغان لیڈر اور صوبہ بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور کو طالبان سے افغان حکومت کے امن مذاکرات کی کامیابی پر شبہ ہے جبکہ افغان حکومت کی طرف سے مذاکرات کرنے والی ٹیم میں ان کے صاحبزادے خالد بھی ہیں۔

دراصل افغانستان میں پاکستان ایک خطرناک کھیل کھیلتا رہا ہے۔یہ کھیل واضح ہے۔ جب تک امریکہ کے فوجی افغانستان میں ہیں، پاکستان طالبان کی خفیہ مدد کرکے خود کو امریکہ کی ضرورت بنائے رکھنا چاہتا ہے اور امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان کی حکومت افغانستان میں قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے دائرہ اثر میں پورا افغانستان آجائے۔یہ دونوں ہی باتیں ان لوگوں کے لئے اضطراب کی وجہ ہیں جن کی آنکھیں دہشت گردی اور تشدد سے پاک افغانستان دیکھنے کے انتظار میں تھک چکی ہیں۔ ان کے لئے یہ بات ناقابل فہم نہیں کہ جب تک پاکستان کی طالبان کو پشت پناہی حاصل رہے گی، افغانستان میں مستقل امن کا قیام ایک خواب رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ